متھلانچل

ثانوی سطح تک لازما بچوں کو پڑھائیں اردو زبان: شفیع مشہدی؍ امتیاز کریمی

اردو ڈائرکٹوریٹ کے زیر اہتمام ڈان باسکو اسکول میں ’’فروغ اردو سمینار‘‘ کا انعقاد

دربھنگہ: صرف نعروں اوربیساکھی سے اردو زندہ نہیں رہے گی۔ یہ اہل اردو کے قوت ارادی سے زندہ رہے گی۔ آج بڑے گھرانے سے اردو ختم ہوتی جا رہی ہے۔ یہ صرف غریبوں اور مدارس کی زبان بن کر رہ گئی ہے۔ اسے اردو زبان کو نئی نسل تک نہیں پہنچایا گیا تو اردو کا بڑا نقصان ہوگا۔ پرائمری اور ثانوی سطح تک اگر اردو کی تعلیم کو لازمی نہیں بنایا گیا تو اس کے مستقبل پر خدشہ لاحق ہوجائے۔ اس کے لیے ہمیں متحد ہو کر مہم چلانا ہوگا۔ حکومت نے لازمی قرار دے دیا تو اخبارات بھی کثیر تعداد میںفروخت ہوں گے۔ یہ باتیں اردو مشارتی کمیٹی بہار کے چیئرمین شفیع مشہدی نے دربھنگہ کے بی بی پی پاکر واقع ڈان باسکو اسکول کے کانفرنس ہال میں محکمہ کابینہ سکریٹریٹ پٹنہ اردو ڈائرکٹوریٹ کی جانب سے اردو مشاورتی کمیٹی کی سرپرستی میں منعقد فروغ اردو سمینار سے خطاب کرتے ہوئے اپنے صدارتی خطبہ میں کہی۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے ثانوی سطح تک اردو کی تعلیم کو لازمی قرار دینے کے لیے حکومت کو خط لکھا ہے۔ چونکہ ملک میں جمہوری نظام ہے لہذا ہمیں اس کے لیے تگ ودو کرنے کی ضرورت ہے۔ ہمیں مدارس اور مکاتب قائم کرنے چاہیے۔ بہار کی 2 کروڑ کی اردو آبادی میں 20لاکھ بچے بھی اردو پڑھ لیں تو اردو کے فروغ کو کوئی روک نہیں سکتا۔ اسلاف نے اردو کو سنوار کر جو امانت ہمیں سونپا ہے اسے ہم نے نئی نسل کو نہیں سونپا تو یہ خیانت ہوگی۔ اس موقع پر پروگرام کے کنوینر اور اردو ڈائرکٹر اردو ڈائرکٹوریٹ امتیاز احمد کریمی نے اپنے خطاب میں کہا کہ ناامید ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ میٹرک تک طلبہ ایک مضمون اردو ضرور رکھیں۔ پرائیویٹ اسکولوں میں اسکول پر دباؤ بنائیں کہ وہ اردو کی تعلیم کا انتظام کرے۔ بنیادی سطح پر اردو کی تعلیم کا نظم یقینی طور سے کئے جانے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ اگر اساتذہ اردو پڑھاتے تو پھر اس طرح کے سمینار کا انعقاد کی ضرورت ہی نہیںتھی۔ انہوں نے کہا کہ ہر مضمون میں سپر 30پیدا کریں اور اردو میں بھی سپر 30ہوں۔ انہوں نے کہا کہ دربھنگہ اردو ضلع ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس سمینار کا مقصد اردو ملازمین، اردو اساتذہ اور اردو عوام کو بیدار کرنا ہے کہ وہ اردو میں کام کریں۔ پروگرام کی نظامت کرتے ہوئے ڈاکٹر اسلم جاوداں نے کہا کہ ہم اردو داں طبقہ اپنی مادری زبان پر فخر کریں اور احساس کمتری سے نکل کر اردو تحریک کو زندہ کریں۔ صحافی ریحان غنی نے اردو آبادی کو اس کی بقا کے لیے تحریک چلانے کی تلقین کرتے ہوئے کہا کہ اردو تحریک کے ذریعہ ہی اردو ڈائرکٹوریٹ اور اردو مشاورتی بورڈ کا قیام عمل میں آیا۔ ہمیں اپنے حقوق لینے کے لیے جمہوری ملک میں جمہوری زبان بولنی ہوگی۔ مہمان خصوصی ہندی کے ناقد و شاعر پروفیسر اجیت کمار ورنا نے کہا کہ دل سے صحیح معنوں میں تعلق قائم ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ زبان ایک دوسرے کو جوڑتی ہے۔ ہمیں بھی زبان کے ذریعہ ایک دوسرے سے جڑنے اور جوڑنے کی کوشش کرنی چاہیے۔ مہمانان اعزازی کے طور پر پروفیسر شاکر خلیق ، پروفیسر انیس صدری میجر بلویر سنگھ (رکن اردو مشاورتی بورڈ)، ڈاکٹر نجیب اختر نے کہا کہ ہمیں گھروں میں اردو بولنا چاہیے اور اپنے بچوں کو اردو بولنے کی تلقین کرنی چاہیے۔ ڈاکٹر مشتاق احمد نے کہا کہ حالات کی نزاکت کو دیکھتے ہوئے ہمیں اپنا محاسبہ کرنا چاہیے۔انہوں نے مختلف زبانوں کا ڈاٹا پیش کرتے ہوئے کہا کہ جذباتی نعروں سے گریز کرتے ہوئے حقیقت آمیز محاسبہ کرنا چاہیے۔ پروفیسر عبد المنان طرزی نے مہمان اعزازی کے طور پر فروغ اردو کے حوالہ سے اردو نظم پیش کی۔ مقالہ پیش کرتے ہوئے ڈاکٹر امام اعظم، شکیل احمد سلفی اور ابرار احمد اجراوی نے اردو کے فروغ ، بقا اور تحفظ کے لیے مفید مشورے پیش کئے اور بنیادی سطح پر اردو کو مضبوط بنانے کی وکالت کی۔ وہیں مندوبین کے طور پر محمد ارشد حسین، ڈاکٹر منصور خوشتر اور ڈاکٹر محمد عبد الرحمن ارشد نے اپنے خطاب میں اردو کے فروغ کے لیے عملی طور پر اردو آبادی کو آگے آنے کا مشورہ دیا۔ اس موقع پر طلبہ و طالبات منزہ جبیں، رمانہ پروین اور محمد اشتیاق نے فروغ اردو کے عنوان پر تقریر پیش کی۔ ان کی حوصلہ افزائی کے لیے ڈائرکٹوریٹ کی جانب 1000فی کس اور توصیفی سند دی گئی۔ اسکول کے ڈائرکٹر رفیع عابدی نے اسکول کی جانب سے شفیع مشہدی، امتیاز احمد کریمی اور پروفیسر اجیت کمار ورما کو مومنٹو، شال، پاگ اور گلدستہ پیش کر کے اعزاز بخشا۔ جبکہ پروگرام کے درمیان ڈاکٹر امام اعظم کی کتاب ’’گیسوئے اسلوب‘‘ کا مہمانوں کے ہاتھوں رسم اجرا بھی عمل میں آیا۔ پروگرام کی ابتدا محمدا شتیاق عالم کی تلاوت قرآن مجید اور شاہدہ فرحین کی نعت گوئی سے ہوئی۔ جبکہ باضابطہ افتتاح مہمانان کے ہاتھوں چراغ روشن کر کے ہوا۔ پروگرام کے انعقاد میںضلع اقلیت فلاح افسر وسیم احمد، راج بھاشا کے ملازمین میں نسیم احمد رفعت مکی، واصف جمال، شیم احمد ٹنے بابو، اشرف جلیل، ضیاء اللہ، ابو البشر، محمد عرفان، ابو البشر، شاداب اقبال، محمد فیروز، محمد علاء الدی، ابو الفرح تنویر احمد، ظفر عالم، مجتبیٰ حسین وغیرہ کافی سرگرم رہے۔ مولانا عبد القادر نے پروگرام کے دوران مہمانان کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ مدارس میں بڑی ایمانداری سے اردو کی تعلیم دی جاتی ہے۔ اگر اسی طرح کالج اور یونیورسٹی میں بھی تعلیم دی جاتی تو اردو کا فروغ ممکن ہوتا۔ شرکا میں ڈاکٹر عالمگیر شبنم، علاء الدین حیدر وارثی، ڈاکٹر احتشام الدین، مولانا سیف الاسلام قاسمی، ماسٹر قیصر خان، مظفر رحمانی، ماسٹر ناصر خان، ڈاکٹر نوشاد علی، منور راہی، فردوس علی ایڈووکیٹ، عبد المتین قاسمی، عرفان احمد پیدل اور مہدی رضا روشن القادری سمیت بڑی تعداد میں مرد وخواتین، سرکاری اسکولوں کے اردو اساتذہ شامل تھے۔پروگرام کا اختتام ایڈیشنل کلکٹر محمد مبین علی انصاری کے کلمات تشکر پر ہوا۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close