اسلامیات

تم میں سے بہترین لوگ وہ ہیں جو قرآن مجید سیکھیں اور سکھائیں۔(الحدیث)

  
یقیناًوہ بلاشبہ قرآن ہے ،بڑی عزت والاہے۔ایک ایسی کتاب میں جو چھپا کررکھی گئی ہے۔اس کو پاک ( طہارت والے ) لوگوں کے سوا کوئی نہیں چُھوئے گا۔(سورہ واقعہ۔آیت۔۔77.78.79)
حضرت ابن عباسؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا:بےشک وہ شخص جس کے دل میں قرآن پاک کا کچھ حصہ(یاد) نہ ہو ، وہ ویران گھر کی طرح ہے ۔یعنی جیسے ویران گھر خیروبرکت اوررہنے والوں سے خالی ہوتا ہے، ایسے ہی اس شخص کا دل خیر وبرکت اور روحانیت سے خالی ہوتا ہے جسے قرآن مجید کا کوئی بھی حصہ یاد نہیں ۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ہرمسلمان کو قرآن مجید کا کچھ نہ کچھ حصہ ضرور زبانی یا دکرنا اور رکھنا چاہیے تاکہ وہ اس وعید سے محفوظ رہے۔(او کما قال ﷺ)
گر دلم آئینۂ بے جوہر است
گر بحرفم غیر قرآں مضمر است
روز محشر خوار و رسوا کن مرا
بے نصیب از بوسۂ پا کن مرا
علامہ اقبال
اگر میرے دل کا آئینہ کسی خوبی سے خالی ہے اور اگر میرے دل میں قرآن پاک کے علاوہ کوئی ایک حرف بھی موجود ہے تو اے اللہ مجھے قیامت کے دن رسوا اور خوار کر دینا اور مجھے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاؤں کے بوسے سے بھی محروم کر دینا۔
آں کتابِ زندہ قرآنِ حکیم
حکمتِ او لایزال است و قدیم
نسخۂ اسرارِ تکوینِ حیات
بے ثبات از قوتش گیرد ثبات
نوعِ انساں را پیامِ آخریں
حاملِ او رحمتہً للعالمیں
(رموز بے خودی ،ص۔123)
(یہ قرآن حکیم ہے جو ایک زندہ کتاب ہے جس کی حکمت قدیم بھی ہے اور کبھی نہ ختم ہونے والی ہے۔ یہ تخلیق حیات کے اسرار ظاہر کرنے والا نسخہ ہے۔ اس کی قوت اور بل بوتے پر کمزور، ثبات وقوت اور پایداری حاصل کرتے ہیں۔ یہ بنی نوع انسان کے لیے آخری پیغام ہے ، جسے رحمتہ للعالمین لائے ہیں۔ قرآن پاک کی برکت سے ایک بے وقعت شخص بھی قدرو منزلت حاصل کر لیتا ہے)
اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب کانام "قرآن” رکھا ہے یہ ایسا نرالا اور بے مثال نام ہے جسے عربوں نے کبھی اپنے کلام کے مجموعوں کو یہ نام دیا اور نہ ہی کبھی دنیا میں کسی کتاب کا یہ نام رکھا گیا۔قرآن کے معنی ہیں "پڑھنا”۔۔
لفظ قرآن علم ہے یا مشتق؟ دونوں باتیں کہی گئی ہیں۔ البتہ مشتق ماننے کی شکل میں بعض اہل علم کا خیال ہے کہ وہ “قرنت الشیء بالشیء” یعنی ایک کو دوسرے سےملانا سے مشتق ہے۔ چونکہ قرآن مجید کی آیات مبارکہ ایک دوسرے سے متصل ہیں۔ اس لیے ان کے مجموعہ کو قرآن مجید کہاگیا ہے۔بعض اہل علم کی رائے ہے کہ وہ مادہ قرأ سے  مشتق ہے جس کا مطلب ہے پڑھنا۔ چونکہ قرآن مجید کی آیات بار بار پڑھی جاتی ہیں اس لیے ان کے مجموعہ کو قرآن کہا گیا۔(الکلیات لأبی البقاء: 1330)
یہ وہ مجموعہ کلام ربانی ہے جو رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل ہوا، بلا کسی شک وشبہ کے بتواتر نقل ہوا۔ (التعریفات للجرجانی: 223، وتاج العروس: 363)
اس کا جمع کرنا اور پڑھانا ہمارے ذمے ہے جب ہم وحی پڑھا کریں تو تم (اس کو سنا کرو اور) پھر اسی طرح پڑھا کرو
(سورہ القیامہ،آیت17.18)
قرآن آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ مبارک میں کتابی شکل میں آچکاتھا حفاظت قرآن کا اصل دارومدار تو حفظ تھا مگر نبی اکرم ﷺ نے قرآن کی کتابت کا بھی اہتمام کرڈالا۔ یہ بھی قرآن مجید کا جمع کرنا ہے۔نزول کے بعد آپ ﷺ کاتبان وحی کو جبریل امین کی ہدایت کے مطابق فرماتے کہ یہ آیات نازل ہوئی ہیں جنہیں فلاں سورہ کی فلاں آیت کے سرے پر رکھو اور لکھو۔اس طرح قرآن کریم کے ایک ایک حرف، آیت، سورۃ کو کتابت کے ذریعے آپ ﷺ نے صحیفوں اور سطور میں ترتیب دے کرمحفوظ کردیا۔اس کتابت کے بارے میں سیدنا زید بن ثابتؓ فرماتے ہیں:
قرآن کی جو آیات نازل ہوتیں آپ ﷺ مجھے لکھوا دیتے۔اس کے بعد میں آپ ﷺکو سناتا، اگر اصلاح کی ضرورت ہوتی تو آپﷺ اصلاح فرما دیتے ۔ پھر اس کے بعد اس لکھے ہوئے کو میں لوگوں کے سامنے لاتا۔جو کچھ بھی لکھا جاتا وہ آپﷺ کے گھر میں رکھ دیا جاتا تھا۔ اس دور میں قرآن کاغذوں پر لکھا جاتا نہ ہی باقاعدہ مصحف کی صورت میں تھا بلکہ متفرق طور پر پتھر کی تختیوں ، چمڑے کے ٹکڑوں ، درخت کی چھا لوں اور چوڑی ہڈیوں وغیرہ پر لکھا جاتا تھا۔انس کے ٹکڑوں پر بھی آیات لکھی جاتی تھیں۔ درخت کے چوڑے اور صاف پتے بھی کتابت کے لیے استعمال ہوتے تھے۔کھجور کی شاخوں کی چوڑی جڑوں (عسیب) اور کھجور کے جڑے ہوے پتوں کو کھول کر ان کی اندرون جانب بھی آیات کی کتابت ہوتی تھی۔ محدثین نے کاغذ پر بھی کتابتِ قرآن کا ذکر کیا ہے۔ (فتح الباری 9/17) (مناہل العرفان اززرقانی:239) اسی لئے تو سیدنا زید ؓ کا یہ کہنا ہے: قبض النبی ﷺ ولم یکن القرآن جمع فی شیء۔ آپﷺ کا انتقال ہوا اور قرآن کریم کسی بھی شے میں جمع نہ تھا۔(فتح الباری 9.9)
قتادۃؓ نے سیدنا انسؓ بن مالک سے پوچھا کہ دور نبوی ؐ میں قرآن کس نے جمع کیا؟ انہوں نے کہا : چار آدمیوں نے جو انصاری تھے؛ ابی بن کعبؓ، زید بن ثابتؓ ، معاذ بن جبل ؓ اورابوزیدؓ ۔(صحیح بخاری2.؍478)
حضرت ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما کے مشورہ سے جب قرآن مجید کے اجماعی نسخہ کی کتابت کا وقت آیا تو اس وقت حضرت زید بن ثابت کو پابند کیا گیا تھا کہ: جو کوئی بھی لکھی ہوئی آیت لے کر آئے ،اس سے دو گواہوں کی گواہی اس بات پر لیجیے کہ یہ آیت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے لکھی گئی ہے ؛چناں چہ اس پر عمل ہوا (الاتقان۔1/77)
حضرت علی رضی اللہ عنہ نے ارشاد فرمایا,  (ترجمہ:) قرآن مجید کی خدمت کے سلسلے میں سب سے زیادہ اجر و ثواب کے مستحق ابوبکرصدیق ہیں، اللہ تعالیٰ ابوبکر پر رحم فرمائیں کہ وہ اولین شخصیت ہیں، جنہوں نے، جمعِ قرآن کا (مایہ ناز) کارنامہ انجام دیا۔(الاتقان في علوم القرآن 1/76) سرکارِ دوعالم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں مکمل قرآن مجید مختلف چیزوں پر لکھا ہوا تھا، سارے اجزا الگ الگ تھے، حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے قرآن مجید کی تمام سورتوں کوا یک ہی تقطیع اور سائز پر لکھوا کر ایک ہی جلد میں مجلد کروانے کا کام حکومتی اور اجماعی طور پر انجام دیا؛ چنانچہ ایسا نسخہ مرتب ہو گیا جس کو سارے صحابہٴ کرام کی اجماعی تصدیق حاصل ہوئی۔
علامہ ابوالمعالی فرماتے ہیں کہ قرآن مجید کے پچپن (55) نام ایسے ہیں جو خود اس کی آیات کریمہ میں موجود ہیں۔ (البرہان از زرکشی 273/1) ان ناموں میں چندمخصوص نام ایسے ہیں جو قرآن مجید کے سوا کسی اور کے لئے مستعمل نہیں ہیں ۔  فرقان، مصحف ، الکتاب اور قرآن ہیں۔الکتاب اور فرقان، قرآن کے مشہور نام ہیں۔ ان سے زیادہ مصحف اور ان دونوں سے مشہورومعروف قرآن ہے۔
طبرسی نے مجمع البیان میں صرف 4نام ذکر کرنے پر اکتفا کی هے اور صرف ۱۔قرآن ۲۔ فرقان ۳۔کتاب ٤۔ذکر ۔۔۔۔کو قرآن کے نام کے عنوان سے ذکر کیا هے۔
صاحب التمهید نے قاضی عُزَیزی سے قرآن کے ۵۵ اسماء نقل کئے هیں جن میں 43 نام ابو الفتوح رازی کے بیان کرده اسماء سے مشترک هیں۔ یه 55نام (یا صفت) خود قرآن سے اخذ کئے گئے هیں۔(طبرسی، تفسیر مجمع البیان،علوم قرآنی، ص.106)
1.قرآن (طه.آیت۔2.. نساء..آیت۔82)
2۔ فرقان ( البقرہ۔آیت۔185.آل عمران۔آیت۔4۔انفال.آیت۔29.فرقان.آیت۔1)
3۔ کتاب (نساء۔آیت۔105۔۔فاطر۔آیت۔29)
4۔ ذکر (آل عمران.آیت۔58 حجر۔آیت۔9۔الانبیاء۔50)
5۔ تنزیل/ (شعراء.آیت۔192.. دھر..23)
6۔ حدیث (انعام۔آیت۔68.کهف۔6 زمر۔23)
7۔ موعظه (یونس۔آیت۔57)
8۔ تذکره (حاقه.آیت۔48)
9۔ ذکری (هود.آیت۔120)
10۔ بیان (آل عمران۔آیت۔138)
11۔ هدی (بقره۔آیت۔2)
12۔ شفاء (..بنی اسرائیل۔آیت۔82.حم سجدہ.44)
13۔ حکم (رعد۔آیت۔37)
14۔ حکمت (الاحزاب۔آیت۔34)
15۔ حکیم (آل عمران۔آیت۔58)
16۔ مهیمن (مائده۔آیت۔48)
17۔ هادی (جن۔۔آیت۔2)
18۔ نور (اعراف.آیت۔157)
19۔ رحمت (نمل.آیت۔77)
20۔ عصمت (آل عمران.آیت۔۔103)اس نام کو آیه (واعتصموا) سے استفاده کیا گیا هے  کیونکه آیت میں لفظ عصمت کا تذکره نهیں هے۔
21۔ نعمت (ضحی.آیت۔11)
22۔ حق (حاقه.آیت۔51)
23۔ تبیان (نحل.آیت۔89)
24۔ بصائر (قصص.آیت۔43)
25۔ مبارک (انبیاء.آیت۔50)
26۔ مجید (ق.آیت۔1)
27۔ عزیز (زمر.آیت۔1)
28۔ عظیم (حجر.آیت۔87)
29۔ کریم (واقعه.آیت۔77)
30۔ سراج (احزاب۔آیت۔46)
31۔ منیر (احزاب.آیت۔46)
32۔ بشیر (حم سجدہ.آیت۔4)
33۔ نذیر (حم سجدہ.آیت۔4)
34۔ صراط (حمد.آیت۔6)
35۔ حبل (آل عمران.آیت۔103)
36۔ روح (شوری.آیت۔52)
37۔ قصص (یوسف۔آیت۔3)
38۔ فصل (طارق.آیت۔13)
39۔ نجوم (واقعه.آیت۔75)
40۔ عجب (جن.آیت۔1)
41۔ قیّم (کهف.آیت۔2)
42۔ مبین (یوسف.آیت۔1)
43۔ علیّ (زخرف۔آیت۔4)
44۔ کلام اللّٰہ(توبه.آیت۔6)
45۔ قول (قصص.آیت۔51)
46۔ بلاغ (ابراهیم.آیت۔52)
47۔ متشابه (زمر.آیت۔23)
48۔ عربی (یوسف۔آیت۔3.زمر.28)
49۔ بشری (نمل.آیت۔2)
50۔ عدل (انعام.آیت۔۔115)
51۔ امر (طلاق.آیت۔۔5)
52۔ ایمان (آل عمران.آیت۔۔193)
53۔ نباء (نبا.آیت۔2)
54۔ علم (انبیاء.آیت۔45)
55۔ وحی (رعد.آیت۔37)
( تفسیر صافی، ج1، ص۔66)
یہ ایک سُورت ہے جسے ہم نے نازل کیاہے اورہم نے اسے فرض کیاہے اور ہم نے اس میں واضح آیات نازل کی ہیں تاکہ تم نصیحت حاصل کرو۔(سورہ۔نور۔آیت۔1)
سورت شہر کی فصیل کو کہتے ہیں جس سے شہر محدود ہوجاتا ہے۔ اسی مناسبت سے قرآن مجید کی آیات معینہ محدودہ پر سورۃ کا اطلاق کیا گیا ہے۔
قرآن کریم میں آٹھ جگہ سورۃ کا لفظ آیا ہے اس سے بھی قرآن کریم کا ایسا حصہ ہی مراد ہے۔ سورۃ کے لفظی معنی بلندی یا بلند منزل کے ہیں۔ جیسے السورۃ الرافعۃ (لسان) السورۃ المنزلۃ الرفیعہ (راغب) اس لحاظ سے یہ کہا جاسکتا ہے کہ جس طرح دنیا کی دوسری کتابیں مختلف بابوں میں تقسیم ہوتی ہیں اسی طرح قرآن مجید کے ہر باب کو سورۃ کہتے ہیں۔(عروۃ الوثققی عبد الکریم اثری سورۃ الفاتحہ)
آیت عربی زبان کا اسمِ مونث جس کے معنی  ہیں اس نے نشانی کی۔ اصطلاحاَ َ قرآن میں ایک پورا جملہ جو شروع ہوتا اور ختم ہوتا ہے،وہ گول نشان قرآن میں  جملہ ختم ہونے پر ٹھہرنے کے لیے بنا ہوتا ہے۔کسی جگہ اس سے مراد محض علامت یا نشانی کے ہیں۔کسی جگہ آثار قدرت کو آیات کہا گيا ہے‌۔
کچھ جگہ معجزہ کو آیات کہا گیا ہے۔کہیں آیت قرآن کے فقروں کو کہا گیا ہے۔آیت پر کلام ختم ہوتا ہے اور اول آخر سے جدا ہو جاتا ہے۔ اسی لیے اسے آیت کہتے ہیں۔آیت کے معنی عجیب کے بھی ہیں چونکہ یہ عجیب چیز ہے۔ معجزہ ہے۔ تمام انسان اس جیسی بات نہیں کہہ سکتے۔ اسی لیے اسے آیت کہتے ہیں.(تفسیر ابن کثیر صفحہ 31،32)مکی و مدنی دونوں اصطلاحیں ہیں۔ جو آیات ہجرت سے پہلے نازل ہوہیں وہ مکی اور جو ہجرت کے بعد نازل ہوہیں وہ مدنی۔جو آیات مکہ کے لوگوں کو خطاب کرنے لی لیے نازل ہوہیں وہ مکی اور جو مدینہ کے لوگوں کو خطاب کرتی ہیں وہ مدنی، اس طرح یہ بھی ایک صورت ہے کہ مکی وہ آیات جو مکہ میں نازل ہوہیں (اس میں فتح مکہ اور حجۃالوداع پر جو نازل  ہوہیں وہ بھی )مکی ہیں۔ جو سفر میں (مکہ اور مدینہ کے باہر) نازل ہوہیں، وہ نہ مکی نہ مدنی۔(سید قاسم محمود، انسائیکلوپیڈیا قرآنیات، حصہ 3، صفحہ 175)
وہی ہے جس نے آپ پرکتاب اُتاری ،جس میں سے بعض محکم آیات ہیں وہی کتاب کی اصل ہیں اور کچھ دوسری کئی معنوں میں ملتی جلتی ہیں،پھرجن کے دلوں میں کجی ہے وہ اس میں سے ان آیات کے پیچھے لگ جاتے ہیں جوکئی معنوں میں ملتی جلتی ہیں،فتنہ کی تلاش کے لئے اور اس کی اصل مرادکی تلاش کے لئے ،حالانکہ ان کی اصل مراد کو اﷲ تعالیٰ کے سواکوئی نہیں جانتا، اورعلم میں پختگی رکھنے والے لوگ کہتے ہیں کہ ہم اُس پر ایمان لائے،سب ہی ہمارے رب کی طرف سے ہیں اورنصیحت نہیں قبول کرتے مگر جو عقل مند ہیں۔
(سورہ۔آل عمران۔آیت۔7)
 ان اصطلاحات سے آیت کی تقسیم کی جاتی ہے۔
آیاتِ متشابہات
آیات محکمات
آیات مقطعات
آیات الحفظ
آیات دلیل
آیات رحمت
آیات شفاعت
آیات قدرت
رسول اللہ پر پہلی نازل ہونے والی آیات سورۂ علق کی پہلی 5آیات ہیں۔آخری آیت کے بارے میں اختلاف ہے۔
آج میں نے تمہارے لئے تمہارے دین کو مکمل کر دیا، تم پر اپنی نعمت تمام کر دی اور میں تمہارے لئے دین اسلام سے راضی ہوں۔(مائدہ۔آیت۔3)
یہ آیت رسول اللہ کے مکے سے واپسی پر حجت الوداع کے موقع پر نازل ہوئی کیونکہ سوره مائده  جنگوں کے اختتام نیز کمال اور استقرار کے احکام کو بیان کرتی ہے خاص طور پر یہ آیت رسالت کے کام کی تکمیل کو بیان کرتی ہے اس وجہ سے مناسب ہے کہ یہی سورت اور یہی آیت آخری ہو۔بعض قول سورہ نصر کی طرف بھی منقول ہیں۔
 (تاریخ قرآن، ص۔64..سیوطی، الاتقان، ج 1، ص۔165)
پارہ قرآن کو تقسیم کرنے کے اس معیار کو کہا جاتا ہے جس میں قرآن مجید کو 30 برابر حصوں میں تقسیم کیا  گیا ہے؛ ان میں سے ہر ایک حصے کو پارہ کہا جاتا ہے اور خط عثمان طہ کی طباعت کے مطابق ہر پارے میں تقریبا 20 صفحے ہیں۔ ہر پارہ چار حصوں میں تقسیم ہوتا ہے جسے حزب کہا جاتا ہے۔ (اردو اشاعت کے قرآن مجید میں حزب کو الربع، النصف اور الثلاثۃ سے تعبیر کیا ہے۔) قرآن مجید کی ابتدائی تقسیم، روایات کے مطابق آپﷺ کے دور میں ہوئی جس میں قرآن کو چار حصوں میں تقسیم کیا گیا, سَبعُ طِوال ،سُنَن، مَثانی اور مُفَصَّل۔ 30 پاروں میں تقسیم بندی کے آغاز کے بارے میں اختلاف نظر پایا جاتا ہے۔ یہ تقسیم بندی حجاج بن یوسف  کے دور میں آغاز ہوئی ہے۔(اسی کے دور میں اعراب بھی لگائے گئے)بعض روایت میں ہے کہ مأمون عباسی نے اس طرح سے تقسیم کرنے کا حکم دیا تھا۔ مشہور یہ ہے کہ 30 پاروں میں تقسیم کرنا یا 120 حزب میں تقسیم کرنے کا مقصد پڑھنے اور تلاوت کرنے میں آسانی کے پیش نظر ایسا کیا گیا ہے۔
(التمہید، 1412.ق، ج1، ص364)
اورجب وہ سنتے ہیں جورسول ﷺ کی طرف نازل کیاگیاتوآپ دیکھتے ہیں کہ ان کی آنکھیں آنسوؤں سے بہہ رہی ہوتی ہیں اس وجہ سے کہ انہوں نے حق کو پہچان لیاہے،وہ کہتے ہیں کہ اے ہمارے رب!ہم ایمان لے آئے ،چنانچہ ہمارانام گواہی دینے والوں کے ساتھ لکھ لے۔
(سورہالمائدة۔آیت۔83)
حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ یوں نقل فرماتے ہیں: مجھ سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا مجھے قرآن پڑھ کر سناؤ۔ میں نےکہا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم! میں آپ کو قرآن پڑھ کر سناؤں جبکہ قرآن کا نزول آپ ہی پر ہوا ہے؟ آپ نے فرمایا:ہاں، چنانچہ میں نے سورۃ النساء کی تلاوت شروع کی۔ اور اس آیت کریمہ:
“پس کیا حال ہوگا جس وقت کہ ہر امت میں سے ایک گواہ ہم لائیں گے اور آپ کو ان لوگوں پر گواہ بنا کر لائیں گے۔”(النساء: 41)
اس پر آپ کی آواز میرے کانوں سے ٹکرائی۔ آپ فرمارہے تھے: بس کرو۔ میں نے مڑ کر دیکھا، تو آپ کی دونوں آنکھوں سے آنسو بہہ رہے تھے۔(صحیح بخاری: 5050)
قرآن پاک کی تلاوت کا مسنون طریقہ یہ ہے۔
تعوذ (اعوذ باللہ)اور تسمیہ(بسم اللہ الرحمٰن الرحیم ) کے بعد رسول اکرم صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم سورۃ الفاتحۃ کی  تلاوت فرماتے تھے۔ تلاوت کا سنت طریقہ یہ ہے کہ قراءت کرتے وقت ہر آیت پر وقف کیا جائے۔ مثال کے طور پر سورۃ الفاتحۃ پڑھتے وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ پڑھ کر وقف کرتے، پھر الحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ العَالَمِينَ پڑھ کر ٹھہر جاتے۔ پھر الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ پڑھتے اور ٹھہر جاتے۔ پھرمَالِكِ يَوْمِ الدِّينِ پڑھتے اور اس پر وقف فرماتے تھے اور اسی طرح ایک ایک آیت پر رک کر سورت پوری کرتے تھے۔ یہ معمول صرف سورۃ الفاتحہ پڑھنے کے لیے ہی نہ تھا بلکہ دوسری سورتوں کی تلاوت کرتے وقت بھی یہی طریقہ ہوتا تھا کہ آیت کے اختتام پر وقف کرتے اور اسے اگلی آیت سے نہیں ملاتے تھے۔(سنن ترمذی کتاب القراءات باب فی فاتحۃ الکتاب۔ صحیح سنن ترمذی حدیث نمبر  2927.صحیح مسلم صلاۃ المسافرین و قصرھا باب ترتیل القراءۃ و اجتناب الھذ، سنن ابی داؤد کتاب الصلاۃ باب تخریب القرآن، صحیح سنن ابی داؤدحدیث نمبر .. 1262)
اللہ کے کتاب کا ہم سے مطالبہ۔
1۔ کتاب اللہ پر ایمان لانا 2۔ قرآن مجید کی تلاوت کرنا  3۔ قرآن پاک کے معنی و مطالب کو سمجھنا 4۔ کلام اللہ کے احکامات پر پر عمل کرنا 5.پوری دنیا میں قرآن پاک کا قانون نافذ ہو جائے اس کے لئے کو شش کرتے رہنا۔
مولانا محمود حسن دیوبندی نے مالٹا کی تنہائیوں میں
جو غور و خوض کرکے یہ حل تلاش کیا تھا ، مفتی محمدشفیع عثمانی صاحب اس کی ترجمانی کرتے ہوئے لکھتے ہیں: ” میں نے جہاں تک جیل کی تنہائیو ں میں اس پر غور کیا ہے کہ پوری دنیا میں مسلمان دینی اور دنیوی ہر حیثیت سے کیوں تباہ ہورہے ہیں تو اس کے دو سبب معلوم ہوئے ، ایک ان کا قرآن کو چھوڑ دینا اور دوسرا ان کے آپس کے اختلاف اور خانہ جنگی ، اس لیے میں وہیں سے یہ عزم لے کر آیا ہوں کہ اپنی باقی زندگی اس کام میں صرف کردوں گا کہ قرآن کریم کو لفظاً و معناعام کیا جائے اور مسلمانوں کے باہمی جنگ و جدال کو کسی قیمت پر برداشت نہ کیا جائے “
مفتی محمد شفیع مرحوم ومغفور فرماتے ہیں کہ :’’میں حضرت مولانا سید محمد انور شاہ کاشمیری کی خدمت میں ایک دن نماز فجر کے وقت اندھیرے میں حاضر ہوا تو دیکھا کہ حضرت سر پکڑے ہوئے بہت غمزدہ بیٹھے ہیں۔ میں نے پوچھا:’’مزاج کیسا ہے؟‘‘ انہوں نے کہا کہ: ہاں! ٹھیک ہے، میاں ! مزاج کیا پوچھتے ہو؟ عمر ضائع کردی۔ میں نے عرض کیا: حضرت! آپ کی ساری عمرعلم کی خدمت میں اور دین کی اشاعت میں گزری ہے، ہزاروں آپ کے شاگرد علما ہیں جو آپ سے مستفید ہوئے اور خدمت دین میں لگے ہوئے ہیں، آپ کی عمر اگر ضائع ہوئی تو پھر کس کی عمر کام میں لگی؟ تو حضرت نے فرمایا کہــ’’ میں تمہیں صحیح کہتا ہوں کہ اپنی عمر ضائع کردی‘‘ میں نے عرض کیا کہ حضرت! اصل بات کیا ہے؟ فرمایا: ’’ہماری عمروں کا، ہماری تقریروں کا، ہماری ساری کوششوں کا خلاصہ یہ رہا کہ دوسرے مسلکوں پر حنفی مسلک کی ترجیح قائم کردیں۔ امام ابو حنیفہ کے مسائل کے دلائل تلاش کریں، یہ رہا ہے محور ہماری کوششوں کا، تقریروں کا اور علمی زندگی کا۔اب غور کرتا ہوں کہ کس چیز میں عمر برباد کی! پھر فرمایا:’’ ارے میاں! اس بات کا کہ کون سا مسلک صحیح تھا اور کون سا خطاء پر ؟ اس کا راز تو کہیں حشر میں بھی نہیں کھلے گا اور نہ دنیا میں اس کا فیصلہ ہوسکتا ہے اور نہ ہی قبر میں منکر نکیر پوچھیں گے کہ رفع یدین حق تھا یا ترکِ رفع یدین حق تھا؟(نماز میں) آمین زور سے کہنا حق تھا یا آہستہ کہنا حق تھا؟ برزخ میں بھی اس کے متعلق سوال نہیں کیا جائے گا اور قبر میں بھی یہ سوال نہیں ہوگا، روز محشر اللہ تعالیٰ نہ امام شافعی کو رسوا کرے گا، نہ امام ابوحنیفہ کو، نہ امام مالک  کو،اور نہ امام احمد بن حنبل کو… اور نہ میدان حشر میں کھڑا کرکے یہ معلوم کرے گا کہ امام ابوحنیفہ نے صحیح کہا تھا یا امام شافعی  نے غلط کہا تھا، ایسا نہیں ہوگا۔تو جس چیز کا نہ دنیا میں کہیں نکھرنا ہے، نہ برزخ میں ، نہ محشر میں، اس کے پیچھے پڑکر ہم نے اپنی عمر ضائع کردی اور جو صحیح اسلام کی دعوت تھی، جو سب کے نزدیک مجمع علیہ اور وہ مسائل جو سبھی کے نزدیک متفقہ تھے اور دین کی جو ضروریات سبھی کے نزدیک اہم تھیں، جن کی دعوت انبیاء کرام لے کر آئے تھے، جن کی دعوت کو عام کرنے کا ہمیں حکم دیا گیا تھا، وہ منکرات جن کو مٹانے کی کوشش ہم پر فرض کی گئی تھی، آج اس کی دعوت ہی نہیں دی جارہی ، یہ ضروریاتِ دین تو لوگوں کی نگاہوں سے اوجھل ہو رہی ہیں اور اپنے اور اغیار سبھی دین کے چہرے کو مسخ کررہے ہیں اور وہ منکرات جن کو مٹانے میں ہمیں لگے ہونا چاہیے تھا وہ پھیل رہے ہیں، گمراہی پھیل رہی ہے ، الحاد آرہاہے، شرک وبت پرستی چلی آرہی ہے، حرام وحلال کا امتیاز اٹھ رہا ہے، لیکن ہم لگے ہوئے ہیں ان فرعی وفروعی بحثوں میں، اس لیے غمگین بیٹھا ہوں اور محسوس کررہا ہوں کہ عمر ضائع کردی‘‘۔ (وحدت امت،ص:13،مفتی محمد شفیع )
اور رسولِ ( اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) عرض کریں گے: اے رب! بیشک میری قوم نے اس قرآن کو بالکل ہی چھوڑ رکھا تھا۔(سورہ۔فرقان۔آیت۔30)اصل میں لفظ مھجور استعمال ہوا ہے جس کے کئی معنی ہیں ۔ اگر اسے ھَجْر سے مشتق مانا جائے تو معنی ہوں گے متروک ، یعنی ان لوگوں نے قرآن کو قابل التفات ہی نہ سمجھا ، نہ اسے قبول کیا اور نہ اس سے کوئی اثر لیا ۔ اور اگر ھُجْر سے مشتق مانا جائے تو اس کے دو معنی ہو سکتے ہیں ۔ ایک یہ کہ انہوں نے اسے ہذیان اور بکواس سمجھا ۔ دوسرے یہ کہ انہوں نے اسے اپنے ہذیان اور اپنی بکواس کا ہدف بنا لیا اور اس پر طرح طرح کی باتیں چھانٹتے رہے۔سیاق وسباق کی روشنی میں یہاں قوم سے مراد کافر لوگ ہیں، لیکن یہ مسلمانوں کے لئے بھی ڈر نے کا مقام ہے کہ اگر مسلمان ہونے کے باوجود قرآن کریم کو پس پشت ڈال دیا جائے تو کہیں وہ بھی اس سنگین جملے کا مصداق نہ بن جائیں، اور نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) شفاعت کے بجائے شکایت پیش کریں، والعیاذ باللہ العلی العظیم۔کتنی عجیب بات ہے کہ جو کتاب دنیا کے تمام انسانوں کو اور خاص طور پر مسلمانوں کو ہدایت دینے آئی ہو وہ غم ں اندوہ میں صدا دے  رہی ہو کہ کوئی ہےمجھ سے محبت کرنے والا جو مجھے سمجھ کر پڑھے۔قیامت والے دن اللہ کے سچے رسول آنحضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم اپنی امت کی شکایت جناب باری تعالیٰ میں کریں گے کہ نہ یہ لوگ قرآن کی طرف مائل تھے نہ رغبت سے قبولیت کے ساتھ سنتے تھے بلکہ اوروں کو بھی اس کے سننے سے روکتے تھے جیسے کہ کفار کا مقولہ خود قرآن میں ہے کہ وہ کہتے تھے۔۔اورجن لوگوں نے کفر کیا انہوں نے کہا کہ اس قرآن کونہ سنواوراس میں شورکروتاکہ تم غالب آجاؤ۔(حم سجدہ۔آیت۔26)یہی اس کا چھوڑ رکھنا تھا ۔ نہ اس پر ایمان لاتے تھے ، نہ اسے سچا جانتے تھے نہ اس پر غورو فکر کرتے تھے ، نہ اسے سمجھنے کی کوشش کرتے تھے نہ اس پر عمل تھا ، نہ اس کے احکام کو بجا لاتے تھے ، نہ اس کے منع کردہ کاموں سے رکتے تھے بلکہ اسکے سوا اور کلاموں سے دلچسپی لیتے تھے اور ان پر عامل تھے ، یہی اسے چھوڑ دینا تھا۔نہ اس کے حکم کو نافظ کرنے کی سعی کرتے تھے۔اغیار نے ایک سازش کے تحت اس کی تلاوت کو خوب پھیلایا،کہ پڑھنے میں اتنی ثواب ہے کہ جنت ہمارے قدموں میں ہو گی۔اور دیگر باتیں۔بدقسمتی یہ ہوئی کہ غیروں کی اس سازش کو ہمارے مبلیغین ،مدرسین اور وارثان ممبر رسول ﷺ نے بھی قبول کر لیا۔قاریوں پر انعام و اکرام کی بارشیں شروع ہوئی،اور جو ملک ،آدمی اس کے حکم کو نافذ  کرتا یا صرف بات کرتا اس کے لئے ہر ظلم روا کر دیا جاتا؟ کفر کی سازش یہ ہے کہ قرآن کی سطروں پر مخص انگلیاں پھیرنے سے یا بغیر سمجھ بوجھ کے پڑھنے سے اس قدر انعامات اور عنائیات ہیں تو پھر سمجھ بوجھ کر پڑھنے کی کیا ضرورت ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ آج قرآن کی تلاوت کرنے والوں کی بہت زیادہ تعداد قرآن کے مطلب و مفاہیم ، اور اعراض ومقاصد سے بےبیرہ ہے۔
گر تو می خواہی مسلماں زیستن
نیست ممکن جز بہ قرآں زیستن ​
علامہ اقبال
اگر تم مسلمان كى زندگی گزارنا چاہتے ہو تو قرآن كريم كو زندگی کا حصہ بنائے بغير ايسا ممكن نہیں۔
یہ مجھ سے عقیدت کے دعوے، قانون پہ راضی غیروں کے
یوں بھی مجھے رسوا کرتے ہیں، ایسے بھی ستایا جاتا ہوں۔
ماہر القادری۔
قرآن کا سب سے پہلا ترجمہ سلمان فارسی نے کیا۔ یہ سورۃ الفاتحہ کا فارسی میں ترجمہ تھا۔
فاش گویم آنچہ در دل مضمر است
ایں کتابے نیست چیزے دیگر است
چوں بہ جاں در رفت جاں دیگر شود
جاں چوں دیگر شد جہاں دیگر شود
اقبال
مفہوم: میں اپنے دل کا راز فاش کررہا ہوں کہ یہ کتاب صرف کتاب نہیں کچھ اور ہی چیز ہے۔ جب یہ جان میں اتر جاتی ہے تو جان کچھ اور ہو جاتی ہے(انسان کو بدل ڈالتی ہے)۔ اور جب انسان بدل جاتا ہے تو پھر جہان ہی بدل جاتا ہے۔
علامہ اقبال نماز فجر کے بعد معمولاً تلاوت کیا کرتے تھے ۔ایک صبح کو نماز کے بعد حسب دستورِ مَیں تلاوت میں مصروف تھےکہ والدِمرحوم ادھر آئے اور دریافت کیا کہ کیا کرتے ہو ؟ ڈاکٹر صاحب نے کہا کہ آپ جانتے ہیں کہ  مَیں اس وقت تلاوت کرتا ہوں۔ فرمایا : ’’جب تک تم یہ نہ سمجھو کہ قرآن تمھارے قلب پر بھی  اسی طرح اترا ہے جیسے آپ ﷺ
کے قلبِ اقدس پر نازل ہوا تھا، تلاوت کا مزا نہیں‘‘۔ یعنی اپنے اندر احساس پیدا کرو کہ گویا قرآن تم پر نازل ہو اہے۔ علامہ اقبال نے بہت بعد میں اپنے شعر میں اس واقعے کی طرف اشارہ کیا ہے:
ترے ضمیر پر جب تک نہ ہو نزولِ کتاب
گرہ کشا ہے نہ رازی ، نہ صاحبِ کشاف
(بالِ جبریل، ص 78)
اقبال نے والد کی یہ نصیحت پلے باندھ لی اور قرآن حکیم کے ساتھ ایسی وابستگی پیدا کر لی کہ بقول مولانا مودودی ؒ :’’دنیا نے دیکھا کہ (وہ)قرآن حکیم میں گم ہو چکا ہے اور قرآن سے الگ اس کا کوئی فکری وجود باقی نہیں رہا ‘‘ ۔ اقبال کی انقلاب انگیز شاعری اور ان کے افکار وتصورات آج بھی اس پر گواہی دے رہے ہیں۔
Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close