کالمز

توہی ناداں چند کلیوں پر قناعت کرگیا

ذرا تصور کریں کہ آپ نے دہلی یا لاہور میں ٹرین لی، کابل اوربغداد ہوتے ہوئے دمشق پہنچے اور پھر اسی طرح دمشق میں سوار ہوئےیانبیوں کی سرزمین فلسطین و اردن کی سیراورقبلہ اول بیت المقدس مسجداقصی کی زیارت کے بعد کسی اورمقام پر آپ نے ٹرین لی اوربحراحمرکے کنارے کنارے براہ تبوک مدینہ منورہ پہنچ گئےتو کیا محسوس کریںگے۔ آپ سوچ رہے ہوںگے کہ میں بھی یہ کیسی بہکی بہکی باتیں کررہا ہوں، کس خواب و خیال کی دنیا میں ہوں ، کیا یہ بھی ممکن ہے؟اب کوئی دوسال ہونے کو ہے۔ سعودی عرب میں مقیم ہمارے ایک دوست نے لکھاکہ’ سعودی عرب میں پہلی مرتبہ ریلوے کاسفر کررہاہوں، سعودی عرب جہاں صرف ریاض اور دمام کے درمیان ریلوے خدمات مہیاہیں، ریلوے میں سفرکرنا کسی عجوبہ سے کم نہیں ہے،ہماری ٹرین ریاض سے دن کے تقریبا ۱ء۳۱بجے روانہ ہوئی ہے جو کہ شام کے۵ء۵۱بجے دمام اسٹیشن پہونچے گی، ۴۱۸ کلو میٹر کی یہ دوری کم وبیش ۴گھنٹہ۲۰ منٹ میں طے ہوگی ۔ سعودی عرب کی زندگی میں پہلی بار ریلوے کا سفر میرے لیے یقیناًبڑا دلچسپ تجربہ ہے ‘تو مجھے اس تصور نے جھنجھوڑ کر رکھ دیا،آنکھوں سےاچانک نیندچلی گئی ، طبیعت ایسی بے چین تھی، جیسی پہلےاس نوع کی کسی بات پر کبھی بے چین نہ ہوئی تھی، یقین مانیںیہ خواب وخیال کی دنیا نہیں عین بیداری تھی۔اور اب منگل (۲۵؍ستمبر ۲۰۱۸ء) کو مکہ مکرمہ سے یہ خبر آئی کہ سعودی عرب کے فرماں روا شاہ سلمان بن عبدالعزیز نےحرمین شریفین کے درمیان تیزرفتار ریلوے خدمات کا افتتاح کیا ہے۔یکم اکتوبر سے مکہ ،جدہ اور مدینہ کے درمیان اس کی کمرشیل سروس بھی شروع ہوجائےگی ، ۴۵۰کلومیٹر کا فاصلہ یہ ٹرینیں صرف دو گھنٹے میں طے کریںگی تو ایک بار پھر میری وہی کیفیت تھی۔لوگ اس ساڑھے چار سوکلومیٹر ہائی اسپیڈ ٹرین کے چلنے کی خوشی میں مگن تھے اور میں دمشق سے مدینہ منورہ اورمکہ مکرمہ تک ایک ہزارسات سو ستر(۱۷۷۰)کلومیٹرحجازریلوے کی تباہی کے غم میںنڈھال۔
شاید آپ یاد کرنا نہ چاہیں اوراگر یاد آجائے تو اندازہ نہ کرسکیں کہ سرزمین حجازپر آج سے پورے ایک سو سال پہلے’ حجاز ریلوے ‘کی پٹریاں اکھاڑ کر عربوں نے اپنا ، ملت اسلامیہ اورعالم اسلام کا کتنا بڑا اور کیسا ناقابل تلافی نقصان کیا تھااور اگر آپ پہلی جنگ عظیم سے پہلے اور بعد کے واقعات کو یاد کرلیں اور اس جنگ کی کوکھ سے پیدا شدہ مشرق وسطی اور اس کے موجودہ نقشے پرسیاسی و سماجی صورت حال کی سنگینی کا اندازہ کرلیں توعین ممکن ہے کہ آپ کو میری بے چینی سمجھنے میں دیر نہ لگےبلکہ آپ مجھ سے بھی زیادہ بے چین و مضطرب ہوجائیں ۔ جو سفرسعودی عرب اب ایک سوسال بعدشروع کررہا ہے، وہ اس سرزمین پر ۱۹۰۸ء میں شروع ہوچکا تھا لیکن ۱۹۱۵ء میں بند کردیا گیا، ۱۹۱۷ءمیںپٹریاں تک اکھاڑ دی گئیں اور مشرق وسطی کو ایک ملک اور ایک قوم بننے کے امکان کو ہمیشہ کے لیے دفن کردیا گیا۔میں سمجھتا ہوں کہ اس کا اندازہ اس سے بہتر کون لگاسکتا ہے جس نے سرزمین ہند پرمشرق و مغرب اور شمال و جنوب کوجوڑتے ریلوے کے اس جال کا گہرا مطالعہ کیا ہے جس نے برعظیم کی بکھری ہوئی ریاستوں کو ایک ملک اور ایک قوم بنانے میں غیر معمولی کردارادا کیا۔یہ ایک عجیب المیہ ہے کہ جو برطانوی سامراج ہندوستان میں ریل کی پٹریاں بچھا رہا تھا وہی سامراج مشرق وسطی میں عین اسی وقت حجاز ریلوے کی پٹریاں اکھاڑ رہا تھا اور حجازو شام کے لوگ اس تخریب میں اس کا بڑھ چڑھ کرساتھ دے رہے تھے۔
دمشق سے مدینہ منورہ تک ۱۳۲۰؍ کلومیٹرطویل ریلوے سروس اگر ۱۹۰۸ء سے اب تک جاری رہتی تو اب تک یہ خدمات کیا کیا منازل طے کرچکی ہوتیں اور ان کی کیا کیا برکات ملت اسلامیہ اور مشرق وسطی کو پہنچی ہوتیں ان کا تو صرف تصور ہی کیا جاسکتا ہے۔اس موقع پر کہ اب حرمین شریفین کے درمیان ریلوے خدمات شروع ہوچکی ہیں، ہم اس ماضی کا ماتم کریں یا اس پیشرفت کا جشن منائیں کم ازکم ہماری سمجھ میں نہیں آتا۔اس درد کو تو صرف وہی محسوس کرسکتا ہے جو تہذیب انسانی کے تسلسل اورایک نسل سے دوسری نسل کو تعمیرو ترقی منتقل کرنے کی اہمیت کا احساس رکھتا ہے ورنہ ہر نسل کے لیے نئے تجربے اور نئی بنیادیں کھڑی کرنے کی ذمہ داریاں منتقل کرنے والے اس کو کیا سمجھیں؟ آج ہم اسپین سے لائی گئی ان ہائی اسپیڈ ٹرینوں کا لطف لے رہے ہیںجو مکہ اور مدینہ کو جوڑتی ہیں، ان ٹرینوں کی تباہی کا غم کس کو ہے جو دمشق سے مدینہ منورہ کو جوڑتی تھیں۔
سعودی عرب نے۲۰۱۱ میں اسپین کی ایک کمپنی کے ساتھ مکہ اور مدینہ کے درمیان ریل کی پٹریاں بچھانے کے معاہدے پر دستخط کیے تھے۔اس کے تحت وہ سعودی عرب کو۳۵ تیز رفتار ٹرینیں مہیا کرے گا اور بارہ سال تک پٹریوں کی تعمیر ومرمت کا کام بھی کرے گا۔سعودی عرب اپنے انفرااسٹرکچر کو جدید بنانے اور اس کو ترقی دینے کے لیے بھاری رقوم لگارہا ہے۔وہ اس منصوبے کے تحت اپنے ریلوے کے نظام کو بھی توسیع دے رہا ہے ۔اس کے علاوہ دارالحکومت ریاض میں ساڑھے 22 ارب ڈالرز کی لاگت سے میٹرو نظام بھی زیر ِتعمیر ہے۔مکہ مدینہ کے درمیان ان تیز رفتاٹرینوں میں چھ کروڑ افراد سالانہ سفر کریں گے اور اس کا مقصد حاجیوں اور عمرہ کرنےکے لیے یہاں آنے والے افراد کوسفر کی بہتر سہولیات فراہم کرنا ہے۔حجاز ریلوے کا قیام اسی مقصد سے عمل میں آیا تھا اور یہ ایک وقف کے تحت چلائی جارہی تھی۔ اس کا نظام کتنا شاندار تھا، اس کا اندازہ دمشق(شام) اور حیفہ(اسرائیل) میں اس کے اسٹیشنوں کی ان شاندار عماتوں کو دیکھ کر لگایا جاسکتا ہے جو آج بھی موجود ہیں اور ملت کے شاندار ماضی کا ماتم کررہی ہیں۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close