دہلیہندوستان

حج وفود کے ساتھ یونانی ڈاکٹروں کو بھی تعینات کیا جائے گا

آل انڈیا یونانی طبّی کانگریس کی جانب سے تہنیتی جلسہ میں مشیر یونانی ڈاکٹر محمد طاہر کا اعلان

نئی دہلی:جامعہ ملیہ اسلامیہ میں نہرو گیسٹ ہائوس کے کانفرنس ہال میں آل انڈیا یونانی طبّی کانگریس کی جانب سے جسٹس این کے جین (چیئرمین، نیشنل کمیشن فار مائنارٹی ایجوکیشنل انسٹی ٹیوشنز، نئی دہلی)، ڈاکٹر محمد طاہر (ایڈوائزر یونانی، وزارتِ آیوش، حکومت ہند)، پروفیسر عاصم علی خان (ڈائرکٹر جنرل، سی سی آریو ایم، وزارتِ آیوش، حکومت ہند)، پروفیسر شہپر رسول (وائس چیئرمین، اردو اکادمی دہلی و صدر شعبۂ اردو، جامعہ ملیہ اسلامیہ) اور ڈاکٹر مسرور علی قریشی (پی ایچ ڈی یونانی، ریسرچ آفیسر آرآر آئی یو ایم ممبئی) کے اعزاز میں جلسۂ تہنیت کا انعقاد کیا گیا اور انہیں شال اور مومنٹو سے سرفراز کیا گیا۔ اس موقع پر کانگریس پارٹی کے ترجمان اور معروف صحافی جناب م افضل نے کہا کہ پہلے یونانی ادارے بہت کم تھے لیکن اب اس میں بہت زیادہ اضافہ ہوگیا ہے جو کہ بہت زیادہ خوش آئند ہے۔ انہوں نے کہا کہ طب یونانی کے فروغ کے لیے صرف اردو اخبارات کا ہی سہارا لیا جاتا ہے۔ پروفیسر محمد ادریس (پرنسپل، طبیہ کالج قرول باغ) نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ جسٹس جین صاحب ہمارے لیے اس لیے بھی اہم ہیں کیونکہ انہیں قومی اقلیتی تعلیمی ادارہ جات، حکومت ہند کے چیئرمین کی ذمہ داری سونپی گئی ہے اور اُمید کی جاتی ہے کہ بانی چیئرمین قومی اقلیتی تعلیمی ادارہ جات، حکومت ہند جسٹس محمد سہیل اعجاز صدیقی نے جو طرح ڈالی ہے اس کو ایمان داری سے وہ نبھائیں گے۔ وہ ہمارے درمیان تشریف لائے اُن کا تہہ دل سے خیرمقدم ہے۔ اسی طرح انہوں نے ڈائرکٹر جنرل سی سی آریوایم ڈاکٹر عاصم علی خان اور دوسرے حضرات جنہیں تہنیت پیش کی گئی اُن کی اہمیت پر بھی روشنی ڈالی۔ جسٹس این کے جین نے کہا کہ قومی اقلیتی تعلیمی ادارہ جات حکومت ہند کا مقصد اقلیتوں کے اداروں کو تحفظ فراہم کرنا اور ان میں اقلیتی ادارے قائم کرنے کا آئینی جواز فراہم کرنا ہے۔ اقلیتیں اپنے تعلیمی اداروں کے تعلق سے کسی بھی قسم کی تشویش میں مبتلا نہ ہوں۔ ہر ممکن ان کے حقوق کا تحفظ کیا جائے گا۔ قبل ازیں پروگرام کے آرگنائزر اور آل انڈیا یونانی طبّی کانگریس کے سکریٹری جنرل ڈاکٹر سیّد احمد خاں نے کہا کہ تہنیتی جلسہ کا بنیادی مقصد ایک دوسرے کے قریب ہونا اور معاونت کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ آج ہم نے جن شخصیات کو تہنیت پیش کی ہے ان سے اُمید کرتے ہیں کہ وہ اپنے فرائض منصبی پر کھرااُتریں گے نیز ان کی شرکت سے ہماری مجلس کی رونق میں اضافہ ہوا۔ ہم اُن کے بے حد مشکور ہیں۔ پروفیسر شہپر رسول نے کہا کہ ڈاکٹر سیّد احمد خاں اور ان کے رفقا اپنے اور اپنی تنظیم کے ذریعہ بہت اہم کام انجام دے رہے ہیں، مجھے خوشی ہے کہ انہوں نے ہمیں اس پروگرام میں کچھ کہنے کا موقع عنایت فرمایا۔ ڈاکٹر محمد طاہر نے کہا کہ 2014 کے بعد طب یونانی کے فروغ میں کافی اضافہ ہوا ہے، میں اس کے فروغ اور ترقی کے لیے کوششیں جاری رکھوں گا۔ انہوں نے کہا کہ ابھی تک حج وفود کے ساتھ یونانی ڈاکٹروں کی تعیناتی نہیں ہوپائی ہے لیکن میں ہر ممکن کوشش کروں گا کہ ملک سے لاکھوں حاجیوں کی تعداد ہر سال مکہ شریف اور مدینہ شریف جاتے ہیں اُن کی خدمت کے لیے یونانی ڈاکٹروں کی تعیناتی ہونی چاہیے کیونکہ یہ حضرات ہندوستان میں یونانی طریقہ علاج کو ترجیحاً استعمال کرتے ہیں۔ پروفیسر الطاف احمد اعظمی نے طب یونانی کے فروغ کے لیے انتہائی اہم تجاویز رکھیں۔ ڈائرکٹر جنرل سی سی آریوایم ڈاکٹرعاصم علی خاں نے بھی اظہار خیال کرتے ہوئے سی سی آریو ایم میں تحقیقی اور ترقیاتی پروگراموں کا ذکر کیا نیز سی سی آریو ایم کو مزید فعال بنانے پر زور دیا۔ ڈاکٹر مشتاق احمد نے اپنے صدارتی خطاب میں جسٹس این کے جین اور پروگرام میں شریک وزارتِ آیوش اور دیگر عہدے داران سے مخاطب ہوکر کہا کہ ملک میں مسلمانوں، عیسائیوں، جینیوں اور دیگر اقلیتوں کو آپ لوگوں سے بہت زیادہ امیدیں وابستہ ہیں لہٰذا آپ لوگوں کو یونانی میڈیسن کے فروغ اور اقلیتوں کے سپورٹ میں مخلصانہ طور پر کرناچاہیے۔ اس کے علاوہ ڈاکٹر الطاف، ڈاکٹر مسرور علی قریشی و دیگر حضرات نے بھی اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ اس موقع پر محمد خلیل (سائنٹسٹ)، حکیم خورشید احمد شفقت اعظمی، حکیم محمد احمد خاں، حکیم شمس الآفاق، حکیم محمد شمعون، ڈاکٹر سیّد اسد رضا زیدی، ڈاکٹر شبیر احمد، ڈاکٹر محمد خالد، ڈاکٹر عبدالرحیم، ڈاکٹر محمد فضیل، ڈاکٹر ناہید خاتون، ڈاکٹر نکہت، ڈاکٹر قمرالدین ذاکر، ڈاکٹر عبدالسلام رامپوری، ڈاکٹر ارشد غیاث، ڈاکٹر عبداللہ خاں رئوف، ڈاکٹر صلاح الدین، حکیم عطاء الرحمن اجملی، محمد عارف اقبال، ڈاکٹر عبدالحی، جاوید اختر، فصیح الزماں، اشرف علی بستوی، فاروق سلیم، محمد جلیس (لمرا)، مقبول حسن (نیچر اینڈ نرچر)، محمد عادل (کیورس)، محمد اویس گورکھپوری اور محمد عمران قنوجی وغیرہ اہم شخصیات نے شرکت کی۔ نظامت کے فرائض معروف صحافی سہیل انجم نے انجام دیے جبکہ پروگرام کا آغاز یونائیٹڈ مسلم آف انڈیا دہلی کے صدر مولانا ایم رضوان اختر قاسمی کی تلاوت کلام پاک سے ہوا اور تمام شرکاء کا شکریہ ڈاکٹر صغیر احمد صدیقی نے ادا کیا۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close