بین الاقوامی

جی 20:کثیر جہتی تجارتی نظام اور ڈبلیو ٹی او میں بہتری کی اپیل

نیونس آیرس:ارجینٹنا کے دارالحکومت بیونس آیرس میں ہورہی جی 20کانفرنس کا ممبر ملکوں کے کثیر جہتی تجارتی نظام اور عالمی تجارتی تنظیم(ڈبلیو ٹی او)میں بہتری کی اپیل کے ساتھ اختتام ہوگیا۔آخری اعلامیہ میں کہاگیا،’’حالیہ نظام اپنے مقصد کو پورا نہیں کرپارہا ہے اور اس میں بہتری کی گنجائش ہے۔اس لئے ہم عالمی تجارتی تنظیم میں ضروری اصلاح کی حمایت کرتےہیں۔‘‘ممبر ملکوں نے کہا ،’’بین الاقوامی تجارت اور غیرملکی ترقی ،پیداواریت ،اپ گریڈیشن،روزگار کے اہم ذرائع ہیں۔ہم اس میں کثیر جہتی تجارتی نظام کے ذریعہ جارہے اہم تعاون کو تسلیم کرتےہیں۔‘‘موسمیاتی تبدیلی کے ضمن میں جی 20 لیڈروں کے اعلامیہ میں کہاگیا ،’’پیرس معاہدے پر دستخط کرنے والے ممالک ایک بار پھر اس بات کی توثیق کرتے ہیں کہ پیرس معاہدے میں تبدیلی نہیں کی جاسکتی اور اس کی مکمل طورپر عمل درآمدگی کےلئے ہم پرعزم ہیں لیکن رکن ممالک کی صلاحیت کے مطابق ذمہ داری مختلف ہیں۔‘‘ارجینٹنا کے صدر موریسیو میکری نے جی 20چوٹی کانفرنس میں سبھی لیڈروں کی حمایت یافتہ منشور خلاصہ پیش کیا اور ارجینٹینا کو بین الاقوامی برادری کے ذریعہ دئے جارہے تعاون پر زور دیا۔مسٹر میکری نے کہا،’’ہم سبھی نے قابل تجدید توانائی کو مضبوط حمایت دینے کے اپنے عزم کو جاری رکھنے پر اتفاق ظاہر کیا ہے۔‘‘دو روزہ جی 20 چوٹی کانفرنس میں سبھی ملکوں نے پیرس معاہدے کی حمایت کی لیکن امریکہ نے اس معاہدے سے علحیدہ رہنے کی بات دہرائی۔برازیل کے نومنتخب صدر زائر بولسونارو نے بھی کہا کہ وہ ملک کی زرعی پیداوار کو نقصان پہنچانے والے کسی بھی ایسے ماحولیاتی معاہدے پر دستخط نہیں کریں گے۔
آخری اعلامیہ میں جی 20لیڈروں نے گزشتہ سال جرمنی کے ہیم برگ میں ہوئی جی 20کانفرنس کے انسداد دہشت گردی بیان کے تئیں عہدبندی کااظہار کیا۔عالمی لیڈروں نے دہشت گردی،منی لانڈرنگ سے نمٹنے اور مالیاتی شعبہ کو وسعت دینے کی کوششوں کو تیز کرنے کا عزم کیا۔لیڈروں نے سوشل میڈیا اور انٹرنیٹ کا استعمال کرکے دہشت گردی پھیلانےکے خلاف مل کر لڑنے کی اپیل کی۔
انہوں نے کہا کہ موسمیاتی تبدیلی پر تقریباً صورت حال جوں کی توں بنی ہوئی ہے لیکن اب پیچھے ہٹنے کا سوال ہی نہیں ہے۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close