بین الاقوامی

بشار کا اقتدار میں رہنا بڑی غلطی ہے : فرانسیسی صدر

پیرس:فرانس کے صدر امانوئل ماکروں کے نزدیک شام میں بشار الاسد کے اقتدار میں باقی رہنے کے ساتھ "صورت حال کا معمول پر آنا” ایک بھاری غلطی ہو گی۔ فرانسیسی سفیروں کے سامنے سالانہ خطاب میں ماکروں کا کہنا تھا کہ ہم واضح طور پر اُن فریقوں کو دیکھ رہے ہیں جو داعش کے خلاف جنگ کے خاتمے کے بعد صورت حال کو اس طرح معمول پر واپس آتا دیکھنا چاہتے ہیں کہ بشار الاسد اقتدار میں باقی رہے، پناہ گزینوں کی واپسی ہو جائے اور بعض دیگر فریق تعمیرِ نو کی نگرانی سنبھال لیں”۔فرانس کے صدر نے مزید کہا کہ "اگر میں پہلے روز سے یہ خیال کرتا ہوں کہ ہمارا اولین دشمن داعش تنظیم ہے اور میں نے کسی ایک دن بھی یہ نہیں کہا کہ بشار الاسد کی سبک دوشی شام میں ہماری سفارتی یا انسانی کارروائیوں کے لیے پیشگی شرط ہو ،،، تو اس کے مقابل میں یہ بھی سمجھتا ہوں کہ مذکورہ منظرنامہ ایک بھاری غلطی ثابت ہو گا”۔ماکروں نے استفسار کیا کہ "ان لاکھوں پناہ گزینوں کا ذمّے دار کون ہے؟ اپنے عوام کے خلاف قتلِ عام کا ارتکاب کس نے کیا؟ فرانس یا کسی بھی دوسرے ملک کو روا نہیں کہ وہ مستقبل میں شام کی قیادت کا تقرّر کرے مگر یہ ہماری ذمّے داری ہے کہ اس بات کو یقینی بنائیں کہ شامی عوام ایسا کرنے کی پوزیشن میں ہوں گے”۔دوسری جانب ماکروں نے خبردار کیا کہ آج صورت حال تشویش ناک ہے کیوں کہ شامی حکومت اِدلب کے علاقے میں ایک نئے انسانی بحران کے حوالے سے خطرہ بننے جا رہی ہے، اس نے ابھی تک اقتدار کی سیاسی منتقلی کی کسی بھی کارروائی کے حوالے سے کوئی رغبت ظاہر نہیں کی ہے۔فرانس کے صدر کے مطابق وہ سمجھتے ہیں کہ شام میں مارچ 2011ء سے جاری تنازع اپنے اختتامی مہینوں میں داخل ہو چکا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ وہ آئندہ چند ہفتوں کے دوران مشرق وسطی میں "استحکام” کو سراہنے کے واسطے "ٹھوس ابتدائی اقدامات” کا اعلان کریں گے۔ماکروں نے بتایا کہ انہوں نے سفیروں کی کانفرنس سے قبل ایرانی صدر حسن روحانی کے ساتھ ٹیلیفون پر بات چیت کی تھی۔ فرانسسیسی صدر کے مطابق وہ مصر کی جانب سے افریقی یونین کی صدارت سنبھالنے کے بعد آئندہ چند ماہ کے دوران قاہرہ کا دورہ بھی کریں گے۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close