بین الاقوامی

برطانیہ، جرمنی اور فرانسن نے جمال خاشقجی کی گمشدگی کی تحقیقات کا مطالبہ کیا

برطانیہ، جرمنی اور فرانس نے معروف صحافی جمال خاشقجی کی گمشدگی کے حوالے سے قابلِ اعتماد تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔تینوں ممالک کے وزرائے خارجہ کا کہنا ہے کہ اگر کوئی اس واقعے کا ذمہ دار پایا گیا تو اسے اس کا جوابدہ ہونا چاہیے اور انھوں نے ریاض سے اس کا تفصیلی جواب دینے پر زور دیا ہے۔برطانوی وزیر خارجہ جیرمی ہنٹ نے کہا ’وہاں اب تک جو کچھ بھی ہوا ہے اس کا ذمہ دار سعودی عرب ہے۔‘ادھر سعودی عرب نے اس بات کی تردید کی ہے کہ جمال خاشقجی کو استنبول میں سعودی قونصل خانے میں قتل کیا گیا ہے اور کہا کہ سعودی عرب کے خلاف کسی بھی کارروائی کے جواب میں اس سے بڑا ردعمل سامنے آئے گا۔
سعودی عرب کے سرکاری میڈیا نے ذرائع کے حوالے سے کہا ہے کہ ان کا ملک جمال خاشقجی کی گمشدگی کے بارے میں کسی بھی سیاسی اور معاشی دھمکیوں کو مسترد کرتا ہے اور اگر اس پر کسی بھی قسم کی پابندیاں عائد کی گئیں تو وہ جوابی کارروائی کر سکتا ہے۔
خیال رہے کہ صحافی جمال خاشقجی دو اکتوبر کو شادی کی دستاویزات لینے کے لیے استنبول میں واقع اپنے ملک کے سفارت خانے گئے اور ترکی کی پولیس کے مطابق وہ وہاں سے پھر واپس نہیں نکلے۔
یورپیئن کیا کہتے ہیں؟
برطانیہ، جرمنی اور فرانس کے وزرائے خارجہ نے ایک مشترکہ بیان میں صحافی جمال خاشقجی کی گمشدگی کے حوالے سے قابلِ اعتماد تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ جمال خاشقجی کی گمشدگی کے ذمہ داران کو اس کا جوابدہ ہونا چاہیے۔تینوں وزرائے خارجہ کا مشترکہ بیان میں کہنا ہے ’ہم جمال خاشقجی کی گمشدگی کے حوالے سے سعودی عرب اور ترکی کی مشترکہ کوششوں کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں اور امید کرتے ہیں کہ سعودی حکومت اس بارے میں مکمل اور تفصیلی جواب دے۔اس بیان کے بعد برطانوی وزیر خارجہ جیرمی ہنٹ نے کہا ’وہاں اب تک جو کچھ بھی ہوا ہے اس کا ذمہ دار سعودی عرب ہے۔‘ان کا مزید کہنا تھا ’ہم میں سے کسی کو بھی معلوم نہیں کہ وہاں کیا ہوا لیکن ہمیں اس حوالے سے سامنے آنے والی اطلاعات پر تشویشں ہے۔
سعودی ردِ عمل
صحافی جمال خاشقجی کی گمشدگی کے حوالے سے یورپی ممالک کا ردِعمل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس بیان کے بعد سامنے آیا ہے جس میں انھوں نے کہا تھا کہ اگر یہ ثابت ہوا کہ صحافی جمال خاشقجی کی موت میں سعودی عرب کا ہاتھ سعودی ہے تو وہ اسے ‘سخت سزا’ دے گا۔سفارتی ذرائع کا کہنا ہے کہ امریکی وزیر خزانہ سٹیو منوشین اور برطانوی بین الاقوامی وزیر تجارت لیام فوکس کی اس کانفرنس میں شرکت مشکوک ہے۔اس کانفرنس کا انعقاد مملکت کے شہزادہ ولی عہد محمد بن سلمان کی جانب سے ہے تاکہ وہ ملک میں اپنے اصلاحات کے ایجنڈے کو فروغ دے سکیں۔
سعودی عرب نے کہا ہے کہ سعودی صحافی جمال خاشقجی کی گمشدگی کی وجہ سے اس پر کسی بھی قسم کی پابندیاں عائد کی گئیں تو وہ جوابی کارروائی کر سکتا ہے۔سعودی حکام کا کہنا ہے کہ سعودی عرب کے خلاف کسی بھی کارروائی کے جواب میں اس سے بڑا ردعمل سامنے آئے گا۔سعودی حکام اس الزام کی تردید کرتے ہیں صحافی جمال خاشقجی کو استنبول میں سعودی قونصل خانے میں قتل کیا گیا ہے۔خیال رہے کہ صحافی جمال خاشقجی دو اکتوبر کو شادی کے دستاویزات لینے کے لیے استنبول میں واقع اپنے ملک کے سفارت خانے گئے اور ترکی کی پولیس کے مطابق وہ وہاں سے پھر واپس نہیں نکلے۔
استنبول میں حکام کا کہنا ہے کہ سفارتخانے کی چاردیواری میں انھیں مبینہ طور پر قتل کر دیا گیا لیکن سعودی حکومت ان الزامات کی تردید کرے ہوئے کہتا ہے کہ صحافی خاشقجی سفارتخانے سے نکل گئے تھے۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close