جھارکھنڈ

جھارکھنڈ اسمبلی کو بہترین اسمبلی بنائیں گے: رگھوور داس

جھارکھنڈ اسمبلی کا موسم گرما سیشن نئے گھر میں، سی ایم رگھوور داس نے کیا اعلان

رانچی: جھارکھنڈ اسمبلی کے 18 ویں یوم تاسیس پر اسمبلی اسپیکر، گورنر، وزیر اعلی اور اپوزیشن لیڈر نے جھارکھنڈ کی اسمبلی کو ملک کی بہترین اسمبلی کے طور پر قائم کرنے کا عزم لینے کی بات کہی۔ وزیر اعلی رگھوور داس نے اس موقع پر اعلان کیا کہ اگلے سال اسمبلی کا یوم تاسیس اپنے محل میں منایاجائےگا۔ جمعرات کو منعقد یوم تاسیس تقریب میں مشرقی سنگھ بھوم کے پوٹکا اسمبلی علاقے کےممبر اسمبلی مینکا سردار کو بہترین ممبر اسمبلی کے ایوارڈ سے نوازا گیا۔
وزیر اعلی رگھوور داس نے جھارکھنڈ اور جھارکھنڈ اسمبلی کو ملک میں اول نمبر پر لانے کی اپیل کی۔ انہوں نے کہا کہ پارلیمنٹ سے لے کر دیگر ریاستوں کی اسمبلی تک میں بے ترتیبی کا عالم ہے۔ ہمیں جھارکھنڈ میں نئی ​​روایت قائم کرنی ہے۔ دوسروں کے نظریہ کو بھی مناسب جگہ دینا پارلیمانی عمل کا حصہ ہے۔ سی ایم نے کہا کہ ہمیں اپنے طرز عمل کو پارلیمانی روایات کے مطابق ڈھالنے کی ضرورت ہے۔تاکہ دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت پر ہم فخر کر سکیں۔
اسمبلی سیاسی پلیٹ فارم نہیں:سی ایم نے کہا کہ اسمبلی سیاسی پلیٹ فارم نہیں ہے۔ ریاست کی سوا تین کروڑ عوام کی امید اور خواہشات کا كمنبع ہے، جہاں ہمارے عوامی نمائندے اپنے اپنے علاقے کے مسائل کو رکھتے ہیں۔ حکومت پوری ذمہ داری کے ساتھ ارکان کے سوالات کا جواب دیتی ہے۔ ریاست کے مسائل کو ختم کرنے کرنے کی سمت میں پہل کرنا حکومت کی ذمہ داری ہے۔ مسٹر داس نے کہا کہ ان کی حکومت تمام ارکان کے جذبات کو ذہن میں رکھتے ہوئے ریاست کے عوام کی خواہشات کے مطابق کام کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان کی حکومت جو وعدہ کرتی ہے، اسے پورا کرتی ہے۔ سی ایم نے کہا کہ مئی، 2019 کو جھارکھنڈ اسمبلی نئے گھر میں منتقل ہو جائے گی۔ موسم گرما سیشن نئی اسمبلی میں چلائیں گے۔
جھارکھنڈ کے بہادر سپوتو کو دیں گے احترام:سی ایم نے کہا کہ جھارکھنڈ بہادروں کی زمین ہے۔ تحریک آزادی کی پہلی چنگاری سنتال کی زمین سے اٹھی تھی۔انہوں نے کہا کہ پولیس سے لے کر فوج تک کے جوانوں کو ان کی حکومت احترام دے گی۔برسا پارک میں تحریک آزادی سے لے کر نکسلیوں سے لوہا لیتے ہوئے شہید جوانوں کی مورتی لگائی جائے گی، تاکہ جھارکھنڈ کی آنے والی نسل اپنے باپ دادا پر فخر کر سکے۔ ان سے سبق لے سکے۔
گورنر دروپدی مرمو نے اپنے خطاب میں حکومت، اپوزیشن اور عوامی نمائندوں کو نصیحت دی کہ وہ اپنے طرز عمل سے ریاست کے عوام میں مقننہ کے تئیں اعتماد پیدا کریں۔ انفارمیشن-ٹیکنالوجی دور میں ووٹر اپنے لیڈر کے ہر طرز عمل پر غور کرتا ہے۔ وہ اسمبلی میں اپنے علاقے کے اراکین اسمبلی کی طرف سے پوچھے گئے سوال کے ساتھ ساتھ حکومت کے جواب پر بھی غور کرتے ہیں۔
گورنر نے کہا کہ سیاستدانوں سے عام لوگوں کی توقعات بھی بڑھ رہی ہیں۔ لہذا سیاست میں سرگرم لوگوں اور جمہوری طریقے سے منتخب کئے گئے عوامی نمائندوں کو اس کے بارے میں سوچنا چاہئے۔ انہیں یہ دیکھنا چاہیے کہ وہ اپنے علاقے کے عوام کی توقعات پر کتنے کھرے اترے ہیں۔ گورنر نے کہا کہ پڑھے لکھے لوگ اپنا مقابلہ دنیا کے دیگر ترقی یافتہ ممالک سے کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جھارکھنڈ ترقی کی راہ پر گامزن ہے، لیکن ترقی کی رفتار کو اور تیز کرنے کی ضرورت ہے۔
انہوں نے اراکین اسمبلی سے اپیل کی کہ ان کی آواز پابند ہونی چاہئے۔انہیں اپنے کام پر توجہ دینی چاہئے۔ گورنر نے کہا کہ بہت توقع، امید اور اعتماد کے ساتھ عوام نے آپ کو چنا ہے۔ جن لوگوں نے آپ کوچنا ہے، ان کی ترقی کے لئے آپ ذمہ دار ہیں۔
پارلیمنٹ اور مقننہ کی ہی ذمہ داری ہے کہ وہ ریاست کی ترقی کریں۔ اس میں ایگزیکٹو کا کردار اہم ہے۔ کابینہ کے ارکان اور ممبران اسمبلی کو اس کا خیال رکھنا چاہئے۔
گورنر نے ممبران اسمبلی سے کہا کہ وہ دیگر ریاستوں کی سرگرمیوں اور منصوبوں سے بھی آگاہ ہوں۔ اپنے علاقے کے عوام کی ضروریات کے مطابق منصوبے بنائیں۔ اس کے لئے دیگر ریاستوں کے منصوبوں کا بھی مطالعہ کریں۔ ریاست میں ایسا ماحول بنائیں کہ عوام اپنے لیڈر کو ایماندار مانے۔ اسمبلی کے ارکان سے کہا کہ جب کوئی بل ایوان میں آئے، تو اس کے ڈرافٹ کا مطالعہ کریں، اس پر غور فکر کریں۔ عوام پر پڑنے والے اثرات کے بارے میں غور خوض بھی کریں، تبھی آپ ان کےفرائض کی ادائیگی کر پائیں گے۔
مسز مرمو نے کہا کہ ایوان میں بحث ہو۔ سب کی بات سنی جائے، کیونکہ جمہوری نظام میں اقتدار اور اپوزیشن دونوں ہی اہم شراکت ہے۔ اراکین کو سچ بات ایوان میں رکھنی چاہئے۔ عوام کو آپ کے طرزعمل کا بھی اندازہ ہوتا ہے۔ آپ کے سوالات کو تو سنتی ہی ہیں، حکومت کے جواب پر بھی نظر رکھتےہیں۔ لہذا حکومت کو مناسب جواب دینا چاہئے۔ مفاد عامہ کی بات چھوٹ جائے، تو اپوزیشن کی ذمہ داری ہے کہ حکومت کا اس طرف متوجہ کرائے۔ انہوں نے کہا کہ ایوان کے وقار کو ٹھیس نہ پہنچے، اس کا بھی خیال رکھیں۔ اپوزیشن کی تخلیقی کردار نبھائیں۔ تخلیقی مشورہ دے اور حکومت اس کی باتوں کو سنے اور اس پر عمل بھی کرے۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close