سیاست

بی جے پی بولی، سوئس بینکوں میں ہندوستانیوں کی تمام رقم کالا دھن نہیں، راہل نے کی تنقید

سوئس بینکوں میں گزشتہ چار سالوں میں ہندوستانیوں کی جمع رقم میں 50 فیصد کا اضافہ ہو جانے پر مودی حکومت اپوزیشن جماعتوں کے نشانے پر ہے۔ سوئس بینک کی جانب سے جاری ڈیٹا کے تحت مرکزی وزیر ارون جیٹلی نے اپنا رد عمل پیش کیا ہے۔ جیٹلی کا کہنا ہے کہ سوئس بینکوں میں جمع پورا پیسہ کالا دھن نہیں ہے۔ وہاں جن ہندوستانیوں کا پیسہ جمع ہے، ان میں سے زیادہ تر وہ ہندوستانی ہیں جو بیرون ملک میں رہ رہے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ سوئس بینک میں ہندوستانیوں کی طرف سے جمع رقم میں اضافہ کے اشارے والی ایک خبرآئی ہے۔ اس کی وجہ سے کچھ طبقوں نےغلط معلومات کی بنیاد پر ردعمل ظاہرکیا ہے، جس نے یہ سوال اٹھایا ہے کہ حکومت کے بدعنوانی کے خلاف اقدامات کے نتیجے کیا ہوئے ۔

کانگریس صدر راہل گاندھی نے سوئس بینکوں میں ہندوستانی شہریوں کے ذریعہ جمع رقم میں 50 فیصد اضافہ پر پی ایم مودی کی تنقید کی ہے۔ سوئس بینکوں میں چار سال کے دوران ہندوستانیوں کے پیسوں میں 50 فیصد اضافہ پر راہل گاندھی نے کہا’’ ہندوستانی شہریوں کے ذریعہ جمع کی گئی رقم میں 50 فیصد اضافہ ہوا ہے اور یہ ’سفید ‘ دھن ہے‘‘۔

راہل نے اس کے تحت ایک ٹویٹ بھی کیا۔ انہوں نے کہا کہ 2014 میں پی ایم مودی نے کہا تھا کہ میں سوئس بینکوں میں جمع ’ کالا دھن‘واپس لاوں گا اور ہر ہندوستانی کے بینک اکاونٹ میں 15 لاکھ ڈالوں گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ 2018 میں وہ(وزیر اعظم) کہتے ہیں کہ سوئس بینکوں میں ہندوستانی شہریوں کے ذریعہ جمع کی گئی رقم میں 50 فیصد کا اضافہ ہوا ہے اور یہ ’سیفد دھن‘ ہے‘‘۔

واضح ہو کہ سوئس بینک میں ہندوستانیوں کی طرف سے جمع رقم میں سال 2017 میں 50 فیصد کا اضافہ ہونے اوراس کے 7 ہزارکروڑ روپے پر پہنچ جانے کے بارے میں اپوزیشن جماعتوں کے ذریعہ حکومت پر کالے دھن کے سلسلے میں ہو نے والے حملے کے درمیان جیٹلی نے ایک بلاگ میں اپوزیشن جماعتوں پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ وہ سب غلط معلومات پر مبنی مہم چلاتے ہیں۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close