ناول وافسانہ

ترے سامنے آسماں اور بھی ہیں


اس آرام طلب دنیا میں حالات کوبدلنا پہاڑ کی چوٹی کاٹنے کے برابر لگتا ہے۔ انسانی ذہن تناؤ اور پریشانیوں سے بچنے کے لئے خود کو ایسے حالات سے سمجھوتہ کرنے کے لئے مجبور کرتا ہے جن سے وہ مطمئن نہیں۔ کئی بار ہم غلط رشتوں سے دور جانے کے بجائے ان میں الجھنا زیادہ پسند کرتے ہیں۔ ہم اپنی نوکری سے خوش نہیں پھر بھی مالک کی کڑوی باتوں یا غلط برتاؤ کو نظر انداز کرتے جاتے ہیں۔ اس مصنوعی احساسِ تحفظ کی آڑ میں چھپ کر زندگی اسی طرح گزرتی رہتی ہے اور ہم اوسط نتائج پر اکتفا کرتے کرتے تسلی پاتے ہیں۔
زندگی کا لیکن کوئی بھروسہ نہیں کہ کب ساتھ چھوڑ جائے۔ اتنا تو طے ہے کہ کوئی بھی یہاں سے زندہ بچ کے نہیں جانے والا ہے۔
اپنے ارادوں اور اپنے خواب کو حقیقت میں تبدیل کرنے کے لئے جب ہم آگے جاتے ہیں ہمیں نئے اسباق سے ہمکنارہونے کا موقع ملتا ہے۔ انسان ہار کر سیکھتا ہے اور یہ نایاب سیکھ اس کی شخصیت کی تشکیل کرتی ہے اور اس میں سیرتِ فولاد پیدا ہوتا ہے۔
ہار سے نہیں گھبرانا چاہئے کیونکہ ہار کی دوسری طرف کامیابی منتظر رہتی ہے۔ بڑے خواب دیکھنا اور ان کی جانب قدم بڑھانا جسارت کا کام ہے۔ ہارنے کے بعد انسان اپنی زندگی کی ذمہ داری خود اٹھانا سیکھتا ہے۔ ہماری ناکامی دوسروں کی وجہ سے نہیں ہوتی ہے۔ دوسروں کو موردِ الزام ٹھہرانے سے وقتی طور پر راحت بے شک مل سکتی ہے لیکن ہماری زندگی ہمیشہ ہماری ذمہ داری ہوتی ہے۔ ہمیں شکست دینے کی قوت دوسروں کے ہاتھ میں نہیں بلکہ ہمارے اپنے ہاتھوں میں ہے۔
انسانی دماغ ہر وقت ہمیں خطرے سے بچانے میں لگا رہتا ہے۔ جس چیز سے نقصان کا خدشہ رہتاہے ہمارا ذہن ہمیں اس سے دور رکھتا ہے۔ منفی تجربات سے رونما ہونے والے جذبات ذہن پر نقش ہوجاتے ہیں۔ اس سے خوداعتمادی کم ہوجاتی ہے اور ہم اپنے بارے میں منفی سوچ کی پرورش کرنے لگتے ہیں۔ پھر احساسِ ندامت پیچھے پڑجاتی ہے اور ہمیں اپنی غلطیوں پر افسوس ہونے لگتا ہے۔ درآں حالیکہ ہم اپنی صلاحیتوں کی بابت کم مائیگی کا شکار ہوتے ہیں اور خود کو کمتر تصور کرنے لگتے ہیں۔ یہ تصورات ہمیں زنجیروں میں باندھتے ہیں اور یہ زعم ہوتا ہے کہ ہم بخیروعافیت زندگی گزار رہے ہیں۔ بقول شاعرِ مشرق علامہ اقبال ؂
کچھ قدر اپنی تو نے نہ جانی
یہ بے سوادی یہ کم نگاہی
پھر بھی جب کبھی خوف، شک، اضطراب یا تکلیف ہمارا تعاقب کرتے ہیں ہمیں ان سے دور جانے کے بجائے ان کا والہانہ استقبال کرنا چاہئے۔ ان تمام خوف کو محسوس کرناہوگاتاکہ ہم خود پر عائد کی ہوئی حدودسے باہر نکل پائیں۔ جب ہم خود کو آگے جانے سے روکتے ہیں دراصل ہم اس طاقت کو روک رہے ہیں جو ہمارے اندرہمیں آگے لے جانے کے لئے موجود ہے۔ زندگی میں کامیابی کی اونچائی تک پہنچنے کی خواہش خدا سے ہی آتی ہے جو ہر دل کا مالک ہے اور ہماری بھلائی اسی کو بہتر معلوم ہے ۔
کبھی کبھی خاموش رہنے سے اورتیزرفتار طرزِ زندگی کی رو میں بہہ جانا زیادہ آسان لگتا ہے ۔ ہم ڈرتے ہیں کہ آواز اٹھانے سے یا اپنے خیالات کا اظہار کرنے سے ہم دنیوی، خاندانی نیز معاشرتی نظام میں خلل پیدا کریں گے۔ لیکن زندگی میں اپنا ساتھ دینا ضروری ہے۔ اپنے خوابوں کو شرمندۂ تعبیر کرنے کے لئے مشکلات میں بھی خندہ پیشانی سے کام لینا ہے۔
وقت کے ساتھ سب کچھ بدلتا ہے۔ عمر کی ہر دہلیز اور زندگی کے ہر موڑ کے اپنے اپنے مطالبات ہیں۔ تغیر آہستہ آہستہ آتا ہے اور اپنے پامال قدم جماتا ہے۔ اپنے ذہن، جسم اور روح کو بروئے کار لاکر کوششِ پیہم میں لگ جائیں اور اپنے مقاصد کے حصول پر نظریں جمائے رکھیں۔ منزل کی جانب چلتے ہوئے خود سے یہ سوال کرتے جائیں:
’اگر مجھے کسی چیز کا خوف نہیں ہوتا تو میں کیا کرتا؟

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close