سیاستہندوستان

تقسیم اراضی کا کوئی فارمولہ ہمیں منظور نہیں :وی ایچ پی

ایودھیا:دھرم سبھا سے خطاب کرتے ہوئے وی ایچ پی کے رہنما چمپت رائے نے کہا کہ رام مندر تعمیر کے لئے ہمیں ساری زمین چاہئے اور تقسیم اراضی کا کوئی فارمولہ ہمیں منظور نہیں ہوگا۔ چمپت رائے نے مزید کہا، ’’سنی وقف بورڈ کو زمین کے مالکانہ حق کا معاملہ واپس لینا چاہئے۔ وی ایچ پی اس زمین پر نماز نہیں ہونے دیگی۔‘‘ واضح رہے کہ بابری مسجد رام مندر تنازعہ پر فیصلہ میں متنازع زمین کو تین حصوں میں تقسیم کرنے کو کہا گیا تھا۔‘‘
سپریم کورٹ پر تنقید کے بعد بغیر کسی تجویز کے ’دھرم سبھا‘ ختم
رام مندر تعمیر کے مطالبہ کو لے کر وی ایچ پی کی دھرم سبھا طے شدہ مدت سے قبل ختم ہو گئی۔ غور طلب بات یہ ہے کہ دھرم سبھا میں کوئی تحریری قرارداد منظور نہیں کی گئی۔ صرف زبانی جمع خرچ کیا گیا، حالانکہ سنتوں نے لوگوں کو یہ قسم ضرور کھلوائی کہ رام مندر کے لئے وہ متحد رہیں گے اور جب ضرورت پڑے گی تعاون کریں گے۔دھرم سبھا کے دوران سنتوں نے سپریم کورٹ پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اس سے رام مندر کی سماعت کو آخر کیوں ٹالا۔ دریں اثنا مودی حکومت سے یہ مطالبہ کیا گیا کہ رام مندر تعمیر کے لئے آرڈیننس لایا جائے۔
ہندووادیوں آپس میں بھی نااتفاقی، بی جے پی رکن اسمبلی کا ادھو پر نشانہ
رام مندر کے حوالہ سے ہندو سیاست کا دم بھرنے والی سیاسی جماعتوں میں آپس میں بھی نااتفاقی نظر آ ئی۔ بی جے پی کے رکن اسمبلی سریندر سنگھ نے ادھو ٹھاکرے پر نشانہ لگایا ۔ بی جے پی کے رکن اسمبلی نے شیو سینا پر حملہ بولتے ہوئے کہا، ’’شیو سینا رام مندر کا مدا کیسے ہائی جیک کر سکتی ہے؟ کیوں کہ شیو سینا کے کارکنان نے شمالی ہندوستانی لوگوں پر حملہ کروائے ہیں۔ ان نہیں مہاراشٹر سے کھدیڑ دیا، جن لوگوں کی خدمت خلق کی سوچ نہیں وہ رام کی خدمت کیسے کریں گے۔‘‘
دم لگاؤ ڈابر کا، داغ مٹا دو بابر کا‘ نعرے کی گونج
ایودھیا کا ماحول اس وقت انتہائی حساز اور نازک ہے۔ وی ایچ پی کی طرف سے منعقد کی جانے والی دھرم سبھا کی طرف جانے والے تمام راستوں پر ہزاروں لوگ امنڈ پڑے ہیں۔ اس دوران طرح طرح کے نعرے گونج رہے ہیں۔ جے شری رام، رام للا ہم آئیں گے، مندر وہیں بنائیں گے اور ’دم لگاؤں ڈابر کا، داغ مٹا دو بابر کا جیسے‘ نعرے لگاتے ہوئے سخت گیر ہندو تنظیموں کے کارکنان دھرم سبھا کے مقام کی طرف کوچ کر رہے ہیں۔لوگوں کو لانے لے جانے کے لئے سینکڑوں کاروں اور بسوں کا انتظام کیا گیا ہے۔ وی ایچ پی کے ایک رہنما نے قومی آواز کے نمائندہ سے دعوی کیا ہے کہ ایودھیا میں اس وقت تقریباً 48 اضلاع کے لوگ جمع ہیں۔ایک نوجوان نے قومی آواز سے بات کرتے ہوئے کہا، ’’میرا نام سندیپ موریہ ہے اور میں غازی پور سے آیا ہوں۔ مجھے بی جے پی کی طرف سے لوگوں کو لانے لے جانے یہاں لگایا گیا ہے۔‘‘

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close