دہلیہندوستان

جامعہ ملیہ اسلامیہ اے جے کے ایم سی آر سی نے اپنے قدیم طلباء کو اعزاز سے نواز

طلباء کا علم تئیں بے رغبتی یا تساہلی ان کی شخصیت کے لئے سم قاتل: پروفیسر افتخار احمد

نئی دہلی 08اگست(پریس ریلیز)جامعہ ملیہ اسلامیہ کے شعبہ ماس کمیونی کیشن اینڈ ریسرچ سینٹر کی جانب سے نیا تعلیمی سیشن شروع ہونے پر افتتاحی تقریب جامعہ کے انصاری آڈیٹوریم میں منعقد ہوا جس میں ،سینٹر کے تحت چلنے والے ایم اے ان ماس کمیونی کیشن ، ایم اے ان کنورجنٹ جرنلزم ، ایم اے ان اینی میشن اور ڈپلوما کے طلباء نے شرکت کیا ۔ اس موقع پر سینٹر نے اپنے قدیم طلباء کو ان کی نمایاں کارکردگی پر اعزاز سے بھی نواز ، یہ اعزاز جن لوگوں کو دیا گیا ان میں معروف فوٹو جرنسلٹ دانش ، فلم ہدایت کار ادایان با ئی جل اور معروف صحافی کرن دیپ سنگھ شامل تھے۔اس مو قع پر شعبہ کے سربراہ پروفیسر افتخار احمد نے طلباء کو خطاب کر تے ہوئے کہا کہ اس وقت معاشرہ اور خود ہمارا ملک جس کر ب سے گذر رہا ہے ایسے میں نوجوانوں اور خصوصا ان طلباء کی ذمہ داریاں زیادہ بڑھ جاتی ہیں جو کل حرف و قلم سے اپنا رشتہ جوڑیں گے اور جامعہ جیسے معروف اور بہترین ادارے سے صحافت کی تیکنیک اور اس کی باریکیاں سیکھ کر میدان عمل میں اتریں گے ۔ انھوں نے طلباء کو بے اننتہا محنت ، جستجو اور پڑھائی پر توجہ دینے کی ترغیب دیتے ہوئے کہا کہ یہی آپ کا مشن ہونا چاہئے اور اسی کے ذریعے آپ اپنے آگے کے منازل طئے کریں گے ، اس لئے کسی بھی قسم کی تساہلی یا علم کے تئیں بے رغبتی آپ اور آپ کی شخصیت کے لئے سم قاتل سے کم نہیں ہوگی ۔ اس موقع پر فوٹو جرنلسٹ دا نش جو کہ معروف خبر ایجنسی رائٹر سے وابستہ ہیں نے اپنے تجر بات ساجھا کیا اور فوٹو صحافت اور آرٹ سے متعلق باریکیاں بتاتے ہوئے کہا کہ یہ ایک ایسا شوق یا فن ہے جس میں آپ کو بہت زیادہ صبر اورہمت کی ضرورت ہوتی ہے ۔ انھوں نے کہا کہ یہ دو چیزیں اس میدان کی کلید ہیں جس نے اس کو پا لیا اسے کامیابی سے کوئی نہیں روک سکتا ، تاہم انھوں نے صحافت کی اخلاقیات اور انسانیت کے اصول کو بھی فراموش نہ کرنے کی ترغیب دی ۔ دانش جامعہ ملیہ اسلامیہ شعبہ ماس کمیو نی کیشن کے 2005-2007 بیچ کے طالب علم تھے ۔ ادایان جو کہ ایک معروف فلم ہدایت کار اور سلم ڈاگ میلنئر میں معاون ہدایت کار کے طور پر کام کر چکے ہیں نے اپنے تجربات بتاتے ہوئے کہا کہ فلم انڈسٹری میں آپ کو پیشن سے زیادہ تخلیقیت اور نئے خیالات کی ضرور ت ہوتی ہے ، ساتھ ہی صبر اور حوصلہ آپ کو آگے لے جاتا ہے ۔ کرن جنھو ں نے 2014 میں ماس کمیونی کیشن سے کنورجنٹ جرنلزم میں ایم اے کیا تھا نے بھی اپنے تجربات ساجھا کئے جس میں انھوں نے اپنے کیریر کی کچھ انمول یادوں کا تذکرہ کیا ۔ اس موقع پر روہنگیا مسلم پر بنے ایک دستاویزی فلم میں انھوں نے دکھایا جسے کافی سراہا گیا ۔ اس موقع پر بڑی تعداد میں جامعہ ملیہ اسلامیہ کے طلباء اور اساتذہ نے شرکت کیا ۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close