ہندوستان

برادران وطن نےعیدالاضحیٰ کی نماز مندر میں ادا کروائی

کیرالہ میں سیلاب سے ہوئی تباہی کسی سے پوشیدہ نہیں ہے اور ایسے مشکل وقت میں کیرالہ کے ہندوؤں نے مسلمانوں کی ایک ایسی پریشانی کا حل نکالا جس نے انھیں کشمکش میں ڈال رکھا تھا۔ 22 اگست کو پورے ملک میں عیدالاضحیٰ کی نماز پڑھی گئی لیکن کیرالہ کی کچھ مساجد سیلاب کی وجہ سے زیر آب تھیں جن میں تریشور ضلع میں مالا کے پاس واقع ایراوتور میں کوچوکاڈو محل مسجد بھی شامل تھی۔ مقامی لوگ اس بات کو لے کر پریشان تھے کہ آخر وہ عیدالاضحیٰ کی نماز پڑھیں تو کہاں پڑھیں! لیکن فرقہ وارانہ ہم آہنگی کی بہترین مثال پیش کرتے ہوئے ’پوروپیلیکو رکتیشوری مندر‘ کے منتظمین نے اس کے دروازے مسلمانوں کے لیے کھول دیے۔
ذرائع کے مطابق جب مندر سے جڑے لوگوں کو یہ پتہ چلا کہ سیلاب کا پانی مسجد میں داخل ہو گیا ہے اور مسلمان عیدالاضحیٰ کی نماز پڑھنے کے لیے پریشان ہیں، تو انھوں نے مندر کے ایک ہال کا دروازہ نماز کی ادائیگی کے لیے کھول دیا۔ اس موقع پر کم و بیش 300 مقامی مسلمانوں نے عید کی نماز ادا کی اور بعد ازاں اپنے ہندو بھائیوں کو خلوص دل سے شکریہ بھی ادا کیا۔مندر کے ایک عہدیدار نماز کی ادائیگی کے بعد کہا کہ ’’ہم سب سے پہلے انسان ہیں۔ ہلاکت خیز سیلاب کے وقت ہمیں یاد رکھنا چاہیے کہ ہم سبھی ایک ہی ایشور کے بچے ہیں۔ ایک دوسرے کا تعاون کرنا ہماری ذمہ داری بھی ہے۔‘‘
شری نارائن دھرم پریپال یوگ (ایس این ڈی پی) کے تحت چل رہے مندر کے تعلق سے یہاں یہ بتانا بے جا نہ ہوگا کہ یہاں سیلاب راحت کیمپ بھی چل رہا ہے۔ یہاں راحت کے کام میں مصروف ابھینو نے ایک میڈیا چینل سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ ’’مندر کے ہال میں پہلے سے ہی ایک راحت کیمپ چلایا جا رہا ہے۔ ہم نے محسوس کیا کہ لوگوں کو نماز پڑھنے کے لیے کوئی جگہ نہیں ہے اس لیے ہال کو وقتی طور پر عیدگاہ کی شکل میں تیار کرنے کے لیے علاقے کے ہندو نوجوان آگے آئے۔‘‘ انھوں نے مزید بتایا کہ ’’لوگوں نے آس پاس کے گھروں سے نماز کے لیے چٹائیاں اکٹھی کیں اور دیگر سارے انتظامات بھی کیے تاکہ لوگوں کو مندر کے اندر نماز کی ادائیگی میں کوئی پریشانی نہ ہو۔‘‘ایسے وقت میں جب کہ ملک کا ماحول خراب کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے اور ہندوتوا دہشت گردی و تشدد کی خبریں لگاتار سننے کو مل رہی ہیں، کیرالہ کے ہندو طبقہ کی انسانیت نوازی قابل دید اور قابل قدر دونوں ہے۔ ہندوؤں کے اس عمل نے گزشتہ مئی کے مہینے میں اس واقعہ کی یاد تازہ کر دی جب مدھیہ پردیش کے اجین میں کمبھ میلہ کے دوران تیز بارش سے عقیدتمندوں کو پریشانی کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ اس وقت کمبھ میلہ کے لیے جا رہے لوگوں کو مسلمانوں نے ایک مسجد میں پناہ دی تھی۔ مسجد میں ہندو عقیدتمندوں کے لیے رات گزارنے کا بھی انتظام کیا گیا تھا۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close