شعر وشاعری

’’بیوی خوش ہوتی ہے خاوند کی قربانی سے‘‘

حسنِ بے آب کو بھی دیکھے ہے حیرانی سے
روح بھرتی ہی نہیں خواہشِ نفسانی سے

انڈئن مجھ کو دلا دی مرے گھر والوں نے
دوسری شادی کرا دو کسی ایرانی سے

دال سبزی سے کہیں پیٹ بھرا کرتا ہے
سیری ہوتی ہے فقط قورمہ بریانی سے

کیسے سمجھائوں حسینانِ جہاں کو یہ بات
حسن بڑھتا نہیں کم ہوتا ہے عریانی سے

درمیاں جب بھی حسینوں کے نظر آتا ہوں
تکتے ہیں آج کے لونڈے مجھے حیرانی سے

کیا خبر تھی گلے پڑ جائے گی وہ بھی اپنے
چھیڑ کر بیٹھے تھے اک دن کسی دیوانی سے

یہ سبق ملتا ہے یاروں کے رویّے سے ہمیں
کچھ بھی حاصل نہیں اس دور میں قربانی سے

عیدِ قرباں پہ کسی بکرے کی حاجت کیا ہے
بیوی خوش ہوتی ہے خاوند کی قربانی سے

گھر جمائی جو بنا زندگی دشوار ہوئی
تنگ اب آگیا ہوں ساس کی نگرانی سے

میں سمجھتا تھا بڑی مشکلیں پیش آئیں گی
کہہ لئے شعر رضیؔ تم نے تو آسانی سے

ڈاکٹر رضیؔ امروہوی

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close