سیاست

جموں وکشمیر میں طاقت اور سختی کی پالیسی نہیں چلے گی:محبوبہ مفتی

پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی ) کی صدر محبوبہ مفتی نے کہا کہ وہ اپنی اتحادی جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی جانب سے کنارہ کشی اختیار کرنے کے فیصلے سے حیران نہیں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ میری جماعت نے بی جے پی کے ساتھ اتحاد اقتدار کے لئے نہیں بلکہ اپنے جماعت کے ایجنڈے کو نافذ کرنے کے لئے کیا تھا۔ محبوبہ مفتی نے کہا کہ انہوں نے اپنا استعفیٰ نامہ گورنر نریندر ناتھ ووہرا کو بھیج دیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ پی ڈی پی کسی دوسری جماعت کی طرف نہیں دیکھے گی۔ انہوں نے کہا کہ جموں وکشمیر میں طاقت اور سختی کی پالیسی نہیں چلے گی۔ محترمہ مفتی نے ان باتوں کا اظہار منگل کے روز یہاں اپنی رہائش گاہ پر نامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا ‘یہ (بی جے پی کا علیحدگی اختیار کرنا) ہمارے لئے جھٹکا نہیں ہے ۔ ہم نے یہ اتحاد اقتدار کے لئے نہیں کیا تھا۔ اگر یہ اتحاد اقتدار کے لئے ہوتا تو اُس وقت عمر صاحب (نیشنل کانفرنس نائب صدر) اور کانگریس پارٹی ہمیں حمایت دینے کے لئے تیار تھی۔ اس اتحاد کا سب سے بڑا مقصد یکطرفہ سیز فائر، ڈائیلاگ کی پیشکش، وزیر اعظم کا پاکستان جانا، 11 ہزار نوجوانوں کے خلاف درج ایف آئی آر واپس لینا تھا۔ یہ اتحاد ہم نے بڑے مقاصد کے حصول کے لئے کیا تھا’۔ انہوں نے کہا ‘ڈائیلاگ اور مفاہمت کے لئے ہماری کوششیں آگے بھی جاری رہیں گی’۔محترمہ مفتی نے کہا کہ ہم نے چار سال تک دفعہ 370 کے ساتھ کوئی چھیڑ چھاڑ نہیں ہونے دی۔ انہوں نے کہا ‘ہمیں دفعہ 370 کو بچانا تھا، ہم نے تین چار سال تک اس کی حفاظت کی۔ ہم نے اپنا ایجنڈا پورا کیا ہے ‘۔ پی ڈی پی صدر نے کہا کہ پی ڈی پی کسی دوسری جماعت کی طرف نہیں دیکھے گی۔ ان کا کہنا تھا ‘میں نے گورنر صاحب کو اپنا استعفیٰ یہ کہہ کر بھیجا ہے کہ ہم کوئی اور اتحاد ایکسپورٹ نہیں کریں گے ‘۔ انہوں نے کہا ‘جیسا کہ آپ سبھی لوگ جانتے ہیں کہ آج بی جے پی کی طرف سے حمایت کی واپسی ہوئی۔ اس کے بعد میں نے اپنا استعفیٰ نامہ گورنر صاحب کو بھیج دیا۔ ہمارے درمیان جو اتحاد تھا ، وہ بہت سوچ سمجھ کر کیا گیا۔ حالانکہ لوگوں کے مزاج کے خلاف تھا۔ مفتی محمد سعید نے یہ اتحاد ایک بڑے نظریے کے تحت کیا تھا۔ یہ سوچ کر بی جے پی ایک بہت بڑی جماعت ہے ۔ اور وزیر اعظم کو ایک بہت بڑا منڈیٹ ملا ہے ۔ کشمیر کے لوگ جس مصیبت میں پھنسے ہیں ، اس مصیبت سے باہر نکالنے کے لئے ہم نے ایک بڑی جماعت کے ساتھ ہاتھ ملایا تھا۔ ہمیں ایجنڈا آف الائنس بنانے میں کئی مہینے لگے ‘۔ انہوں نے کہا ‘اس اتحاد کا بنیادی مقصد مفاہمت تھا۔ اس کا مقصد جموں وکشمیر کے لوگوں کے ساتھ ڈائیلاگ کرنا تھا۔ اعتماد سازی کے اقدامات اٹھانا اور پاکستان کے ساتھ اچھے رشتے کے لئے یہ اتحاد کیا تھا’۔محبوبہ مفتی نے حکومت کا حصہ بن کر دفعہ 370 کا دفاع کیا۔ ان کا کہنا تھا ‘جب یہ حکومت بنی تو لوگ دفعہ 370 اور جموں وکشمیر کے خصوصی اختیارات کو لیکر فکر مند تھے ۔ جس طرح ہم نے دفعہ 35 اے کا عدالت میں دفاع کیا۔ دفعہ 370 کا پوری طرح سے دفاع کیا۔ اعتماد سازی کے اقدامات کے تحت ہم نے 11 ہزاروں نوجوانوں کے خلاف درج کیس واپس لئے ۔ ہم نے یہاں یکطرفہ فائر بندی کرائی۔ جموں وکشمیر میں ہمارا ہمیشہ ماننا رہا ہے کہ یہاں طاقت کی پالیسی نہیں چل سکتی۔ سختی کی پالیسی یہاں نہیں چل سکتی۔ جموں وکشمیر دشمنوں کا علاقہ نہیں ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ ہم نے یہاں یکطرف فائر بندی کرائی جس کے نتیجے میں یہاں لوگوں کو کافی سکون اور آرام ملا۔ بہت برسوں کے بعد اطمینان کی فضا قائم ہوئی’۔ پی ڈی پی صدر نے کٹھوعہ عصمت دری و قتل معاملے کا ذکر کرتے ہوئے کہا ‘بی جے پی کے اقتدار میں آنے سے جموں میں اقلیتوں میں خوف کا ماحول پیدا ہوا تھا۔ لیکن ہم نے صورتحال کو بخوبی ہینڈل کیا۔ رسانہ واقعہ (کٹھوعہ عصمت دری و قتل معاملہ) پر ہم نے واضح موقف لیا’۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close