سیاستہندوستان

بنگلہ دیشی دراندا زوں پر حزب اختلاف اپنا رخ واضح کرے: شاہ

چندولی، قومی شہری رجسٹر (این آرسي) کے معاملے پر اپوزیشن کے جارحانہ رویہ کے درمیان بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) صدر امت شاہ نے اتوار کو ایک بار پھر کہا کہ بنگلہ دیشی دراندازوں کے معاملے میں کانگریس سمیت دیگر جماعتوں کو اپنا موقف واضح کرنا چاہئے۔مغلسرائے ریلوے اسٹیشن کا نام پنڈت دین دیال اپادھیائے کے نام پر رکھے جانے کے موقع پر منعقدہ جلسے سے خطاب کرتے ہوئے مسٹر شاہ نے کہا ’’این آرسي پر ہنگامہ کرنے والی کانگریس، سماجوادی پارٹی (ایس پی) اور بہوجن سماج پارٹی (بی ایس پی) سمیت دیگر پارٹیوں کو ملک کو یہ بتانا چاہیے کہ آیا وہ ملک سے بنگلہ دیشی دراندازوں کو ہٹانا چاہتے ہیں یا نہیں‘‘َ۔ملک کی ترقی کے لیے اتر پردیش کی ترقی کو ضروری بتاتے ہوئے بی جے پی صدر نے کہا کہ اتر پردیش کی ترقی کی بات کرنے والی کانگریس نے اپنے دور اقتدار کے دوران دس برسوں میں محض تین لاکھ تیس ہزار کروڑ روپے پردیش کو دیئے جبکہ ان کی حکومت اب تک اس ریاست نے 8 لاکھ 8 ہزار کروڑ روپے دیئے ہیں۔ پروانچل کی ترقی کے لئے حکومت خاص طور کام کر رہی ہے۔ بی ایچ یوکے ہسپتال کو ایمس کے برابر کرنے جارہے ہیں ۔ اتر پردیش کی قسمت کو تبدیل کرنے کے لئے ڈیفنس کوریڈور اور پوروانچ ایکسپریس وے جیسے منصوبوں کے لئے تیار ہیں۔مسٹر شاہ نے کہا کہ غریبوں اور کسانوں کی ترقی کے لئے کوشاں بی جے پی حکومت نے چار کروڑ غریب خواتین کو گیس کنکشن مہیا کرائے۔ دو کروڑ غریبوں کو گھر دیا، 12 کروڑ غریب نوجوانوں کو مدرا بینک کا لون دیا، 18 کروڑ غریب بچوں کو ویکسین لگانے کا کام کیا۔
انہوں نے کہا کہ بی جے پی حکومت نے کسانوں کے لئے سب سے زیادہ کام کیا ہے۔ اتر پردیش میں، یوگی حکومت نے کسانوں سے سب سے زیادہ دھان اور گندم خریدا ہے۔ ریاست کو بچولیوں کے نظام کو آزاد کیا جبکہ اس سے قبل کی حکومتیں بچولیوں کی مدد سے کام کرتی تھی۔ بوا(مایاوتی) -بھتيجے (اکھلیش یادو) کو عوام نے 15 سال تک موقع دیا لیکن انہوں نے اپنا بھلا کرنے کے سوا ریاست کے لئے کچھ نہیں کیا۔بی جے پی کے صدر نے کہا کہ مسٹر یوگی آدتیہ ناتھ کی قیادت میں بی جے پی حکومت اپنے موثر طریقہ کار کے بل بوتے عوام کے درمیان تیزی سے مقبول ہو رہی ہے۔ اس حکومت کے دور کے دوران، جہاں ترقی کی رفتار میں اضافہ ہوا ہے، مافیاراج ختم ہو چکا ہے۔انہوں نے دعوی کیا کہ بی جے پی اگلے سال ہونے والے لوک سبھا انتخابات میں ریاست میں 73 سے 74 نشستیں حاصل کرے گی اور اگلے پانچ سال بعد جب پارٹی عوام کے درمیان ووٹ لینے جائے گی اس وقت تک اتر پردیش ملک کا نمبر ایک ریاست ہوگی ۔ انہوں نے کہا ’’2014 میں جب میں پوروانچل میں آتا تھا، میں کہتا تھا کہ دہلی کا راستہ لکھنؤ ہوکر جاتا ہے۔ اس وقت بھی، میں یہ کہنا چاہتا ہوں کہ 2019 کا راستہ صرف لکھنؤ کے ذریعے جاتا ہے۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close