سیاست

جموں وکشمیرمیں بی جے پی کو روکنے کےلئےمحبوبہ مفتی کومل سکتاہے کانگریس اورنیشنل کانفرنس کا ساتھ

سری نگر: بی جے پی نے جموں وکشمیر میں پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی) سے حمایت واپس لینے کے بعد سیاسی سرگرمی بڑھا دی ہے۔ بی جے پی کا الزام ہے کہ کشمیر کے موجودہ حالات کو دیکھتے ہوئے اب پی ڈی پی کے ساتھ حکومت چلانا بہت مشکل ہے۔

اسی کے ساتھ جموں وکشمیر میں صدر راج کے نفاذ کی امیدیں بڑھتی جارہی ہیں۔ حمایت واپسی کے بعد اب جموں وکشمیر میں کانگریس اور نیشنل کانفرنس کی طرف سے امید بھری نظروں سے دیکھا جارہا ہے۔

سیاسی ماہرین اور ڈاکٹر بھیم راو امبیڈکر یونیورسٹی کے پروفیسر محمد ارشد بتاتے ہیں کہ ’’اگر جموں وکشمیر میں صدر راج نافذ ہوجاتا ہے تو سیدھے طور پر نہ سہی لیکن راج بھون سے ہوتے ہوئے صوبے کی کمان بی جے پی کے ہاتھوں میں آجائے گی۔ جبکہ نیشنل کانفرنس اور کانگریس یہ کبھی نہیں چاہیں گے کہ جموں وکشمیر میں بی جے پی کی مداخلت میں اضافہ ہو۔

یہی وجہ ہے کہ بی جے پی کو روکنے کے لئے کانگریس پی ڈی پی کی سربراہ محبوبہ مفتی کو حمایت دے سکتی ہے۔ کانگریس کے پاس اس وقت 12 سیٹ ہیں، اگر 5 آزاد ممبران اسمبلی کو ملا لیاجائے تو پی ڈی پی اکثریت کے اعدادوشمار 44 تک پہنچ سکتی ہے۔

دوسری طرف اگر محبوبہ نیشنل کانفرنس کے ساتھ وزیراعلیٰ کی کرسی کو لے کر ئی معاہدہ کرلیتی ہیں تو بھی اقتدار باقی رہے گی۔ ایسے میں نیشنل کانفرنس کے لئے بھی یہ خسارے کا سودا نہیں رہے گا۔

کیونکہ پی ڈی پی اور نیشنل کانفرنس کے لئے شمالی کشمیر کا علاقہ سیاسی نظریے سے انتہائی اہم ہے۔ ابھی حکومت چلانے کے لئے 3 سال کا وقت باقی ہے۔ ایک راستہ یہ بھی ہے کہ صوبے میں صدرراج نافذ نہ کرکے الیکشن کرادیئے جائیں۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close