مضامین

بیماریوں میں مبتلا ۔کمزور اور لاغر بھارتی جمہوریت اور لیڈروں کی طاقتور غنڈہ گردی

غریبوں کا امن و سکو ن غارت میں ۔ ای وی ایم کی سیٹنگ

نگلستان کے عظیم سیاسی رہنماـ”دانشور اور مدبرسر ونسٹن چرچل کا مشہور مقولہ ہے کہ "خراب جمہوریت کا علاج مزید جمہوریت ہے "چرچل جیسے سیاسی بصیرت افروز دانشورانہ بلندقدقامت کے سبھی سیاسی و سماجی مدبر مانتے ہیں ،کل اور آج کے یہ سبھی ماہرین اسی جانب اشارہ کرتے دکھائی دیتے ہیں کہ جمہوریت کی اپنی پیداکردہ ثقافتی و معاشرتی برائیاں اور سماجی و سیاسی تعصبات کی خرابیاں اسی طرح سے ختم کی جاسکتی ہے کہ کہ جمہوریت کے سسٹم کو رواں دواں چلتے رہنا چاہئے مغرب میں یہ جمہوریت سسٹم بے انتہا کامیاب رہا ہے ، آج بھی کامیاب ہے اور کئی دہائیوں سے اپنی تمام تر انسانی رویوںکی خوبیوں کی بدولت جمہورت کے اصل فوائد عوام کے نچلے طبقات تک خودکار تکنیکی انداز میں پہنچ رہے ہیں ۔جمہوریت کے جاری سسٹم کی بات ہورہی ہے ،کیا وجہ ہے کہ گزشتہ 71سال برسوں سے دنیا بھی دیکھ رہی ہے اور ہم بھی دیکھ رہے ہیں ہمارے ملک میں بلا رکاوٹ یا تعطل کے وہاں جمہوریت "بظاہر چل رہی ہے لیکن بھارت کی یہ عظیم جمہوریت بھارتی معاشرے اور سماج کے لئے آج تک عوامی فلاحی وبہبود کے بنیاد فوائد اور ثمرات تو رہے ایک طرف بھارتی جمہوریت کے اس جاری سسٹم نے بھارت جیسے عظیم اور بڑے جغرافیائی بڑی آبادی رکھنے والے ملک میں عوامی سطتح پرغربت و افلاس بھوک و ننگ و تنگ دستی اور بے بسی و لا چاری علاوہ صحت و تعلیم کو عوامی دہلیز تک پہچانے میں مستقلا کا میابی حاصل کیوں نہیں کی دیش میں عدل انصاف کا بلا امتیاز معاری نظام قائم کرنے میں بھارتی جمہوریت اس قدر ناکام کیوں رہی ہے 71برسوں میں اور کچھ نہیں توبھارتی جمہوریت کے بطن سے دیش میں یکساں سماجی و معاشرتی نظام کی کوئی ایک ہی جھلک دنیا دیکھ لیتی "ڈیموکریسی "جمہوریت کا مطلب یہی تو ہے "عوام کی حکومت عوام کیلئے 71برس بیت گئے ،بھارتی جمہوریت کے خلاف دیش کے مختلف حصوں میں اپنے بنیادی حقوق کے لئے کئی ثقافتی و سماجی نسلوں نے ہند اشرافیہ کی قائم کردہ جمہوریت کے مرکزی یعنی "نئی دہلی کو للکارا ہوا ہے ۔ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اقدار میں آنے والی جمہوری حکومتیں اور مختلف پارٹیوں کی شکل میں آنے والی حکومتیں پورے دیش کے عوام کے ساتھ یکساں مساوی سلوک اور برتائوں رکھتی ہیں یا نہیں رکھتی تب ہی تو بھارت میں سماجی و ثقافتی نا انصافیوں کا طوفان امڈا ہوا ہے ،وسطی اور مشرقی علاقوں سمیت جموں کشمیر میں بھارتی یونین کو کر ڑوں عوام نے چیلنچ کیا ہوا ہے ،عوام کی حکومت عوام کے لئے ہیں ،نسلی بنیادی پرست اچھوتوں کا استحصال کیوں کر رہا ہے ،بھارت میں اقلیتوں کے مذہبی امتیاز ی سلوک روا کیوں رکھا جارہا ہے ،اب جبکہ بھارت میں اگلے انتخابات 2019میں ہونیوالے ہیں ،ایک بارپھر بابری مسجد کی جگہ رام مندر کی تعمیر کا نعرہ کیا بھارت میں نہیں گونجنے لگے گا اور اب گونج رہا ہے ،دیش میں گئو رکھشا کے نام جوشیلے بھجن نہیں گائے جائیں گے اور گائے جارہے ہیں ،گائے ذبیحہ کے نام پر کسی مسلمان کے گھر سے گائے کے گوشت کی برآمدگی کے نام پر مسلمانوں کو نماز کے کھلے اجتماعات کی اجازت نہ دینے کے نام پر غندہ گردی کرنے جیسی گھٹیا و مذموم سرگرمیوں کی اجازت دی جائے گی یا اسی ایشور کو بی جے پی کسی اور انداز میں اپنا انتخابی نعرہ بناکر گرم کریگی مسلمانوں اور دیگر اقلیتوں اور دلیتوں اور آدی واسیوں اور کمزوروں کو انتخابی نعروں میں ٹارگیٹ نہیں بنایا جائے گا بعض ممتاز عالمی سطح کے شہرت یافتہ لبرل اعدال پسند روش خیال غیر مسلم بھارتی دانشور سمجھتے ہیں کہ آریس یس کے جنونی کارسیوں نے سوچی سمجھی ایک سازش تیار کی تھی یہ مودی کون ہے ،ان کا اپنا آدمی ہے کیا یہ بات کسی سے ڈھکی چھپی ہوئی تھی،آریس یس نے بھارت کی اندرونی سیاست کے خدوخال پر اثر انداز ہونے کے لئے کل بھی ڈوریاں ہلائیں آج بھی وہ سرگرم ہے اور نئی دہلی کے اقتدار پر مکمل قبضہ کے لئے اپنے تربیت یافتہ لوگوں کو بی جے پی کے ذریعے سے آج سے آر یس یس نے اس مقام تک پہچادیا ہے ،اب یہی متعصب چہرے بھارت کی بیرونی شناخت اور علامت بن چکے ہیں ،جنہونے بھارت کا روشن خیال اور اعتدال پسند جمہوری سیکولر چہرہ بری طرح سے داغدار کردیا ہے ، بلکہ دیش کے سیکولر سسٹم پر مبنی جمہوریت کا جنازہ ہی نکال دیا ہے ،آج سرونسٹن چرچل زندہ ہوتے تو ہم ان سے پوچھتے کہ سر ،بھارتی جمہوریت کی عمر 71برس ہوچکی ہے بلا تعطل کہیں رکے بغیر جاری وساری بھارتی جمہوریت کو لاحق کئی اقسام کی بیماریوں کا مزید ایسی ہی یکطرفہ انتہا پسندانہ ایسی جنونی جمہوریت کی سیاسی علاج ممکن ہوگا ،بھارتی سماج کے دشمنوں نے مذہبی فرقہ واریت کے نام پر ہندوتوا کے زبردستی پھیلائو کے نام پر ہندواکثریت کے بل بوتے کے نام پر دیش کی جمہوریت کو آر یس یس نے اپنے جنونی شکنجہ میں یرغمال بنالیا ہے ،دنیا کی سمجھ میں مگر نہیں آرہا نئے نعرے نئے خدشات ،نئے جنونی جذباتیت سے بھرپور جمہوری سیاسی بلکہ سازشی منصوبے ۔ابھی یاں پائپ میں ہیں اور دور پرے کہیں کوئی رکاوٹ کوئی متبادل آر یس یس کے کارسیکوں کی راہ کو روکنے ٹوکنے والا کسی کو نظر نہیں آرہا اورتو اور یہ بھارت کل والا بھی نہیں ہے ،دیش میں عین انتخابات کے نزدیک حکومتی سطح پر نئے اندیشوں نئے وسووں اور نئے خدشات کا تبادلہ عام دیکھنے سننے اور پڑھنے کو مل رہا ہے ،دیش بھر میں بڑی ہی خطرناک آلار منگ صورتحال بنتی جارہی ہے ،ماواز نکسل مسلح گروہوں کے نام پر عام ہندوںکو خطرناک حد تک گمراہ کرنے کرنے کی لپس موومنٹ چلائی جارہی ہے ،ہندوبیٹھکوں میںآنے والے چنائو پر سیاست سے زیادہ ان دنوں تشدد کی باتیں زیادہ ہورہی ہیں جس کے پیچھے ہو نہ ہو یقینا آریس یس کے ٹاپ کے افراد ضرور شامل ہیں جو ماونواز نکسل مسلح علیدگی پسندوں کے نام لئے کر یہاں تک بے سروپا لغویات دیش میں پھیلانے لگے ہیں کہ ماونواز نکسل گروہ کہیں نریندر مودی کو قتل ہی نہ کردیں ۔لہذا مودی جی کی ضرورت سے زیادہ اب سیکورٹی کو بڑھا یا چاہیئے آر یس یس والوں کی یہ کوئی معمولی شرارت نہیں ، خطے کی سلامتی کے لئے بہت بڑی خطرناک سازش سمجھی جائے ، بھارت کے لئے بہت بڑی سیکورٹی اداروں میں اعلی پیمانے پر غیر ذمہ دار پیشہ ورانہ اہلیت وقابلیت کے اعتبار سے انتہائی ناموزوں واجبی سی تعلیم کے افراد کی تعیناتیوں سے دنیا کو عالمی امن کی خاطر اب تو ہوش آجانا چاہئیے مگر انہیں کی مرضی و منشا کے مطابق بخوبی کام جو ہورہا ہے ۔پانچ برس مودی جی نے گزار لئے اقتدار کی قربت انسان کو کافی حد تک اچھابرا سکھلادیتی ہے یہ سمجھنے کا موقع ہے لیکن امیت شاہ اجیت ڈول جیسوں کو شاہد اب کچھ نیا چاہئے وہ 2019کے چنائو کے سے قبل کچھ نیا نہ کر بیٹھیں ؟لہذا بھارتی عوام اپنی آنکھیں اور اپنے کان کھول لیں،بھارتی فرد ہونے کے ناطے سے ہمارا یہ ایک مشورہ ہے ، بھارتی مسلمان متحد ہوکر ووٹ کا صحیح استعمال کریں ،انتشار ہماری خرابی ہے ،متحد ہماری ذمہ داری ہے اور متحد ہماری اچھی صحت کی علامت ہے اور انتشار ہماری بیماری کی علامت ہے

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close