پٹنہ

بزرگ زین الدین انصاری کےقاتلوں کی گرفتاری اور متاثرہ کنبے کو مدد کا مطالبہ

آل انڈیا مسلم بیداری کارواںکے زیر اہتمام راجدھانی میں دھرنا

پٹنہ: دسہرہ کے موقع پر سیتامڑھی فرقہ وارانہ فساد میں 82 سالہ بزرگ زین الدین نصاری کے بہیمانہ قتل کے بعد ضلع انتظامیہ کے خلاف اقلیتوں کا غم و غصہ کم ہونے کا نام نہیں لے رہا ہے۔ اس کے خلاف آل انڈیا مسلم بیداری کارواں کے زیراہتمام گزشتہ روز گردنی باغ پٹنہ میں زین الانصاری کے اہل خانہ اورمتاثرین نے یک روزہ دھرنا اور مظاہرہ کیا اور انصاف کا مطالبہ کیا۔ دھرنا و مظاہرہ کی صدارت بیداری کارواں کے قومی صدرنظرعالم نے کی اور نظامت شاہ عماد الدین سرور نے انجام دیا۔ دھرناگاہ سے احتجاجی مارچ دن کے 2 بجے نکالا گیا یہ مارچ اسمبلی تک جانا تھا لیکن انتظامیہ نے حکومت کے اشارے پر آجانے نہیں دیا اور گیٹ بند کردیا جس وجہ کر احتجاجی مارچ اسمبلی تک نہیں جا سکا۔ اس پروگرام میں زین الانصاری کے دو بیٹوں اور ایک پوتے کے علاوہ خواتین اور متاثرین کثیرتعداد میں تھے جن کی دُکانیں، گودام، گاڑیاں اور مکانات نذرآتش کردئے گئے ہیں اور اب وہ بے روزگاری کی وجہ سے سڑکوں پر آگئے ہیں۔ بیداری کارواں کا مطالبہ ہے کہ اِنہیں جلد انصاف دیا جائے اور ویڈیوکلپ میں نظر آنے والے دنگائیوں کے خلاف مقدمہ درج کرکے قانونی کارروائی کی جائے اور اُنہیں جیل بھیجا جائے۔علاوہ ازیں 20؍اکتوبر 2018 کو ہوئے فساد کی اعلیٰ سطحی جانچ کرائی جائے تاکہ حقائق سامنے آسکیں اور گناہگاروں کو سزادی جاسکے اور تماشائی بنے پولیس اہلکار کو کیفروکردار تک پہنچایا جاسکے۔ اس دھرنا و مظاہرہ کو حمایت دینے کے لئے بھاکپا مالے کے تینوں ایم ایل اے سداماپرساد(تراری اسمبلی حلقہ)، ستیہ دیو رام (میروا، سیوان)، محبوب عالم (بلرامپور، کٹیہار) پہنچے اور دھرنا کو خطاب کرتے ہوئے سداما پرساد نے کہا کہ زین الانصاری کے اہل خانہ کو 20 لاکھ روپیہ معاوضہ دے ریاستی حکومت، وہیں محبوب عالم اور ستیہ دیو رام نے کہا کہ سیتامڑھی فساد میں سوشیل کمار مودی کا ہاتھ ہے، انہوں نے یہ بھی کہا کہ فرقہ وارانہ ماحول خراب کرنے والوں کے خلاف مضبوطی کے ساتھ لڑنے کی ضرورت ہے۔ ہم لوگ اس لڑائی میں بیداری کارواں کے ساتھ ہیں بلکہ بیداری کارواں کو ان تینوں ایم ایل اے نہ صاف طور پر کہا کہ اس لڑائی میں وہ خود کواکیلا نہ سمجھیں یہ تینوں ایم ایل اے بیداری کارواں کے ہی ایم ایل اے ہیں۔ بیداری کارواںکے اس احتجاجی مظاہرہ کو انصاف منچ کے بھی حمایت ملی تھی ۔انصاف منچ کے نیازاحمد نے اپنے خطاب میں کہا کہ نام نہاد سیکولر پارٹیاں اس پورے معاملے میں دنگائیوں کے ساتھ کھڑی ہے ایک مہینہ بیت جانے کے بعد تیجسوی یادو ٹیوٹ سے کام چلاتے ہیں اور جب سیتامڑھی معاملہ پر لگاتار دباؤ بنایا گیا تو اسمبلی میں اپنی عزت بچانے کے لئے اسمبلی میں بولنا مجبوری سمجھا اورآواز بلند کی۔ اگر یہ واقعی اقلیتوں سے ہمدرد رکھتے ہیںتو سیتامڑھی دوڑا کرنا چاہئے اور مہلوکین سے مل کر اسے معاوضہ اور تحفظ کی یقین دہانی کرانی چاہئے تھی۔ لیکن ایسا لگتا ہے کہ یہ لوگ صرف ووٹ کی سیاست کررہے ہیں اور کرسی ملنے تک کا انتظار ہے۔ اکرم صدیقی نے دھرنا سے خطاب میں کرتے ہوئے کہا کہ سوشاسن بابو کا سوشاسن ختم ہوچکا ہے اور بھاجپا کے گود میں بیٹھ کر بہار کو دنگا کی آگ میں جھونک چکے ہیں اگر وقت رہتے یہ بھاجپا سے خود کو الگ کر اپنی سیاسی مضبوطی نہیں بناپائے تو ایسا لگتا ہے کہ آنے والے انتخاب میں انہیں بڑا نقصان اٹھانا پڑے گا کیوں کہ جس طرح سے اقلیتوں پر یکطرفہ جان لیوا حملہ کیا جارہا ہے اقلیتوں میں کافی غصہ پایا جارہا ہے جس کا نقصان انہیں آئندہ انتخاب میں اٹھانا پڑے گا۔مہلوک زین الانصاری کے دونوں بیٹوں اخلاق انصاری اور محمداشرف علی دھرنا گاہ میں بتایا کہ پہلے زین الانصاری کی موت کو سیتامڑھی انتظامیہ نے چھپانے کی سازش کی مگر جب ثبوت پیش کیاگیا تو ضلع انتظامیہ نے فورنسک جانچ اور پوسٹ مارٹم کا حوالہ دے کر کہا کہ سیتامڑھی میں فورنسک جانچ کی سہولت نہ ہونے کی وجہ سے ان کی لاش کو سیتامڑھی لے جانے کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔ ہمیں مظفرپور میں سخت حفاظتی دستے کی نگرانی میں جنازہ پڑھنے کی اجازت دی گئی۔ نظرعالم نے صاف لفظوں میں کہا کہ اگر ریاستی حکومت سیتامڑھی فسادیوں کو جیل میں 24 گھنٹے کے اندر اگر نہیں ڈالتی ہے اور متاثرین کو معاوضہ نہیں دیا تو غیرمعینہ مدت کیلئے سیتامڑھی ہیڈکوآرٹر پر بھوک ہڑتال پر بیٹھے گا۔
دھرنا سے خطاب کرنے والوں میں بیداری کارواں کے نائب صدرمقصودعالم خان، سلطان اختر(نوادہ)،انجینئرفخرالدین قمر(سکریٹری بیداری کارواں)، اسدرشید ندوی، محمدمطیع الرحمن موتی، محمدہیرا، صفی الرحمن راعین ایڈوکیٹ(بیداری کارواں)، ڈاکٹر راحت علی (ترجمان، کارواں)،قاری محمدسعیدظفر(تارا لاہی)، محمد طالب ، سمیع اللہ ندوی، حافظ حامدحسین، راشد کمال(ضلع صدر، بیداری کارواں مدھوبنی)، صادق عثمانی(یوتھ ویلفیئر)، نیازصدیقی،راکیش سنگھ(بھاکپا مالے)،سورج کمار سنگھ(سکریٹری انصاف منچ، مظفرپور)،نواز شریف، شمس تبریزجگنو(عام آدمی پارٹی)، محمداسلم، محمدجمشید،فداحسین عرف بھٹو قریشی، کلیم الدین انصاری(آرہ) وغیرہ نام شامل ہیں۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close