بہارپٹنہ

تعلیم کو مذاق بنانے سے بہتر ہےاسکول ہی بند کر دیں:ہائی کورٹ

پٹنہ: پٹنہ ہائی کورٹ نے تعلیم کی حالت زار کو لے کر بہار حکومت کو سخت پھٹکار لگائی ہے۔ ہائی کورٹ نے کہا کہ ہائی اسکول میں اساتذہ کے بغیر بچے پڑھنے کہاں جائیں گے؟ اساتذہ کے بغیر بچوں کو اسکول صرف امتحان فارم بھرنے کے لئے ہی جانا ہوتا ہے۔ حکومت اسکولوں کو بند ہی کیوں نہیں کر دیتی ہے؟ تعلیم کے نام پر کیوں مذاق بنا رکھا ہے؟
صوبے میں ہائی اسکولوں میں اساتذہ کی کمی اور ایک مڈل اسکول کے اپگریڈیشن کے معاملے میں ریاستی حکومت کے سست روئے پر ناراضگی ظاہر کرتے ہوئے پٹنہ ہائی کورٹ نے یہ تبصرہ کرتے ہوئے ریاستی حکومت سے جواب طلب کیا ہے۔ ہائی کورٹ نے ریاستی حکومت کو ایک ہفتے میں جواب دینے کا حکم دیا ہے۔ اس معاملے کی اگلی سماعت 20 دسمبر کو ہوگی۔
جسٹس چکردھار ی شرن سنگھ کی بینچ نے جے رام یادو کی رٹ پٹیشن کو سنتے ہوئے یہ حکم دیا۔ معاملہ شیخ پورہ ضلع تحت ڈیہا اراری میں واقع ماڈل ہائی اسکول پہاڑپور کے مڈل اسکول سے ہائی اسکول میں اپگریڈ کرنے میں ہوئی تاخیر کا ہے۔درخواست گزار نے الزام لگایا کہ ریاستی حکومت کی ہدایات کی روشنی میں ہر 5 کلومیٹر پر ایک ہائی اسکول ہونا ہے، جبکہ اس اسکول کے 5 کلو میٹر کے دائرے تک کوئی ہائی اسکول نہیں ہے۔ حکومت اسکول کو اپ گریڈ کرنے میں سستی برت رہی ہے۔ریاستی حکومت کی جانب سے ہائی کورٹ میں جواب دیا گیا کہ اسکول کو اپ گریڈ کر دیا گیا لیکن وہاں اساتذہ کے منظور عہدے خالی پڑے ہوئے ہیں۔چونکہ اساتذہ کا معاملہ سپریم کورٹ میں زیر غور ہے اس لئے ریاستی حکومت اساتذہ کی بحالی نہیں کر پا رہی ہے۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close