بہارکوسی

جمیعت العلماء نیپال کا تعلیمی بیداری کانفرنس اختتام پذیر

نیپال و انڈیا کے درجنوں علمائے کی ہوئی شرکت،تعلیمی زیور سے بچوں کوآراستہ کرنا ضروری:محمدمدنی

موتیہاری(محمداکرم) جمیعت العلماء نیپال کے زیر اہتمام آل نیپال تعلیمی بیداری کانفرنس کا انعقاد نیپال کے سرحدی شہر گئور کے رائس میل میدان میں کیا گیا۔جس میں نیپال کے قد آور رہنماؤں کے ساتھ ساتھ ہند و نیپال سرحدی علاقہ کے 25 ہزار فرزندان توحید نے شرکت کی۔اجلاس کے مہمان خصوصی جمعیت العماء ہند کے جنرل سیکریٹری و سابق رکن راجیہ سبھا مولانا محمود اسعد مدنی نے شرکت کی.اس موقع پرانہوں جم غفیر سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ: سچائی، ایمانداری،خیر خواہی جس شخص کے اندر یہ تینوں صلاحیت پیدا ہوگئی یا کم از کم تینوں میں سے کوئی ایک صلاحیت بھی ہو گئی تو دنیا کی کوئی طاقت اس کی ترقی کو نہیں روک سکتا.انہوں نے مزید کہا کہ اسلام جس نے تعلیم حاصل کرنے کو سبھی مسلمانوں کے اوپر فرض قرار دے ہے لیکن افسوس کہ موجودہ وقت میں جہاں سبھی چیزیں مقابلہ ہوچکا ہے اس سے محروم ہے.اپنے بچوں کو اسلامی تعلیم کے ساتھ دنیاوی تعلیم سے آراستہ کریں تبھی ہم دشمنان اسلان کی نظر میں آنکھ سے آنکھ ملاکر بات کرسکتے ہیں.انہوں نے اخیر میں جمیعت العلماء نیپال کا اظہار تشکر پیش کیا.اجلاس کی صدارت جمعیت العلماء نیپال کے صدر مولانا عبد العزیز نے کی جبکہ نظامت کے فرائض کو مولانا خالد صدیقی نے بحسن و خوبی اختتام تک پہنچایا۔اجلاس کا آغاز قاری ساجد مظاہری (مدرس مدرسہ تجوید القرآن خیروا ) نے تلاوت کلام اللہ سے کیا.وہیں قاری فیاض فیضی نے نعت نبی کا بہترین گلدستہ عقیدت پیش کیا.جبکہ مولانا ہارون خاں کے ذریعہ استقبالیہ پیش کیا گیا۔موقع پر نیپال کے صوبہ نمبر 2 وزیر اعلی محمد لال بابو راؤت گدی،آفتاب عالم رکن پارلیمنٹ، سابق وزیر جتندر سونل، جمیعت العلماء مشرقی چمپا رن کے سرپرست مولانا عبد السلام قاسمی،ڈھاکہ جامع مسجد کے امام مولانا نذر المبین ندوی،قاری ناظم ازہری،صحافی فضل المبین، مولانا تبریز ندوی،مولانا ظفیر الدین،مولانا ظفر اقبال قاسمی،مولانا شافع اقبال،،حافظ نافع کے علاوہ سیکڑوں علمائے کرام اسٹیج کی زینت بنے تھے ۔جبکہ لاکھوں کی تعداد میں سامعین نے شرکت کی.

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close