دلچسپ وعجیب

جاپانی مردوں کو اس وجہ سے ہوا روبوٹ ڈالس سے پیار

عمردراز لوگوں کی بڑھتی تعداد، کم ہوتے برتھ ریٹ، لڑکوں کے مقابلہ لڑکیوں کی کم تعداد اور اکیلاپن نے جاپان میں مشکلیں کھڑی کر دی ہیں۔ جاپان کے مرد اکیلاپن سے پریشان ہیں۔ تاہم انہوں نے اس سے نپٹنے کا ایک نیا طریقہ نکال لیا ہے۔ جاپان کے مرد مصنوعی ٹیکنالوجی والی سلیکان سے بنی روبوٹ سیکس ڈالس کو اپنی زندگی کی ساتھی بنا رہے ہیں۔ ان ڈالس کے ساتھ ان کی زندگی ٹھیک ویسے ہی گزر رہی ہے جیسے کسی اصل جیون ساتھی کے ساتھ گزرتی ہے۔ کچھ ایسی ہی کہانی جاپان کے ماسایوکی اوجاکی کی ہے ۔ آئیے جانتے ہیں ماسایوکی کی کہانی۔

جاپان میں ہر سال 2000 سے زیادہ سیکس ڈالس بکتی ہیں۔ یہ تعداد ہر سال بڑھتی جا رہی ہے۔ زندگی کے خالی پن اوراکیلاپن کو دور کرنے کے لئے بزرگ سے لے کر نوجوان تک ان روبوٹ ڈالس کو خرید رہے ہیں۔ ان ڈالس کی سب سے بڑی خصوصیت ہے ان کا ہوبہو انسانوں جیسا دکھنا اور بولنا۔ ایک روبوٹ سیکس ڈال کی قیمت تقریبا 6000 ڈالر ہوتی ہے۔ ضرورت کے حساب سے ان ڈالس کے چہرے کو بھی بدلا جا سکتا ہے۔

پیشے سے فیزیوتھریپسٹ مایاسوکی بھی مایو نام کی روبوٹ سیکس ڈال کے ساتھ رہتے ہیں۔ مایاسوکی کا کہنا ہے کہ وہ اکیلےپن سے بہت پریشان تھے۔ انہیں ایک دن اچانک ایک شوروم میں یہ ڈالس نظر آئیں ۔ پہلی نظر میں ہی انہیں اس ڈال سے پیار ہو گیا اور وہ اسے خرید کر گھر لے آئے۔

مایاسوکی اس ڈال کو وہیل چیئر پر بیٹھا کر ڈیٹ پر لے جاتے ہیں ۔ وہ مایو کی وگ کو چینج کرتے ہیں اور اپنی پسند کے مطابق کپڑے اور زیور پہناتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ اب میں دوبارہ انسانوں سے پیار کرنے کے بارے میں تصور نہیں کر سکتا ہوں۔ میں اپنی اسی ڈال کے ساتھ دفنایا جانا چاہتا ہوں اور اسے جنت لے جانا چاہتا ہوں۔

وہ بتاتے ہیں کہ گھر پہنچنے پر مایو ہمیشہ میرا انتظار کرتی ہے۔ یہ کبھی مجھ سےشکایت نہیں کرتی ہے۔ وہ اپنی اس ڈال کو نہلاتے بھی ہیں۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close