پٹنہ

جی ایس ٹی کی طرح ہی ہو تعلیم اور صحت: پپو یادو

بچوں کی کتابیں، لباس اور تعلیم پر جی ایس ٹی کی شرح ہو کم

پٹنہ،نامہ : جن ادھیکار پارٹی (لو) کے سرپرست اور رہنما راجیش رنجن عرف پپو یادو نے کہا ہے کہ جی ایس ٹی کی طرح تعلیم اور صحت کی خدمات بھی ایک جیسی ہونی چاہئے۔ صحافیوں سے بات چیت میں انہوں نے کہا کہ جب ملک میں ایک جی ایس ٹی ہو سکتی ہے تو ایک جیسی تعلیم اور یکساں صحت کی خدمات کی بات کیوں نہیں کی جاتی ہے۔مسٹر یادو نے کہا کہ بہار کو جی ایس ٹی کی وجہ سے بھاری نقصان اٹھانا پڑ رہا ہے۔ حکومت نے جی ایس ٹی کی کئی شرح کا تعین کیا ہے۔کسان سب سے زیادہ پٹرول، ڈیزل، بیج اور کھاد کا استعمال کرتے ہیں۔ اس پر جی ایس ٹی کی کیا صورت حال ہے۔ دودھ پر 18 فیصد جی ایس ٹی لگا دیا گیا ہے۔جی ایس ٹی کی شرح میں ایسی عدم مساوات کسی اور ملک میں نہیں ہے۔ممبر پارلیمنٹ نے کہا کہ بچوں کی کتابیں، لباس اور تعلیم پر جی ایس ٹی کی شرح کم ہونی چاہئے۔ اس کے ساتھ ہی بدعنوانی پر روک لگانے کے لئے ضروری ہے کہ اخلاقی تعلیم پر زور دیا جائے۔ شخصیت کی تعمیر درست سمت میں کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ 75-80 فیصد لوگ غیر منظم علاقوں میں کام کرتے ہیں۔ ان کی بہتری کے لئے کچھ نہیں کیا گیا، جبکہ جی ایس ٹی کا فائدہ بھی بڑے تاجروں کو ملے گا۔ممبر پارلیمنٹ نے مظفر پور عصمت دری سانحہ کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ حکام، بروکرز اور این جی او کی ملی بھگت سے ملک بھر میں شیلٹر ہوم جنسی تشدد کے مرکز بن گئے ہیں۔ ملک کے مختلف ریاستوں کے شیلٹر ہوم میں جنسی تشدد کے واقعات ابھر کے آ رہے ہیں۔ جن ادھیکار پارٹی (لو) خواتین کے اعزاز کے لئے جدوجہد کرتی رہے گی اور پارلیمنٹ سے سڑک تک آواز اٹھاتی رہے گی۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close