بین الاقوامی

ترکی انتخابات: اردوغان کی جیت پر ایران اور اسرائیل خوش کیوں؟

ایران، ترکی اور اسرائیل ایک دوسرے کے علاقائی حریف ہیں اور برسوں سے ان کے درمیان اختلاف رہا ہے۔

ترکی کی ایک عرصے سے رہنمائی کرنے والے لیڈر رجب طیب اردوغان کی تہران اور یروشلم کی انتظامیہ سے مخاصمت کے سبب ان ممالک کے درمیان سفارتی بحران اور علاقائی عدم استحکام نظر آیا ہے۔

دونوں ممالک کے رشتے، بطور خاص اردوغان اور عمومی طور پر ترکی انتظامیہ سے اچھے نہیں رہے ہیں۔

لیکن اب اردوغان کے پاس ایگزیکٹو صدر کی نئی طاقت ہوگی کیونکہ ترکی میں وزیر اعظم کا عہدہ ختم کر دیا گیا ہے۔

ایسے میں اسرائیل اور ایران دونوں کیونکر خوش ہو سکتے ہیں جبکہ اردوغان جنھیں ‘نیا سلطان’ کہا جا رہا ہے انھیں پانچ سال کی نئی مدت ملی ہے؟

حال ہی میں اردوغان نے اسرائیل کو زمین پر قبضہ کرنے والا دہشت گرد ملک کہا تھا۔

ترکی نے اسرائيل کی فلسطینوں کے ساتھ ناروا سلوک برتنے کی سخت مذمت کی تھی۔ یہاں تک کہ غزہ میں گذشتہ مئی میں ہونے والے خونی مظاہروں کے بعد اس نے اسرائیلی سفیر کو انقرہ سے نکال دیا تھا۔

لیکن علاقائی تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ ان کے رشتوں کے افق پر نرمی نظر آ رہی ہے۔ سنٹرسٹ نظریہ کے حامل اخبار یڈیوٹ اخرنوٹ کے سمدار پیری کا کہنا ہے کہ ‘اردوغان کے سخت رویے کے باوجود یہ واضح ہے کہ ایک ایسا وقت آئے گا جب وہ رفتہ رفتہ لگام ڈھیلی چھوڑیں گے اور اسرائیل کے ساتھ تعلقات کی بحالی کی اجازت دیں گے۔ ترکی اور اسرائیل ہمیشہ ایک دوسرے کے لیے اہم رہے ہیں۔’

در حقیقت دونوں ممالک کے درمیان تجارت معمول پر رہی ہے اور حالیہ مہینوں کے درمیان ان کے معاشی رشتے متاثر نہیں ہوئے ہیں۔

ترکی میں اسرائیلی مصنوعات کا سرکاری طور پر بائیکاٹ نہیں ہوا ہے اور کسی بھی تجارتی معاہدے کو منسوخ نہیں کیا گیا ہے۔

ترکی کی سیاست میں اسرائیل کے ساتھ انتہائی اقدام پر بحث ہوئی ہے اور اردوغان کے اہم حریف سی ایچ پی کے محرم انجے نے ان کی وکالت کی ہے۔

ایک دوسری پارٹی کرد نواز ایچ ڈی پی پارٹی نے تو یہاں تک کہا کہ ‘اسرائیل کے ساتھ تمام معاشی تعلقات کو توڑ لینا چاہیے۔’ خیال رہے کہ اس موقف کی سی ایچ پی بھی حمایت کرتی ہے۔

اپنے سیاسی حریف کے برخلاف اردوغان اور ان کی اے کے پارٹی تجارتی محاذ پر نسبتاً کم اسرائیل مخالف رہی ہے۔

ترکی کے انتخابات سے قبل اسرائیلی اخبار ہاریٹز نے اس بات کی جانب اشارہ کیا کہ ‘ترکی میں سفارتی بحران کے ابتدا کے بعد اے کے پی نے پارلیمان میں ایک قرارداد کو نامنظور کر دیا جس میں یہودی ریاست کے ساتھ تمام پرانے معاہدے کو توڑنے اور معاشی تعلقات کو ختم کرنے کی بات کہی گئی تھی۔’

اردوغان اور اے کے پی نے اسرائیل کے خلاف شعلہ بیانیوں کا استعمال کیا ہے لیکن اسرائیل کو پتہ ہے کہ وہ دونوں ممالک کے معاشی رابطے کو خطرے میں نہیں ڈالیں گے۔

دریں اثنا غرب اردن میں فلسطینی صدر محمود عباس نے صدر اردوغان کو ان کی جیت پر مبارکباد دی ہے اور ترکی کے لیے مزید کامیابیوں، ترقیات اور استحکام کی خواہش ظاہر کی ہے۔

ایران کے صدر حسن روحانی ان پہلے لوگوں میں شامل ہیں جنھوں نے ترکی میں اپنے ہم منصب کو انتخابات میں کامیابی پر مبارکباد دی ہے۔

ایک سرکاری بیان میں روحانی نے کہا: ‘میں انتہائی خوشی اور مسرت کے ساتھ آپ کو دوبارہ منتخب ہونے پر مبارکباد دیتا ہوں۔’

بیان میں اس مثبت رویے کی وجہ یوں بیان کی گئی کہ ان دنوں ممالک کا ‘مضبوط تاریخی، ثقافتی اور مذہبی رشتہ’ رہا ہے۔

روحانی کی جانب سے اردوغان کی تعریف کی ایک وجہ یہ بھی ہو سکتی ہے کہ وہ بھی ان کی طرح سخت اسرائیل مخالف اور فلسطین کے حامی ہیں۔

بی بی سی فارسی کے ابراہیم خلیلی نے کہا: ‘اردوغان کو معتدل اسلام پسند رہنما خیال کیا جاتا ہے۔ وہ اسلامی اصولوں کے پابند ہیں اور ایران میں اس کی اہمیت ہے اور ان کا ماضی بھی درست رہا ہے۔

روحانی کے پیغام میں مسائل کے حل اور علاقائی امن و استحکام کے فروغ کے لیے ‘اچھی ہمسائیگی، باہمی عزت و احترام اور مشترکہ مفادات’ کی بات بھی کہی گئی ہے۔

بی بی سی کے تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ اگرچہ شام کے معاملے پر ترکی اور ایران کے درمیان ابتدا میں کشیدگی تھی لیکن بعد کے مراحل میں وہ روس کے ساتھ مل کر ایک ساتھ آئے۔

روس، ترکی اور ایران نے شام کے صدر بشار الاسد کی حمایت میں ایک سہ رخی محاذ تیار کیا جوکہ دوسری علاقائی قوتوں کے لیے برہمی کا سبب تھا۔

ایرانی صدر نے اردوغان کے نئے دور حکومت میں دونوں ممالک کے درمیان رشتے میں وسعت کی امید ظاہر کی ہے۔

ابراہیم خلیلی کا کہنا ہے کہ ایران اپنی معیشت کی ترقی کے لیے ترکی کو اہم حلیف کے طور پر دیکھتا ہے۔

خلیلی کہتے ہیں کہ ترکی نے امریکہ کی جانب سے ایران پر عائد پابندیوں کے دور میں پابندیوں سے بچنے کے لیے ایران کے بینک کے نظام کی مدد کی تھی اور ایران میں ڈالر اور سونے پہنچائے تھے۔

ایک حتمی بات خلیلی یہ کہتے ہیں کہ اردوغان کا وژن ایران کے منصوبے کو اس لیے بھی راس آتا ہے کہ ترکی علاقے میں سعودی عرب کے اثرات کا مخالف ہے۔

اردوغان نے کھلے طور پر عراق اور پھر شام میں سعودی عرب کی موجودگی کی مخالفت کی تھی جو کہ عرب ممالک کی جانب ایران کے دشمنانہ رویے کو آسودہ کرتا ہے۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close