بلاگمقالہ

بابری مسجد کے بعد تاج محل کو کون مسمار کرنا چاہتا ہے اور آخر کیوں؟

سپریم کورٹ کے ایک مشاہدے میں حکومتِ ہند اور اترپردیش کی سرکار سے ناراضگی میں آخر یہ بات کیسے سامنے آگئی کہ تاج محل کو اگر ڈھنگ سے رکھا نہیں جاسکتا ہے تواسے بند کردیا جائے یا مسمار کردیا جائے۔

تاج محل کی تعمیر کے پونے چار سو برس گزر گئے ۔ ہر زمانے میں مختلف حکومتوں نے اس کے ساتھ مناسب اور نامناسب ہر طرح کے سلوک روا رکھے۔اس کے باوجود اس کی شہرت ، عظمت، عزت اور عالم میں انتخاب والی حیثیت میں کبھی کمی نہیں آئی۔ کبھی ترقی پسندوں نے غریبوں کی محبت کا

مذاق بتایا تو وقفے وقفے سے یہ بات بھی سامنے آتی رہی کہ مندر توڑ کر اسے بنایا گیا۔ حقیقتاً یہ مقبرہ نہیں بلکہ مندر بھی ہے۔ کبھی کبھی اخباروں میں ایسی خبریں بھی آئیں کہ آگرہ اور کسی دوسری جگہ تاج محل جیسی دوسری عمارت تعمیر کرنے کی تیاری چل رہی ہے۔ مطلب یہ کہ تاج محل کی منتخبِ روزگار حیثیت پہ حرف آجائے۔
ابھی گذشتہ دنوں ہندستان کی سب سے بڑی عدالت نے مختلف طرح کے مقدمات کی سماعت کرتے ہوئے تاج محل کے سلسلے سے جو فیصلے یا مشاہدات پیش کیے ہیں ، ان میں ذیل کی باتیں قابلِ توجہ ہیں:
(الف) تاج محل میں جمعہ کی نماز ادا کرنے کی سہولت کو ختم کردیا جائے کیوںکہ عدالت کی نگاہ میں مسجدیں بہت سی ہیں جہاں نماز ہوسکتی ہے مگر تاج محل ایک ہے اور دنیا میں عجوبہ کے طور پر اس کی پہچان ہے۔ نماز پڑھنے کے لیے ایسے افراد بھی وہاں داخل ہوسکتے ہیں جن کی وجہ سے تاج محل کی حفاظت پہ حرف آسکتا ہے۔
(ب) جمعہ کی نماز صرف مقامی لوگوں کو تاج محل کے اندر ادا کرنے کی اجازت دی جائے گی۔ اس کے لیے انھیں خصوصی شناختی کارڈ دیے جائیںگے۔
(ج) محکمۂ آثارِ قدیمہ ، حکومتِ ہند اور حکومتِ اترپردیش کے مختلف دفتروں کی دیکھ ریکھ میں تاج محل کے انتظامات ہوتے ہیں۔ عدالتِ عظمیٰ نے تاج محل کے رکھ رکھاو میں کمی اور گذشتہ فیصلوں کے عمل درآمد میں رکاوٹوں سے ناراض ہوکر جذباتی انداز میں یہ کہا کہ دنیا کے سات عجائبات میں سے ایک تاج محل کی دیکھ ریکھ میں جب اس قدر گڑبڑی ہے تو سرکار کیوں نہیں اسے (۱) ٹھیک کردیتی ہے۔ (۲) ٹھیک نہیں کرسکتی تو اسے بند کردے ورنہ (۳) تاج محل کو منہدم کردے۔
ہندستان میں عدالتوں کے بارے میں بالعموم یہ راے عام ہے کہ برادری اور مذہب سے اوپر اٹھ کر یہاں فیصلہ ہوتا ہے، اس لیے عدالت نے یہ مشاہدات معروضی نقطۂ نظر سے پیش کیے ہوںگے اور حقائق جمع کرنے ، ان کے سلسلے سے غور و فکر اور تجزیے کے بعد ایسے فیصلے دیے گئے ہوںگے مگر عدالت کی باتوں کے بین السطور میں کچھ ماقبل متعین دماغ اور مذہبی یا سماجی تعصب کی بو آتی ہے۔ جس کی وجہ سے ان کالموں میں یہ ضروری ہوجاتا ہے کہ ہم عدالت کے ان مشاہدات پر آزادانہ طور پر غور کریں کیوںکہ اس سے ملک کے آئینی ڈھانچے کے ضائع ہونے کا خطرہ منڈرا رہا ہے۔
آج ان باتوں پر غور کرنا کہیں بے وقت کی راگنی نہ مان لیا جائے مگر یہ حقیقت ہے کہ تاج محل جیسی عمارتیں مکرانہ کے سنگ مرمر اور ہزاروں مزدوروں کے بیس برس کام کرنے کی وجہ سے نہیں قائم ہوابلکہ اس کی تعمیر میں ایک طرف شاہ جہاں کے دل میں پیوسط محبت کی شمع ہے اور دوسری طرف خونِ جگر کا صرفہ ہے ورنہ ملک اور دنیا کے ہر گوشے میں ہر روز ایسے بادشاہ یا حکومت کے مالک و مختار نظر آتے ہیں جو اپنی بے پناہ دولت اور آج ٹکنالوجی کی ترقی کی بنیاد پر نہ جانے اور کیا کیا تعمیر کرچکے ہوتے مگر پونے چار سو برس میں صرف ایک تاج محل ہے اور دنیا کا ایک بڑا حصہ اسی مقبرہ نما عمارت کا دیوانہ بنا ہوا ہے۔
شاہ جہاں نے جب تاج محل کی پوری عمارت کا خاکا تیار کرایا تو اسی میں ایک طرف مسجد اور دوسری طرف مدرسے کا تصور بھی تھا۔ تاج محل سے بہت پہلے ہمارے بزرگانِ دین کے جو مقبرے بنے تھے، ان میں بھی مسجد اور مدرسے کی آزادانہ حیثیت متعین تھی۔ دہلی میں جامع مسجد کی تعمیر میں اس بات کا خیال رکھا گیا کہ نمازیوں کی جہاں جوتیاں رکھی جائیں، اس کی اونچائی لال قلعہ میں بادشاہ کے بیٹھنے کے ساتھ تاج کی جو اونچائی ہو اس سے بڑھ کر ہو۔ جامع مسجد کا صحن کچھ اس انداز سے مرتب ہوا کہ اس کے اندر پتھر کی اتنی سلیں رکھی گئیں کہ کسی حادثے میں اگر جامع مسجد شہید ہوجائے تو ٹھیک اسی انداز کی دوسری مسجد انھیں رنگوں کے پتھروں سے تیار کی جاسکتی ہے۔ یہ نقطۂ نظر واضح کرتا ہے کہ یہ بادشاہ اپنے ملک کی تعمیر و تشکیل میں دلوں کی ٹھنڈک اور گداز ، اسلاف کی روایات اور مستقبل کا روشن شعور رکھ کر کوئی فیصلہ کرتے تھے۔ اسی لیے قطب مینار سے لے کر تاج محل اور لال قلعے تک کہیں وقت کی گرد نہیں جمی۔
یہیں سے سارے مسائل پید ا ہوتے ہیں۔ ہندستان کی تاریخ و تمدن اور تعمیر و تشکیل کے ماہرین کو یہ بات آسانی سے سمجھ میں نہیں آتی کہ ہندستان ک مسلم بادشاہوں نے آخر اس ملک کو کون سی سمت عطا کی؟ تاریخ کی ہزاروںکتابوں میں تو انھیں مسلم لٹیرا کہا گیا ہے۔ لٹیرے لوگ ایسے گداز قلب تھے کہ کوئی ٹوپی سل کر بازار میں انھیں فروخت کرکے اپنی اور اپنی اہلیہ کی خوراک کا انتظام کرتا تھا ، کوئی انصاف کا خوگر تھا تو کسی کو آرٹ اور مصوری کے ماہرین کو ہندستان میں جمع کرنے کی فکر تھی۔ کسی کے دل میں یہ تھا کہ ہندستان جنت نشاں بن جائے اور خوابوں کے تصورات زمین پر اتار دیے جائیں۔ ایک ایک چیز اس انداز سے ترتیب دی گئی جیسے محسوس ہوتا ہے کہ ان بادشاہوں یا ان کے کاریگروںکے ہاتھ میں پتھر موم بن جاتے ہوںگے اور ان سے وہ اپنی پسند کی صورت بنا دیتے ہوںگے۔ تاج محل پر کندہ قرآنی آیات کی خطاطی اور اونچائی بڑھنے کے ساتھ آنکھوں کے ساتھ ان کی ہمواری کا مطالعہ کیجیے تو سمجھ میں آئے گا کہ یہ عمارتیں بادشاہ کے تصور اور اس کے کاریگروں کے خونِ جگر کے اصراف سے تیار ہوئی تھیں۔
سپریم کورٹ نے یہ سوال پوچھا کہ سال میں کتنے لوگ تاج محل دیکھنے کے لیے آتے ہیں؟جواب دیا گیا کہ پچاس لاکھ۔ سپریم کورٹ نے بتایا کہ ایفل ٹاور کو دیکھنے کے لیے آٹھ کروڑ لوگ پہنچتے ہیں۔ سپریم کورٹ نے حکومتِ ہند کو صاف لفظوں میں کہا کہ آپ دنیا بھر کے لوگوں کو اپنی طرف راغب کرکے صرف تاج محل کی وجہ سے غیر ملکی دولت حاصل کرسکتے ہیں۔ سپریم کورٹ نے یہ بھی کہا کہ تاج محل کے مقابلے حقیقت میں ایفل ٹاور کی دیکھنے کے اعتبار سے کوئی حیثیت نہیں۔ ہمیں یہ باتیں منظور ہیں مگر حکومتِ ہند سے ناراضگی میں ہی جج صاحب نے جب یہ کہہ دیا کہ اسے ٹھیک سے رکھ نہیں سکتے تو مسمار کردو۔ سوال یہ ہے کہ پونے چار سو برس میں انگریزی حکومت سے لے کر ہندستانی حکومت تک کس کی یہ بساط رہی کہ وہ ایک تاج محل بنا دے، ایک قطب مینار تیار کردے، ایک لال قلعہ ہی بنا دے؟ جو حکومتیں بنا نہیں سکتیں تو انھیں توڑنے کا حق کیوں ملے گا؟سزا حکومت کو ملنی چاہیے اور جھٹکے میں جج صاحب نے یہ سزا تاج محل کو دینے کی سوچ لی۔
سپریم کورٹ میں نماز کا جو فیصلہ آیا ہے ، اسی سے ملحق ایک اور مقدمہ ہے جس میں آر۔ایس۔ایس کے ایک صاحب نے یہ دعویٰ کررکھا ہے کہ یہ عمارت ایک مندر کو مسمار کرکے قائم کی گئی تھی ، اس لیے اس میں پوجا کی بھی اجازت دی جائے۔ ہندستان میں کئی ایسے نام نہاد مورخین موجود ہیں جن کی نظر میں گرینڈ ٹرینڈ روڈ شیر شاہ کے بجاے اشوک نے بنوائی تھی۔ بابری مسجد تو مسمار بھی ہوگئی اور پہلے ووادت ڈھانچہ کہی گئی پھر اب رام مندر ہی ہوگئی کیوںکہ مسجد کا ڈھانچہ تو بہ زورِ بازو منہدم کردیا گیا۔تاج محل کا حسن اور مبہوت کردینے والے طور میں کبھی کمی نہیں آئی۔ ایک طبقہ ایسا ہے جس کے دل میں یہ بات کھٹکتی ہے کہ اس کا بنانے والا شاہ جہاں نام کا بادشاہ تھا۔ ظاہر ہے، یہ بابر کی ہی اولاد ہے۔ اسی لیے کبھی اسے مندر کہتے ہیں اور کبھی ڈھاہ دینے کی سازش میں مبتلا ہوتے ہیں۔خطرناک قسم کے کل کارخانوں نے اس کے حسن پر شاید جان بوجھ کر چیچک کے داغ دھبے لگانے کی کوشش کی۔ گھاس اور پھول کی روشیں رہ رہ کر ایسی سوکھی اور بدرنگ ہوجاتی ہیں جیسے لگتا ہے کہ کسی گائوں محلے کے کچڑے پارک کا یہ کوئی حصہ ہے۔ پانی پینے کے لیے نل ایسے ٹوٹے اور اپنی آپ بہتے ہوئے ملتے ہیں کہ آنکھوںسے آنسو نکلنے لگتے ہیں کہ تعمیر کرنے والے کا تصور کیا تھا اور رکھ رکھاو کے نام پر اربوں روپے کمانے والی حکومتوں کا رویہ کیسا ہے۔
یہ اچھا ہوا کہ سپریم کورٹ میں تاج محل کے سلسلے سے طرح طرح کے مقدمات جمع ہوگئے ہیں۔ مذہبی تعصب کی عینک سے اوپر اٹھ کر عالمی سطح پر اس معیار کی عمارتوں کی دیکھ بھال اور اس سے آمدنی کا وہاں خرچ کیے جانے کا جو انداز ہے، خدا کرے ان سب پر گفتگو ہو اور تاج محل کو ایک مسلمان بادشاہ کی یادگار کے بجاے ہندستان کی سب سے بڑی، خوب صورت اور دنیا میں منتخب عمارت کے طور پر دیکھنے کا نظریہ بھی پیدا ہو۔ ایک بات اور کہ تاج محل میں جہاں نماز ہوتی ہے ، وہ باضابطہ مسجد ہے اور اسے آزادانہ طور پر مسجد سمجھنا ہی معقول بات ہوگی۔ تاج محل ایک پورا کیمپس ہے جس کا ایک حصہ جو آزاد جغرافیائی حد ہے، وہ مسجد ہے اور اس میں نمازی کے لیے آگرہ اور آگرے سے باہر کی کوئی قید نامناسب ہے۔ رہی بات سیکیورٹی کی تو اپنی نااہلی کو دور کرنا چاہیے۔ چانچ پرکھ کے جو پیمانے وضع ہوں ، انھیں لاکو کیجیے اور غلط آدمی کے داخلے سے صرف جمعہ کو ہی نہیں تاج محل ک ہر دن بچائیے۔ صرف تاج محل کو ہی کیوں پورے ملک کے ہر شہری کو ان غلط عناصر سے محفوظ رکھنا ہے۔

(مقالہ نگار کالج آف کامرس میں اردو کے استاد ہیں)

Tags
Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close