اسلامیات

حضرت صدرالشریعہ کے رخِ حیات کی چندجھلکیاں

( 2؍ذیقعدہ آپؒ کے یوم ِوصال پرخصوصی تحریر)

سرزمین ہندنے جن عظیم المرتبت اورنابغۂ روزگارشخصیتوں کوپیداکیاہے اُن میں ایک نمایاشخصیت فقیہ اعظم ہند،صدرالشریعہ،بدرالطریقہ،خلیفۂ حضوراعلیٰ حضرت امام احمدرضاخان فاضل بریلویؒ،حضرت علامہ مولانامفتی ابوالعلاحکیم محمدامجدعلی اعظمی علیہ الرحمۃ والرضوان (مصنف بہارشریعت)کی ہے۔آپؒ مشرقی یوپی کے مشہورومعروف قصبہ ’’مدینۃ العلماء گھوسی‘‘محلہ کریم الدین پور،قدیم ضلع اعظم گڑھ اورحال ضلع مئو(یوپی) 1296؁ھ- 1878؁ء میں بزم ہستی میں رونق افروز ہوئے۔قصبہ گھوسی وہی تاریخی مقام ہے جہاں قدیم راجگانِ ہندکے بعض آثاراوران کاقلعہ کوٹ کے نام سے اب بھی موجودہے۔موجودہ دورمیں ’’گھوسی‘‘کی وجہِ شہرت حضورصدرالشریعہ مولاناامجدعلی اعظمی علیہ الرحمۃ والرضوان کی جائے ولادت ومقدس آرام گاہ اورایک کثیرتعدادمیں علماء کرام وطلباء دین متین کی موجودگی ہے۔ایک محتاط اندازے کے مطابق شہرگھوسی کے ہرگھرمیںتقریباًدو(2)علماء موجودہیں۔اس لئے اس قصبے کادوسرانام’’مدینۃ العلماء‘‘بھی ہے۔ ؎
ہے گھوسی سر زمین ہند کا وہ محترم خطہ نہ جانے کتنے گوہر ہیں نہاں جس کے دفینے میں
آپؒ کامبارک خاندان:آپؒ کاگھرانہ علوم وفنون اسلامیہ کادلدادہ تھا‘والدماجداورجدامجدکو علم طب میں مہارت تامہ حاصل تھی۔آپؒ کے داداجان مولاناخدابخشؒصاحب جب حج کے لئے تشریف لے گئے تومدینہ طیبہ میں شیخ الدلائل سے دلائل الخیرات شریف کی اجازت حاصل کی اوریہ صاحبِ کرامت ولی وبزرگ تھے۔والدمکرم مولاناحکیم جمال الدین عالم وفاضل اورماہرطبیب تھے۔طبی مہارت اورریاست عظمت گڑھ کاماہرترین طبیب ہونے کی وجہ سے آپ کاہرطرف چرچاوشہرہ تھا۔
آپ ؒکی تعلیم: آپؒنے ابتدائی تعلیم اپنے داداجان مولاناخدابخش صاحبؒ سے حاصل کی ۔ان کے وصال کے بعدمولوی الٰہی بخش صاحب ؒسے کچھ پڑھاجوآپؒ کے قصبہ گھوسی ہی میں مدرس تھے۔پھرشوال المکرم314 1؁ھ میں جونپورکے لئے عازم سفرہوئے۔اس زمانہ میں ریل گاڑی کی سہولت ان جگہوں کے لئے نہ تھی،گھوسی سے اعظم گڑھ (جوتقریباً40؍کیلومیٹرہے)پیدل اوروہاں سے جونپوراونٹ گاڑی پرسوارہوکرپہنچے۔ان دنوں مدرسہ حنفیہ جونپورمیں حضرت استاذ الاساتذہ مولاناہدایت اللہ خان صاحب رامپوریؒ کے علمی فیضان کاباڑابٹ رہاتھا۔علوم دینیہ کے متلاشی دُوردُورسے یہاں پہنچ رہے تھے۔آپؒ نے کچھ دن ابتدائی کتابیںاپنے چچازادبھائی مولانامحمدصدیق صاحب اورمولاناسیدہادی حسن صاحب سے پڑھیںپھرحضرت مولاناہدایت اللہ خان ؒرامپوری صاحب سے اکتساب فیض کیا۔حضرت مولاناہدایت اللہ خان صاحب رامپوریؒ اپنے زمانے میں ایک منفردشخصیت کے مالک تھے۔علم وفضل میں فقیدالمثال بالخصوص معقولات وحکمت میںاپنی مثال آپ تھے۔مدتوں اُن کی خدمت اقدس میں رہ کرعلوم وفنون کی تحصیل کی ۔شروع ہی سے پڑھانے کاذوق وشوق زیادہ تھایہاں تک کہ کافیہ،تہذیب اورشرح تہذیب پڑھنے کے زمانے میں ان سے نیچے کی تمام کتابیں طلباء کوپڑھایاکرتے تھے۔علوم وفنون کی تکمیل کے بعدحجۃ العصر،شیخ المحدثین مولاناشاہ وصی احمدمحدِّث صورتی قدس سرہٗ العزیز ( 334 1؁ھ – 916 1؁ء)کی خدمت میں مدرسۃ الحدیث (پیلی بھیت شریف)حاضرہوکردرس حدیث لیا۔اورسندفراغت حاصل کی۔
قوت حافظہ: حضرت صدرالشریعہ علیہ الرحمۃوالرضوان کاحافظہ بہت مضبوط و قوی تھا۔حافظہ کی قوت ‘شوق ومحنت اورذہن کی سلامت روی کی وجہ سے تمام طلبہ سے بہترسمجھے جاتے تھے۔ایک مرتبہ کتاب دیکھنے یاسننے سے برسوں تک ایسے یادرہتی تھی جیسے ابھی دیکھی یاسنی ہو۔تین مرتبہ کسی عبارت کوپڑھ لیتے تھے تویادہوجاتی۔ایک مرتبہ ارادہ کیاکہ’’کافیہ‘‘کی عبارت زبانی یادکی جائے توفائدہ مندہوگااس لئے پوری کتاب ایک ہی دن میںیادکرلی۔
حکیم عبدالولی جھوائی ٹولہ لکھنؤ سے علم طب حاصل کیا۔24؍ہجری سے 27؍ہجری تک حضرت محدث صورتی ؒکے مدرسہ میںدرس دیا۔اس کے بعدایک سال تک پٹنہ میں مطب کرتے رہے۔اسی اثناء میں اعلیٰ حضرت امام احمدرضاقادری بریلوی قدس سرہٗ العزیزکومدرسہ منظراسلام بریلی شریف کے لئے ایک مدرس کی ضرورت پیش آئی ۔استاذ گرامی مولاناوصی احمدمحدث سورتی کے ارشادپرحضرت مولانا امجدعلی اعظمی صاحبؒ (مصنف بہارشریعت)مطب چھوڑکربریلی شریف چلے گئے۔ابتداء تدریس کاکام شروع کردیا۔بعدازاں مطبع اہلسنت کاانتظام ‘اورجماعت رضائے مصطفی بریلی شریف کے شعبہ ٔ علمیہ کی صدارت کے فرائض بھی آپ کے سپردکردئے گئے۔افتاء کی مصروفیات اس کے علاوہ تھیں‘سلسلۂ عالیہ قادریہ میں اعلیٰ حضرت امام احمدرضاقادری بریلوی قدس سرہٗ العزیزکے دستِ حق پرست پربیعت ہوئے۔اورجلدہی خلافت سے بھی نوازے گئے،تقریباً18 ؍برس شیخ کامل کے فیوض وبرکات سے مستفیدہوئے۔اورکمال عروج کوپہنچے۔حضوراعلیٰ حضرت امام احمدرضاخان قادری بریلوی قدس سرہ ٗ العزیزفتاویٰ کے سلسلے میں آپ پرحددرجہ اعتمادفرماتے تھے۔ایک دفعہ فرمایاکہ:’’آپ یہاں کے موجودین میں تفقہ جس کانام ہے وہ مولوی امجدعلی صاحب میں زیادہ پائیے گا۔اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ استفتاء سنایاکرتے ہیں۔اورجومیں جواب دیتاہوں لکھتے ہیں۔طبیعت اخّاذہے۔طرزسے واقفیت ہوچلی ہے‘‘۔تلامذہ اورخلفاء کاذکرکرتے ہوئے فرماتے ہیں۔
میرااَمْجَدْمَجدکاپکا اس سے بہت کچیاتے یہ ہیں
صدرالعلماء مولاناغلام جیلانی میرٹھی علیہ الرحمہ نے فرمایا:’’آپ کوفقہ کے جمیع ابواب کے تمام جزئیات ان کے تفصیلی دلائل کے ساتھ مستحضرتھے‘‘۔شیخ العلماء حضرت مولاناغلام جیلانی اعظمی گھوسَوی فرماتے ہیںکہ: آپ ؒشریعت وطریقت دونوں علموں کے جیدعالم اورعامل تھے۔اتباع ِسنت میںبھی آپؒ کوغایت درجہ کاکمال حاصل تھا۔بڑوں کاادب‘چھوٹوں پرشفقت‘معاملات کی صفائی‘لوگوں کی خطااورقصورکومعاف کردیناآپ کاطریقۂ کارتھا۔ظاہروباطن قول وفعل‘خلوت وجلوت میں آپ یکساں تھے۔آپ کے مواعظ ونصائح حکیمانہ ہوتے۔امربالمعروف ونہی عن المنکرمؤثرطورپرفرماتے۔اَکل حلال وصدقِ مقال آپ کاشیوہ تھا۔ صادگی وتواضع کے ساتھ صاحبِ رعب وجلال بھی تھے۔کسی جری وبے باک کوبھی آپ کے روبروبے باکی کے ساتھ کلام کرنے کی جرأت وہمت نہ ہوتی۔حُسن اخلاق،صبروشکر،توکل وقناعت،خودداری واستغناء،آپؒ کے امتیازات وخصوصیات میں سے تھے۔آپ زہدواتقاکے بلندمدارج پرفائزتھے۔بلاشبہ آپ ولی کامل تھے۔(ماہنامہ فیض الرسول،مارچ966 1؁ء)
علم شریعت اعمال ظاہرکی صفائی وصحت کے قوانین کامجموعہ ہوتاہے۔(اگرچہ یہ قوانین بھی باطن کی بنیادپرہی ہوتے ہیں)۔اورعلم طریقت باطن کے تزکیہ کے اصول بتاتاہے۔زیادہ مشکل اوراہم باطن کی طہارت ہے۔صدرالشریعہ علیہ الرحمہ دونوں کے جامع تھے۔اس لئے ان کی درسگاہ فیض سے جوبھی گوہر آب دارنکلا،علم ظاہرکے ساتھ ساتھ علم باطن کابھی حامل نظرآیا۔خوف خدااوراِخلاص وتقویٰ اگرمؤمن کی حیات میںپورے طورپر جگہ بنالے تووہی صاحب باطن ہوجاتاہے اوراس کی شریعت بھی طریقت کی جلوہ گاہ ہوجاتی ہے،اورطریقت شریعت کی امانت دار۔اگرچہ ظاہربیں کویہی نظرآئے گاکہ اس کی عبادت اورمعاملت ویسی ہی ہے جیسی میری۔مگرکہاں وہ نمازجوجسموں کے پیچ وخم پرمبنی ہواورکہاں وہ نمازجومشاہدۂ ذات،اِخلاص کامل اورخشوع تام کامخزن ہو۔کہاں وہ معاملت جس کامطمح نظردنیاکے آرام اوردولت کی ذخیرہ اندوزی سے زیادہ نہ ہواورکہاں وہ معاملت جوکامل خوف خداکے ساتھ اس طرح ہو کہ حضرت امام اعظم ابوحنیفہ کے شاگردحضرت امام محمدبن حسن شیبانی رضی اللہ تعالیٰ عنہماکے بقول مؤمن کوولی بنادے۔حضرت صدالشریعہ کی زندگی نگاہ ظاہرمیں درس وتدریس‘تصنیف واشاعت‘کتاب کی ترسیل وتجارت میں گھری ہوئی تھی لیکن یہ سب کام ایسے پاک جذبہ‘اوربلندنصب العین کے تحت ہورہے تھے جہاں حرصِ مال‘ہَوس ِشہرت اورکِبرونخوت پامال ہوکررہ گئے اورجہاں دنیاداری کاگزرہی نہیں۔جوسراسردین ‘آخرت اوررضائے مولیٰ کے لئے تھی۔یہی وجہ ہے کہ قدرت نے اُن کے فیض کودوام بخشاہے اوران کے دبستانِ علم کاجلوہ آج بھی عام ہے۔
بریلی شریف میں قیام کے دوران حضرت صدرالشریعہ کی مصروفیات حیرت انگیز حدتک بڑھی ہوئی تھیں،تدریس‘پریس کی نگرانی‘پروف ریڈنگ‘پریس مینوں کوہدایات‘پارسلوں کی ترسیل اورفتویٰ نویسی وغیرہ امورتنِ تنہاانجام دیتے ۔فیض رضانے دین کے لئے کام کرنے کی وہ اکسپرٹ پیداکردی تھی کہ تھکاوٹ یااکتاہٹ کاسوال ہی پیدانہ ہوتاتھا۔بعض حضرات تویہاں تک کہاکرتے تھے کہ ’’مولاناامجدعلی توکام کی مشین ہیں‘‘۔اعلیٰ حضرت مجدددین وملت مولاناشاہ احمدرضاخان بریلوی قدس سرہٗ العزیزکافقیدالمثال ترجمۂ قرآن مجیدمسمّٰی باسم تاریخی’’کنزالایمان فی ترجمۃ القرآن‘‘(1330 ھ – 1911ھ)آپ ہی کی مساعی جمیلہ سے شروع ہوا۔اورپایۂ تکمیل کوپہنچا۔
آپ نے ابتدائے شباب سے تدریس کاکام شروع کیا۔اورآخرحیات تک جاری رکھا۔اورایسے نابغۂ روزگارافرادتیارکئے جن پرعلم وفضل کوبھی نازہے۔طویل عرصہ تک مدرسہ منظراسلام بریلی میں فرائض ِ تدریس انجام دیئے۔
343 1؁ھ – 924 1؁ء میں بحیثیت صدرالمدرسین دارالعلوم معینیہ عثمانیہ اجمیرشریف چلے گئے۔اجمیرشریف کے قرب وجوارمیں راجہ پرتھوی راج کی اولادآبادتھی۔جواگرچہ مسلمان ہوچکی تھی۔لیکن اُن میں فرائض وواجبات سے غفلت اورمشرکانہ رسوم بہ کثرت پائی جاتی تھیں۔حضرت صدالشریعہؒ کی ایماء پرآپ کے تلامذہ نے اُن میں تبلیغ کاپروگرام بنایا۔تبلیغی جلسوں کاخوشگواراَثرہوا۔اوراُن لوگوں میں مشرکانہ رسوم سے اجتناب اوردینی اقداراپنانے کامکمل جذبہ پیداہوگیا۔
حضورصدرالشریعہؒ کواللہ تعالیٰ نے جملہ علوم وفنون می مہارت تامہ عطافرمائی تھی لیکن تفسیر،حدیث اورفقہ سے خصوصی شغف ولگاؤ تھا۔فقہی جزئیات نوکِ زبان پررہتی تھیں،اسی لئے اعلیٰ حضرت امام احمدرضابریلویؒ نے آپ کو’’صدرالشریعہ ‘‘کالقب عطافرمایاتھا۔(تذکرۂ علماء اہلسنت، ص53)
حضوراعلیٰ حضرت امام احمدرضاخان بریلوی قدس سرہ العزیز نے آپ کومجمع عام میں ہندوستان کے لئے قاضی شرع مقرفرمایا۔قاضی کامنصب اوراس کے شرائط بہت ہیں،حضورصدرالشریعہ کواس منصب پرمقررفرمانااس امرکی واضح دلیل ہے کہ مجدداسلام ،فقیہ زمانہ اعلیٰ حضرت امام احمدرضاقدس سرہٗ کوآپ کے تفقہ ،استخراج احکام اورفیصلۂ مقدمات سے متعلق مکمل اعتمادتھا۔
تصنیفات: دادون(ضلع اعظم گڑھ)میں قیام کے دوران امام ابوجعفرطحاوی حنفی قدس سرہ ( 321 ؁ھ – 933 ؁ ء)کی حدیث کی مشہورومعروف کتاب ’’شرح معانی الآثار‘‘پرحاشیہ لکھناشروع کیا۔اورسات ماہ کی مختصرمدت میں نصف اول پرمبسوط حاشیہ تحریر فرمایا۔یہ حاشیہ باریک قلم سے 450؍صفحات پرمشتمل ہے،اورہرصفحہ میں 35-36سطریں ہیں۔گویادیگرمشاغل سے فارغ وقت میں ڈھائی صفحے روزانہ قلم بندفرماتے تھے۔(بہارشریعت ،حصہ 17،ص107)
آپ کی دوسری تصنیف ’’فتاویٰ امجدیہ ‘‘ہے جوعلمی تحقیقات پراپنی مثال آپ ہے ۔آپ کی تحریر کی خصوصیت یہ ہے کہ آپ مشکل سے مشکل مسئلہ عام فہم اندازمیں بیان فرمادیتے ہیں،جس زمانے میں باتصویرقاعدے جاری ہوئے آپ نے ایک قاعدہ مرتب فرمایاجوصرف بے جان اشیاء کی تصاویرپرمشتمل تھا۔اس کی ایک خوبی یہ بھی تھی کہ بچہ بہت جلداردوپڑھنے پرقادرہوجاتا۔
’’بہارِشریعت‘‘حضرت صدرالشریعہ کی وہ شہرۂ آفاق تیسری تصنیف ہے جسے بجاطورپرفقہ حنفی کادائرۃ المعارف(انسائیکلوپیڈیا)کہاجاسکتاہے،اس کے کل سترہ حصے بارہاطبع ہوکرقبول عام وخاص کی سندحاصل کرچکے ہیں۔اس کتاب سے نہ صرف عوام بلکہ علماء کے لئے بھی بہت سہولت پیداہوگئی۔اس کتاب کی ابتداء( 334 1؁ھ – -16 915 1؁ء)میں ہوئی۔
اور( 362 1؁ھ – 943 1؁ء)میںپایۂ تکمیل کوپہونچ گئی ،آپ ابھی تین حصے اورلکھناچاہتے تھے۔مگرحالات نے اس کی مہلت نہ دی۔
بہارشریعت کے ابتدائی 6 ؍حصے اعلیٰ حضرت امام احمدرضاخان بریلوی قدس سرہ العزیزنے حرف بہ حرف سنے۔اورجابجااصلاح بھی فرمائی۔اوراُنہیں تقریظ جلیل سے مزین کیا۔کُتب فقہ میں بہارشریعت کی امتیازی خصوصیت یہ ہے کہ ہرباب میں پہلے آیات مبارکہ پھراحادیث مقدسہ،اس کے بعدمسائل فقہیہ تفصیل سے بیان کئے گئے ہیں۔
وصال ِمبارک: حضرت صدرالشریعہ بریلی شریف کے دورانِ قیام337 1؁ھ – 1919؁ء میںپہلی مرتبہ حج وزیارت کی سعادت سے مشرف ہوئے ۔دوسری مرتبہ حرمین شریفین کی حاضری کے ارادے سے ممبئی پہنچے تھے کہ طبیعت زیادہ ناساز ہوگئی اورطویل علالت کے بعد2؍ذیقعدہ 6؍ستمبردوشنبہ کے دن367 1؁ھ – 948 1؁ء رات کو12بجکر26منٹ پرآپ کی روح بارگاہ قدس میں پروازکرگئی۔ (اِناللّٰہ واِناالیہ راجعون)درج ذیل آیت کریمہ مادۂ تاریخ ہے۔
اِنَّ المُتَّقِیْنَ فِیْ جَنّٰتٍ وَّعُیُوْن(367 1؁ھ)
آپ کامزارِمبارک گھوسی کی سرزمین مئوضلع(یوپی)میں مرجع خلائق ہے۔بعدوصال حضرت صدرالشریعہ علیہ الرحمہ کی یہ کرامت گھوسی کے بے شمارلوگوں نے دیکھی کہ برسات کے سبب قبرِمبارک کاایک حصہ کُھل گیاتوجس باغ میں مدفون ہیں وہ پوراباغ خوشبوؤں سے معطرہوگیا۔باغ کی یہ خوشبوموافق،مخالف سب نے محسوس کی‘بلکہ ایک مخالف عالم نے یہ برملاکہاکہ:’’مولوی امجدعلی مرنے کے بعدبھی اپنی کرامت ظاہرکرنے سے بازنہ آئے‘‘۔
اگرچہ خرق عادت کاصدورمعیارِولایت نہیں‘لیکن مؤمن متقی سے خارق عادت کاظہورنشان ِوِلایت ضرورہے۔اورکچھ نہ بھی ہوتوقرآن مقدس وَلی کی تعریف میں جوفرماتاہے’’اَلَّذِیْنَ آمَنُوْاوَکَانُوْایَتَّقُوْن‘‘یعنی جوایمان کامل اورتقویٰ کے حامل ہوں ،یہ حضرت صدرالشریعہ علیہ الرحمہ میں پورے طورپرنمایارہا۔یہ ایمان وتقویٰ بجائے خودوہ بنیادی معیارولایت ہے جس سے کسی منکرقرآن ہی کوانکارہوسکتاہے۔
آخرمیںمولیٰ تعالیٰ کی بارگاہ عالی جاہ میں دعاء گوہوں کہ آپؒ کافیضان ہم تمام مسلمانوں پرتاقیامت جاری وساری فرمااوران نفوس قدسیہ کی سچی الفت و محبت عطافرما۔آمین بجاہ النبی الامین صلی اللہ علیہ وسلم۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close