تبصرہ کتب

حافظ شجاعت علیہ الرحمہ کا بے مثال کارنامہ!

ازقلم: محمد ثاقب اعظمی قاسمی
فیضانِ شُجاعت سوانح عُمری نمونہ اسلاف حافظ شُجاعت علی صاحب علیہ الرحمہ نامی کتاب بذریعہ حافظ عبیدالرحمن صاحب ضلع مہراج گنج دستیاب ہوئی، قابل مبارکباد ہیں مولانا نوراللہ نور قاسمی صاحب جو اس کتاب کے مرتب ہیں، جنھوں نے اپنی محنت اور کاوش کے ذریعہ ایسی مؤقر اور عَبقری شخصیت سے ہم سب کو واقف کرایا، کتاب کی سُرخی دیکھ کر ایک بڑی شخصیت کا اندازہ ہوا، چنانچہ بڑی گہرائی و گیرائی سے کتاب کا مطالعہ شروع کیا، اس کتاب میں جتنا غوطہ زنی کی، اسی قدر شخصیت نِکھرتی چلی گئی، پہلے والدین کے حالات کا جائزہ لیا، تو والد محترم محمودالحسن رح کے زہد وتقوی اور جَفاکشی کا اندازہ ہوا، جنھوں نے مدرسہ عربیہ سعیدیہ اشرف العلوم کُرتھیا ضلع مہراج گنج کے قیام اور پروان چڑھانے میں نمایاں کردار ادا کیا۔
وہیں والدہ ماجدہ کے ورع وپرہیزگاری کا بھی علم ہوا، حافظ شُجاعت علیہ الرحمہ کی ولادت ۱۹۴۱ء سے لیکر وفات ۱۹۹۸ء تک جو علمی و روحانی کارنامہ انجام پایا وہ انتہائی تابناک ہے۔ ابتدائی تعلیم مدرسہ عربیہ سعیدیہ اشرف العلوم اورحفظ و نصف عالمیت مدرسہ منبع العلوم ضلع غازی آباد کے تعلیمی انہماک اور علمی ذوق و شوق بندہ پڑھ کر ششدر رہ گیا، اس کتاب میں سب سے زیادہ مؤثر قصہ تعلیمی دور ہے کہ بے پایاں جذبہ کی وجہ سے تقریباً سات یا آٹھ سال غازی آباد میں گزار دیئے لیکن وطن واپس نہیں آئے، اور والدین نے بھی عِلم دین سے آراستہ و مُزین کرنے کیلئے اپنے دُلارے کی محبت پر پردہ ڈال دیا، اور دُلارا بھی والدین کی خواہش کے مطابق ثابت قدم رہا، بالآخر گھریلو حالات ناساز ہونے پر تعلیمی سلسلہ منقطع کرنا پڑا، اور گھر واپس ہونے پر والدہ بھی شکل و صورت تبدیل ہونے کی وجہ سے پہچاننے سے قاصر رہیں، بعد شناخت گلے لگایا، اللہ تعالی نے اس پر خُلوص جذبہ اور عزم و حوصلہ پر ایسا صلہ دیا کہ وہی دُلارا حافظ شُجاعت کی شکل میں وہ کارنامہ انجام دیا جس سے والدین کی روح کو بھی صدقہ جاریہ کا ثمرہ ملتا رہے گا.
بندہ تو اس قسم کا نادر الوقوع قصہ تو سنا تھا لیکن حافظ جی رح کے حالیہ قصے نے ضمیر کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا کہ ہم لوگ تعلیمی میدان میں صفر کے مانند ہیں۔ اور حافظ جی رح کی جو بھی خوبیاں اور صِفات تحریر کی گئی ہیں۔ ہر ایک لائق تقلید اور قابل عمل ہیں۔ خواہ وہ اخلاق و عادات ہوں، یا درس و تدریس کا اِنہماک ہو، لباس کی سادگی و تواضع ہو، یا فیاضی و قناعت ہو، حلم وبردباری ہو یا غمخواری وغمگساری ہو۔
اسی طرح حافظ جی رح کی تبلیغی سرگرمیوں سے بھی بندہ واقف ہوا، علاقے کی جہالت اور علمی تشنگی دور کرنے کیلئے کُرتھیا، آنند نگر مدرسہ دار الفلاح، کمہریا وغیرہ میں تدریسی خدمت انجام دیا۔ اور گوپلا پور شاہ میں جامع العلوم کی ازخود بنیاد رکھ کر آخری سانس تک تدریس میں مشغول ہو کر عظیم خدمات انجام دیئے جس کو علاقہ کبھی فراموش نہیں کرسکتا۔ دعوت و تبلیغ سے علاقے کے لوگ ناواقف تھے حافظ جی رح کی کاوش اور تحریک کی وجہ سے شِرک وبدعات کے بادل چھٹ گئے۔ اور لوگ شریعت و سنّت کی طرف مائل ہوئے جو حافظ جی رح کا عظیم کارنامہ ہے۔
موصوف کے اخلاق وکردار سے غیر بھی متاثر تھا جو قابل غور بات ہے۔ ایسی شخصیت خال خال نظر آتی ہیں کہ جن پر غیر بھی دلدادہ اور گرویدہ ہوں۔ یہ سب خدائی کرشمہ ہے کہ اللہ تعالی نے ایسی عَبقری شخصیت کو وجود میں لاکر علاقے کو روشن ومنور کیا، اس پر جتنی بھی شُکر گزاری کی جائے کم ہے۔
حافظ جی رح ایک باکمال پیر و مرشد شیخ المشائخ حضرت مولانا انعام الحسن صاحب رحمتہ اللہ علیہ کے صحبت یافتہ تھے۔ اس فیض باکمال نے وہ جلوہ بکھیرہ کہ دنیا اسی مشعل راہ پر سفر طے کررہی ہے۔
بندہ بیحد ممنون و مشکور ہے حافظ عبیدالرحمن صاحب مقیم حال سعودیہ عربیہ کا جنہوں نے اس کتاب کا پرخُلوص ہدیہ پیش کرکے اس نعمت عُظمی سے واقف کرایا، نیز شمس الضحی اور شمس الہدی قاسمی صاحبزادگان کی تحریک وتعاون ترتیب لائق تحسین اور سراہنی قدم ہے۔ اللہ تعالی اس فیض کو تا قیامت جاری رکھے۔آمین

Show More

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close