مضامین

بھارت ۔ پاک تعلقات:بھلا ہم ملے بھی تو کیا ملے، وہی دوریاں وہی فاصلے

شاید تب میری عمر آٹھ سال رہی ہوگی جب پہلی بار محبت کے کیف وسرور اور دردوتکلیف کو یکجا محسوس کیا تھا مگر ہوشمند ہونے کے بعد پتہ چلاکہ وہ میٹھا میٹھا درد جس کا احساس انتہائی کم سنی میں ہوا تھا، اسے محبت کہتے ہیں۔پہلے پہل جس لطف آگیںدردوکسک کو محسوس کیا تھا، اسے آج تک بھول نہیں پایا ہوں، حالانکہ اس بات کو کئی دہائیاں گزرچکی ہیں۔ فضائوں میں دھنک رنگ کا اڑنا، راہوں میں اچانک رنگ برنگ کے پھولوں کا کھل اٹھنا، جاگتے ہوئے بھی خواب کی کیفیت میں مبتلا رہنااور سوتے ہوئے بھی جاگتے رہنا، کسی آٹھ سالہ بچے کے لئے بڑا عجیب وغریب معاملہ تھا۔شاید ایسی ہی حالت حامد نہال انصاری اور عمران وارثی کی بھی رہی ہوگی جن میں سے ایک ،بے خودی کے عالم میں سرحد پار کرپاکستان پہنچ گیا اور دوسرا اپنا سب کچھ چھوڑپاکستان سے بھارت چلا آیا۔انھیں سرحد پر تعینات لاکھوں آرمی کے جوان نہ روک سکے۔ دونوں ملکوں کے ہزاروں کروڑ کی لاگت سے تیار میزائل، ٹینک،بم اور بارود ،ان کے عزائم کو نہ توڑ سکے کیونکہ پہاڑوں کو کھود کر دودھ کی نہر نکالنا صرف جذبۂٔ عشق کے لئے ہی ممکن ہے اور بقول جگرؔ:
اللہ اگر توفیق نہ دے انسان کے بس کا کام نہیں
فیضان محبت عام سہی، عرفان محبت عام نہیں
بھارت اور پاکستان کے حکمراں اس پیغام کو سمجھیں یا نہ سمجھیں مگر حامد اور عمران وارثی نے دونوں ملکوں کے ارباب اقتدار کو پیغام دیدیا ہے کہ ان کے جذبوں کے آگے سرحدوسیما بے معنی ہیں اور جلد یا بدیرانھیں ختم ہونا چاہئے۔جب یہ سرحدیںپرندوں،ندیوں اور ہوائوں کو نہیں روک سکتیں تو عشق کرنے والوں کوکیسے روک سکتی ہیں۔۔؟
ایک کہانی، ایک پیغام
ممبئی کے حامدنہال انصاری اور کراچی کے عمران وارثی کی ایک جیسی کہانی ہے۔ ایک اپنی محبت کے لئے پاکستان سے بھارت آیا اور دوسرا اسی جذبے کے تحت بھارت سے پاکستان چلاگیا۔ دونوں ملکوں نے غیرملکی شہریوں کو جاسوس قرار دیا اور جیلوں میں بند کردیا۔ سزا مکمل ہونے کے بعد وہ دوبارہ اپنے وطن بھیج دیئے گئے مگر صرف ان کا جسم واپس آیا، وہ اپنے دل کو سرحد کی دوسری طرف ہی چھوڑ آئے۔ واقعہ یوں ہے کہ ممبئی کے حامد نہال انصاری کو ایک پاکستانی فیس بک فرینڈ سے چاٹنگ کے دوران ’عشق‘ ہوگیا۔ وہ نوعمر تھا اور اس کی نظر میں عشق وہی تھا جو کہانیوں اور فلموں میں ہوتا ہے اور اسے حاصل کرنے کے لئے ہیروجان پر کھیل جاتا ہے۔ نوعمر انصاری نے بھی مان لیا کہ وہ اپنی محبت کو پانے کے لئے کچھ بھی کرسکتا ہے۔ چنانچہ مستقبل کے خطرات سے بے نیاز انصاری، ایک خطرناک راستے پر چل پڑا، جہاں اس کی راہوں میں اندھیرا ہی اندھیرا تھا۔ وہ اپنی پاکستانی محبوبہ سے ملنے کے لئے پاکستان جانا چاہتا تھا مگر اسے ویزا نہیں مل پایا لہٰذا وہ پہلے افغانستان پہنچا اور پھر وہاں سے سرحدپار کر پاکستان میں داخل ہوگیا۔ ابھی وہ اپنی محبوبہ سے مل بھی نہیں پایا تھا کہ اس کی پشاور میں گرفتاری ہوگئی اور جاسوسی کے الزام میں جیل بھیج دیا گیا۔ پاکستانی دفتر خارجہ کے ترجمان کے مطابق’’بھارتی ‘جاسوس‘ کو ریاست مخالف سرگرمیوں اور دستاویزات میں جعل سازی پر گرفتار کیا گیا تھا۔‘‘ انصاری کو تین سال قبل پاکستان کی ملٹری کورٹ نے سزا سنائی تھی جس کے بعد اسے پشاور کی سینٹرل جیل میں رکھا گیا تھا۔ سزامکمل ہونے کے بعد گزشتہ دنوں پشاور ہائیکورٹ نے اسے رہا کرنے کیلئے حکومت کو اقدامات کرنے کا حکم دیا تھا۔ جسٹس روح الامین اور جسٹس قلندر علی خان پر مشتمل دو رکنی بینچ کے سامنے حامد نہال انصاری کی درخواست کی سماعت ہوئی تھی جو اس نے اپنے وکیل کے ذریعے جمع کروائی تھی۔اس نے اپنی درخواست میں کہا تھا کہ پاکستان حکومت ،اس کی رہائی کے لیے کوئی اقدامات نہیں کررہی۔ وکیل نے کہا کہ اس کے مؤکل کی سزا 15 دسمبر کو ختم ہورہی ہے اور اسے 16 دسمبر کو رہا کیا جانا چاہئیے۔ اس کے بعد جسٹس روح الامین نے سوال کیا کہ حامد نہال انصاری کی سزا کے خاتمے پر اس کی رہائی کے لیے کیااقدامات کئے گئے ہیں؟ سزا مکمل ہونے کے بعد کیسے آپ کسی کو جیل میں رکھ سکتے ہیں؟ جس پر وزارت داخلہ کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ بھارت کے ساتھ پاکستان کا معاہدہ ہے اور ہم رہائی کے ایک ماہ بعد تک قیدی کو اپنے پاس رکھ سکتے ہیں۔ اسے جیل سے رہائی کے بعد انٹرنمنٹ سینٹر میں رکھا جائے گا اور مقررہ میعاد پوری ہونے پر واگہہ بارڈر پر بھارتی حکام کے حوالے کر دیا جائے گا۔ جس پر عدالت نے وزرات داخلہ کو ایک ماہ میں رہائی کا عمل مکمل کرنے کا حکم دیتے ہوئے 14 روز کے اندر اس حوالے سے رپورٹ طلب کر لی۔ اصل میں انصاری کو 2012ء میں پاکستان میں اس وقت گرفتار کیا گیا تھا۔ اس نے گرفتاری کے بعد اعتراف کیا تھا کہ وہ افغانستان کے راستے پاکستان میں داخل ہوا تھا۔
وہ پھر پاکستان جانا چاہتا ہے
آج انصاری اپنے گھرممبئی لوٹ آیا ہے اور اس کے لئے وہ دونوں ملکوں کی حکومتوں، پاک انڈیا پیس فورم، ہیومن رائٹس کمیشن پاکستان اور دیگر حقوق انسانی کی تنظیموں کا بھی شکرگزار ہے مگر وہ اب بھی ویزا لے کر قانون طریقے سے پاکستان جانے کا خواہش مند ہے۔ وہ اس لڑکی سے ملنا چاہتا ہے جس کے لئے وہ جوکھم اٹھاکر پاکستان گیا تھا۔ حامد جس لڑکی سے ملنے کے لئے پاکستان گیا تھا ، اس کی شناخت کو چھپانے کی کوشش ہوتی رہی مگر اس کے کیس میں لڑکی کو بھی عدالت میں پیش کیا گیا تھا۔ لڑکی نے عدالت میں انصاری کے حق میں بیان دیتے ہوئے اسے جیل سے آزاد کرنے کی اپیل کی تھی۔ دوسری طرف انصاری کا کہنا ہے کہ میں نے اس لڑکی سے انٹرنیٹ پر ملاقات کی تھی۔ ہمارے بیچ جذباتی رشتہ بن گیا تھا۔لڑکی کو اپنے گھر میں ایک حادثے کے بعد کسی اور سے شادی کرنی پڑ رہی تھی۔ اس نے مجھ سے مدد مانگی کیونکہ وہ مجھ سے شادی کرنا چاہتی تھی۔ میں نے اس کی مدد کرنے کا فیصلہ کیا اور آگے بڑھنے کا فیصلہ کیا۔پاکستان میں اپنے تجربے کے بارے میں بات کرتے ہوئے انصاری نے کہا کہ کسی بھی شخص میں اچھی اور خراب باتیں ہوتی ہیں۔ ہمارے قبیلے، شہر اور ملک بھی ایسے لوگوں سے بنے ہیں لہٰذا میرا پاکستان میں تجربہ اچھا اور برادونوں طرح کا رہا۔ میں نے ایسے اچھے لوگوں سے ملاقات کی، جنہوں نے مجھے غیر ملکی ہونے کے باوجود احترام دیااور ایسے لوگوں سے بھی ملاقات کی، جنہوں نے مجھے ایک بھارتی قرار دے کر بھید بھائو کیا۔
عمران وارثی کی کہانی
ایک دوسری کہانی کراچی کے عمران وارثی کی بھی اسی سے ملتی جلتی ہے۔ جس وقت پاکستان سے حامدنہال انصاری کی بھارت واپسی ہورہی تھی ٹھیک اسی دوران عمران وارثی کوپاکستان بھیجا جارہا تھا۔ عمران اپنی محبت کی خاطر پاکستان سے بھارت آیا تھا۔اس کے ویزا کی مدت ختم ہوگئی اور وہ واپس جانے کے بجائے بھارت کا جعلی پاسپورٹ حاصل کرنے کی کوشش کرنے لگا اور پکڑا گیا۔اصل میں 36 سالہ عمران وارثی دسمبر 2003 میں ویزہ لے کر( کلکتہ) بھارت آیا تھا۔ یہاں اسے اپنی ایک بھارتی کزن شازیہ سے محبت ہوگئی اور اس نے شازیہ سے شادی کر لی اور یہیں رہنے لگا۔ شادی کے بعد عمران وارثی کے 2 بچے بھی پیدا ہوئے۔ اس بیچ اس کی ویزا کی مدت ختم ہوچکی تھی اور خود کو چھپانے کے ارادے سے اس نے اپنا ٹھکانہ کلکتہ سے بھوپال کرلیا۔ اس دوران کسی نے اس کی مخبری کردی اور پولیس نے 2007 میں اسے گرفتار کرلیا۔بھارتی جانچ ایجنسیوں نے اس پرجاسوسی کا الزام لگا یا اور اسے 10 سال کی سزا ہو گئی جو 19 جنوری 2018 کومکمل ہوگئی تھی لہذادسمبر 2018میں اسے واپس پاکستان بھیج دیا گیا۔ عمران وارثی،نے پاکستان جاتے ہوئے کہا کہ وہ پاکستان جاکر لوگوں کو بتائے گا کہ بھارت کے لوگ بہت اچھے ہیں۔ یہاں اس کے ساتھ کوئی بھید بھائو نہیں ہوا۔اس کا مزید کہنا تھا کہ وہ اپنی حکومت سے کہے گا کہ وہ بھارت کے ساتھ اچھے رشتے بنانے کی کوشش کرے۔وارثی کا کہنا ہے کہ وہ بھارت اپنے خاندان کو لینے کے لئے دوبارہ آئیگا۔
شاہ رخ خان کا ایک پرستار
یہاں ایک اور کیس کا ذکر کرنا بھی برمحل ہوگا۔عمران وارثی کے ساتھ ہی اکیس سالہ پاکستانی نوجوان عبداللہ شاہ بھی گزشتہ دنوں بھارت کی قید سے رہا کیا گیا اور پاکستان بھیجا گیا۔ اس پرالزام تھا کہ وہ2017 میں اپنے دوستوں کے ساتھ پریڈ دیکھنے واگہہ بارڈرپر آیا تھا اور دوران پریڈ اچانک چھلانگ لگا کر اس نے زیرولائن کراس کرلیا۔اس کے بعداسے بارڈر سیکورٹی فورسز نے گرفتار کر لیا اور عدالت نے چھ ماہ کی سزا سناکر اْسے امرتسر جیل بھیج دیا۔اس کا کہنا تھا کہ وہ فلم اسٹار شاہ رخ خان کا پرستار ہے اور ان سے ملنے کے لئے اس نے سرحد پار کیا تھا۔عبداللہ شاہ خیبرپختونخواہ علاقے کا رہنے والا ہے۔
کیوں نہیں مل سکتے دونوں ملکوں کے دل؟
بھارت اور پاکستان 14اگست 1947تک ایک ہی ملک تھے۔بعض تاریخی وجوہات نے اس خطے میں سرحد کھینچ دی اور کچھ قانونی حدبندیاں نافذ کردیں مگر دونوں کی ثقافت مشترک ہے جسے کسی بھی حال میں بانٹا نہیں جاسکتا۔ امیرخسرو، مرزاغالبؔ، علامہ اقبالؔ،محمد رفیع، لتامنگیشکر، آشابھونسلے، جگجیت سنگھ، مہدی حسن ، غلام علی خان اور نصرت فتح علی خان کو ہم تقسیم نہیں کرسکتے کیونکہ یہ سب ہماری اس مشترکہ میراث کا حصہ ہیں جنھیں ہزارہاسال کے عوامی اختلاط نے جنم دیا ہے۔ شاید یہی سبب ہے کہ کراچی کے عمران کا دل کلکتہ کی شازیہ کے لئے دھڑکتا ہے اور ممبئی کا ایک نوجوان پشاور کی ایک دوشیزہ کی چاہت میں ، ہرسرحد وسیما کو پھلانگ کر پشاور پہنچ جاتا ہے۔ دونوں ملکوں کے سیاست دانوں کے دماغ ،خواہ سیاسی ضروریات کو نظر میں رکھ کر فیصلے لیتے ہوں مگر عوام کے دل آج بھی ایک دوسرے کے لئے دھڑکتے ہیں۔ پاکستان کے ادیب وشاعر سہیل احمد صدیقی کا ماننا ہے کہ دونوں ملکوںکے عوام(ماسوائے انتہاء پسندطبقے کے)ہرشعبے اورہرسطح پرگہرے تعلقات کے حامی ہیں مگرمزاحم قوت زیادہ طاقت ورہے۔وہ مزید کہتے ہیں کہ جب تک حکمراں اس مسئلے کے حل کے لیے مخلص نہ ہوں،فضاء جوں کی توں رہے گی۔وہیںپاکستان کے ایک کالج لکچرر اور کالم نگار پرویزاحمد کہتے ہیں کہ یہ زمانہ Regions کا ہے اور ہمیں اپنے خِطّے کی بہتری اور ترقی کیلئے باہمی رابطوں کو فروغ دینا ہوگا ، سفری سہولتیں دیے بغیر ان رابطوں اور رشتوں کو فروغ نہیں مل سکتا۔ اس سلسلے میں سب سے پہلے ویزا کے حصول کو سہل کیا جانا چاہیے۔لاہور کے رہنے والے عارف شہزاد کا خیال ہے کہ’ دونوں ملکوں کے عوام اور ہماری آنے والی نسلوں کی بھلائی اسی میں ہے کہ دونوں ملکوں کے بیچ تعلقات بہتر ہوں اور باہمی مسائل کو جلد ازجلد حل کرلیا جائے۔‘بالکل اسی طرح بھارت کے لوگ بھی پاکستان سے بہتر تعلقات کے حامی ہیں۔ہوڑہ (مغربی بنگال )کے ایک قلمکار محمد افضل خان کے مطابق دنیا کا نظام محبت و اخوت سے چلتا ہے۔ دونوں ملکوں کو چاہئے کہ نفرت کو چھو ڑ کر امن و امان اور سلامتی کے ساتھ ایک دوسرے سے بہتر تعلقات بنائیں ۔ان کے مطابق مغربی ممالک نے سرحدوں کو بے معنی کردیا ہے اور ان کے شہری ،ویزا کے بغیر آنا جاجانا کرتے ہیں، ایسے ہی تعلقات بھارت اور پاکستان کے بیچ بھی پروان چڑھنے چاہیئیں۔دہلی کے نوجوان صحافی شرف الدین عبدالرحمٰن تیمی کہتے ہیں کہ لمبے عرصے سے ہندوستان اور پاکستان کے بیچ چلی آرہی عداوت ودشمنی کااب خاتمہ ہو جانا چاہیے۔اب وقت آگیا ہے کہ محبت والفت کی فضا ہموار کی جائے۔ کسی بھی ملک کی ترقی کا دارو مدار دوسرے ملکوں کے ساتھ باہمی تعاون پر منحصر ہوتا ہے۔ان کے مطابق دونوں ملکوں کے عوام کو شادی ویزاآسانی سے ملنا چاہئے۔اس سے محبت کی فضا کو ہموار کرنے میں غیر معمولی مدد مل سکتی ہے۔دہلی کے رہنے والے فیاض علی معصوم کہتے ہیں کہ بھارت اور پاکستان کے بیچ کے تعلقات کو سدھارنے کی کوشش ہونی چاہئے۔ حالانکہ شاعر تنویر ساکت کو اندیشہ ہے کہ اگر دونوں ملکوں کے عوام کے بیچ شادی بیاہ کے رشتوں کو فروغ دیا گیا تو بھارت میں ہندتووادی اس پر بھی سیاست شروع کردیںگے۔جب کہ کلکتہ کے قانون داں وقلمکار انوار عالم خان کہتے ہیں کہ دونوں ملکوں کے عوام کے دل پہلے ہی سے ایک ہیں،اب وقت آگیا ہے کہ حکومتیں بھی نفرت کو پیچھے چھوڑیں۔
بھلا ہم ملے بھی تو کیا ملے، وہی دوریاں وہی فاصلے
نہ کبھی ہمارے قدم بڑھے، نہ کبھی تمہاری جھجک گئی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close