کھیل

بھارت کو جیت کے لئے 194رنوں کی ضرورت

برمنگھم: بھارت کے خلاف پہلے ٹسٹ کے تیسرے دن انگلینڈ کی دوسری باری 53اوور میں 180 رنزپر سمٹ گئی۔ آؤٹ ہونےو الے آخری بلے باز سٹورڈ براڈ رہے۔ جیمس ایڈرسن بنا کوئی گیند کھیلے پویلین لوٹے۔ انگلینڈ کے لئے 8ویں نمبر پر بلے بازی کرنے آئے سیم کرین نے سب سے زیادہ 63رن بنائے۔ انہوں نے 54گیند میں اپنی نصف سنچری پوری کی۔ بھارت کی جانب سے ایشانت شرما نے 5، روی چندرن اشون نے 3 اور اومیش یادون ے 2وکٹ لئے۔ ایشانت شرما نے ایک اوور میں 3وکٹ لئے۔ لنچ سے پہلے 31ویں اوور میں انہوں نے دوسری گیند پر بیئرس کو چوتھی گیند پر بین اسٹوکس کوآؤٹ کیا۔ اس کے بعد لنچ ہوگیا۔ لنچ کے بعد اوور کی آخری گیند پر ایشانت نے بٹلر کا وکٹ لیا۔ انگلینڈ نے میچ کے پہلے دن بدھ کے روز ٹاس جیت کر بلے بازی کافیصلہ کیا تھا۔ اس کی پہلی باری 287رن پرآل آؤٹ ہوئی۔ بھارت نے پہلی باری میں 274رن بنائے۔ اس طرح اسے اب میچ جیتنے کے لئے 194رن بنانے ہیں۔ ایشانت 200سے زیادہ وکٹ لینے کے لئے 9ویں ہندوستانی بالر بنے۔ ایشانت کے ٹسٹ میں 244وکٹ ہوگئے ہیں۔ ان سے پہلے انیل کمبلے، کپل دیو، ہربھجن سنگھ ،روی چندرن اشون، ظہیر خان، وشن سنگھ بیدی، ڈی ایس چندرشیکھر اور جواگرشری ناتھ ٹسٹ میں 200سے زیادہ وکٹ اپنے نام کر چکے ہیں۔ حالانکہ اس فہرست میں ایشانت کے علاوہ اشون ہی ہیں جو موجودہ وقت میں کھیل رہے ہیں۔ ادھر پانچ ٹیسٹ، 10 اننگز اور صرف 134 رنز ۔پہلا ٹیسٹ، پہلی اننگز اور 149 رنز۔ہندوستانی کپتان وراٹ کوہلی نے انگلش زمین پر اپنی پہلی ٹیسٹ سنچری سے نہ صرف کئی ریکارڈ بنائے بلکہ اپنا قد ہمالیہ جیسا کر لیا۔ وراٹ نے انگلینڈ کے خلاف پہلے ٹیسٹ کے دوسرے دن 149 رنز کی بہترین اننگز کھیلی اور ہندستان کو لڑکھڑانے سے بچا لیا۔یہ ایسی اننگز ہے جس کی ہر جگہ تعریف ہو رہی ہے۔اس ٹیسٹ سے ایک دن پہلے وراٹ سے چار سال پہلے کی سیریز کی خراب کارکردگی کو لے کر سوال پوچھا گیا تھا لیکن دوسرے دن کے کھیل کے بعد سب کو اپنا جواب مل گیا۔یہ بات الگ ہے کہ وراٹ اسے اپنا بہترین سنچری نہیں مانتے ہیں۔انہوں نے اس اننگز کو ایڈیلیڈ میں چار سال پہلے کھیلی گئی 141 رنز کی اننگز کے بعد دوسرے نمبر پر رکھا ہے۔وراٹ نے کہاکہ یہ ایڈیلیڈ کی اننگز کے بعد دوسرے نمبر پر رہے گی۔ایڈیلیڈ کی اننگز میرے لئے بہت خاص ہے۔وہ دوسری اننگز تھی اور ہم پانچویں دن 364 رن کے ہدف کا تعاقب کر رہے تھے۔ ہندوستانی کپتان نے کہاکہ میرے دماغ میں صاف تھا کہ ہمیں ہدف حاصل کرنا ہے۔یہ سوچ کر بہت اچھا لگتا ہے۔میں اس اننگز کو زیادہ بہتر سمجھتا ہوں۔وراٹ نے دونوں اننگز میں سنچری بنائی تھی ، لیکن ہندستان48 رنز سے ہار گیا تھا۔ انگلینڈ کی زمین پر اپنی پہلی سنچری کے بارے میں پوچھے جانے پر وراٹ نے کہاکہ یہ صرف پہلے میچ میں سنچری کی بات نہیں ہے، بلکہ اس تال کو برقرار رکھنا ضروری ہے۔میں آؤٹ ہونے سے مایوس ہوا کیونکہ ہم 10-15 رنز کی برتری بنا سکتے تھے لیکن میں اپنی تیاریوں سے خوش ہوں اور میں دنیا کی پرواہ نہیں کرتا۔ وراٹ نے ساتھ ہی کہاکہ یہ سخت چیلنج تھا اور ہمارے آٹھ وکٹ گر چکے تھے لیکن میں نے خود سے کہا کہ اس چیلنج کا لطف اٹھانا ضروری ہے۔یہ ذہنی اور جسمانی صلاحیت کا امتحان تھا، لیکن مجھے خوشی ہے کہ میں اس امتحان میں پاس ہوا اور ہم ان کے اسکور کے قریب پہنچے۔ ہندوستانی کپتان نے اپنی 22 ویں سنچری سے کئی ریکارڈ قائم کئے۔وراٹ کا انگلینڈ کے خلاف یہ چوتھی اور انگلینڈ کی سرزمین پر پہلی سنچری تھی۔وراٹ نے اس سنچری کے ساتھ ہی انگلینڈ کے خلاف ٹیسٹ کرکٹ میں 1000 رنز بھی پورے کر لیے ہیں۔وراٹ نے اپنی اننگز کا 23 واں رن بنانے کے ساتھ ہی یہ ہندسہ چھو لیا۔وراٹ نے انگلینڈ کے خلاف اپنے 15 ویں ٹیسٹ میں یہ کامیابی حاصل کی۔ وراٹ نے اپنی 113 ویں اننگز میں 22 ویں سنچری لگائی اور اس ترتیب میں وہ چوتھے نمبر پر آ گئے ہیں۔آسٹریلیا کے عظیم بلے باز ڈان بریڈمین نے صرف 58 اننگز میں 22 سنچری لگائی تھیں جبکہ ہندستان کے عظیم اوپنر سنیل گواسکر نے 101 اننگز میں یہ مقام حاصل کیا تھا۔ آسٹریلیا کے سابق کپتان اسٹیو ا سمتھ نے 108 اننگز میں 22 سنچری لگائی ہیں۔وراٹ نے ركارڈوں کے بادشاہ سچن تندولکر کو پیچھے چھوڑا جنہوں نے 114 اننگز میں 22 سنچری لگائی تھیں ۔ کپتان رہتے ہوئے وراٹ کی یہ 15 ویں سنچری ہے اور وہ آسٹریلیا کے ایلن بارڈر، اسٹیو وا اور اسٹیو اسمتھ کی برابری پر آ گئے ہیں۔اس صورت میں عالمی ریکارڈ جنوبی افریقہ کے گریم ا سمتھ کے نام پر ہے جنہوں نے ٹیسٹ کپتان رہتے 25 سنچری بنائی ہیں۔آسٹریلیا کے رکی پونٹنگ نے ٹیسٹ کپتان رہتے 19 سنچری بنائی ہیں۔ وراٹ ان ہندوستانی کھلاڑیوں میں بھی شامل ہو گئے ہیں، جنہوں نے انگلینڈ کی سرزمین پر اپنے پہلے ہی ٹیسٹ میں کپتانی کرتے ہوئے ففٹی پلس ریکارڈ قائم کیا۔وراٹ سے پہلے وجے ہزارے، منصور علی خاں پٹودی، اجیت واڈیکر اور محمد اظہرالدين بھی ایسا کر چکے ہیں۔ وراٹ نے ہندستان کی اننگز کے مجموعی اسکور میں آدھے سے زیادہ رنز اکیلے بنائے ۔فیصد کے لحاظ سے ہندوستانی اننگز کے 54.37 فیصد رنز وراٹ نے شامل کئے ۔ایسا کرنے والے وہ ہندستان کے دوسرے کپتان بنے ہیں۔اس صورت میں مہندر سنگھ دھونی پہلے نمبر پر ہیں۔دھونی (82) نے 2014 میں انگلینڈ کے ہی خلاف اوول میں ہندوستانی اننگز (148) میں 55.41 فیصد رن جوڑے تھے۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close