چھتیس گڑھہندوستان

بھوپیش بگھیل نے چھتیس گڑھ کے وزیراعلی کا حلف لیا

رائے پور:بھوپیش بگھیل نے چھتیس گڑھ کے وزیراعلی کے عہدے کا آج یہاں حلف لیا اور ریاست کے تیسرے وزیراعلی بن گئے۔ مسٹر بگھیل کےساتھ دو وزرا نےبھی حلف لیا۔مسٹر بگھیل کو راجدھانی کے انڈور اسٹیڈیم میں منعقد تقریب میں گورنر آنندی بین پٹیل نے عہدہ اور راز داری کا حلف دلایا۔گورنر نے مسٹر بگھیل کے علاوہ وزیراعلی کے عہدے کے دعویدار رہے مسٹر تامرد ھون ساہو اور مسٹر ٹی ایس سنگھ دیو کو بھی وزیر کے عہدے کا حلف دلایا۔ریاست میں 15 برسوں بعد اقتدار میں واپس لوٹی کانگریس میں نئی حکومت کی تشکیل کی وجہ سے کانگریسی اراکین کافی پرجوش تھے جس کی وجہ سے حلف کے تقریب کے پروگرام کا نظم سائنس کالج میدان میں رکھا گیا تھا لیکن کل رات سے موسم خراب اور مسلسل بارش ہونے کی وجہ سے اس حلف برداری کی تقریب کو انڈور اسٹیڈیم میں منتقل کرنا پڑا۔مسٹر بگھیل کی حلف برداری تقریب میں کانگریس صدر راہل گاندھی، سابق وزیراعظم منموہن سنگھ، کے علاوہ دیگر سینئر لیڈران موجود دتھے۔
راجستھان کے وزیراعلی اشوک گہلوت، راجستھان کے نائب وزیراعلی سچن پائلٹ، پڈوچیری کے وزیراعلی نارائن سامی، پنجاب حکومت کے وزیر نوجوت سنگھ سدھو، نیشنل کانفرنس کے سربراہ فاروق عبداللہ، سابق مرکزی وزیر شرد پوار، آنند شرما، محسنہ قدوائی، موتی لال ووہرہ، لوک سبھا میں کانگریس پارلیمانی امور کے لیڈر ملک ارجن کھڑگے، چھتیس گڑھ کے سبکدوش وزیراعلی ڈاکٹر رمن سنگھ ، پی ایل پونیا، ، جیوترآدتیہ سندھیا، آر پی این سنگھ، اترپردیش کانگریس کے صدر راج ببر، سابق ممبر پارلیمنٹ اور صنعت کار نوین جندل سمیت اپوزیشن کے کئی دیگر لیڈران موجود تھے۔مسٹر بگھیل مدھیہ پردیش کی تقسیم کرکے 2000 میں وجود میں آئے چھتیس گڑھ کے تیسرے اور کانگریس کے دوسرے وزیراعلی بن گئے ہیں۔ مسٹر بگھیل کو کل کانگریس قانون ساز پارٹی کا لیڈر منتخب کیا گیا تھا۔چھتیس گڑھ میں گزشتہ 15 برسوں سے اقتدار میں رہنے والی بی جے پی کو اقتدار سے اکھاڑ پھینکنے اور کانگریس کو اقتدار تک دو تہائی اکثریت سے پہنچانے میں انہوں نے اہم کردار ادا کیا تھا۔ریاست میں 2013 میں اسمبلی انتخابات میں پارٹی کو شکست ملنے کے فورا بعد ریاستی کانگریس کی کمان سنبھالنےوالے مسٹر بگھیل نے اس وقت کے سابق وزیراعلی اجیت جوگی کے غلبہ کو کم کرنے کے ساتھ ہی انہوں نے پارٹی کو مضبوط کرنے کے لئے سڑکوں سے جدوجہد کی اپنی ابتدا کی۔انہو ں نے جہاں ایک طرف رمن سنگھ حکومت کے خلاف مورچہ کھولا وہیں پارٹی کےاندر دھیرے دھیرے جوگی کے خلاف بھی لڑائی جاری رکھی۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close