ہندوستان

حضورامین شریعت نے شریعت پرمضبوطی سے قائم رہ کردین متین کی خدمت کی

روشن مسجدکمیٹی کے زیراہتمام مدرسہ عربیہ نورالعلوم،میسورروڈ،بنگلورمیں حضرت مفتی عبدالواجدنیرالقادریؒ کی یادمیںمنعقد تعزیتی اجلاس سے مولانامحمدصدرعالم مصباحی کاخطاب

بنگلور :شہربنگلورکی مشہوردینی وتربیتی درسگاہ ”مدرسہ عربیہ نورالعلوم” ،بیاٹرن پورا،روشن مسجدودرگاہ حضرت صادق علی شاہ حسینیؒ،میسورروڈمیںحضورامین شریعت،صوفیٔ باصفا،خلیفۂ حضورمفتی اعظم ہند حضرت مفتی عبدالواجدنیرالقادری رحمۃ اللہ علیہ(بانی الجامعۃ الواجدیہ،دربھنگہ،بہار) کی یادمیں ایصال ثواب کی محفل کاانعقادہوا،مدرسہ کے طلباء نے قرآن خوانی کی،اس کے بعدطلباء نے نعت ومنقبت کے حسین گلدستے پیش کئے ۔موجودہ حضرات سے خطاب کرتے ہوئے ماہردرسیات،عالم نبیل ،فاضل جلیل حضرت مولانامحمدصدرعالم قادری مصباحیؔ نے کہاکہ امین شریعت حضرت مفتی عبدالواجد نیرالقادری ر حمۃ اللہ علیہ کی شخصیت بڑی ہمہ جہت اورجذبہ وعمل سے بھرپورتھی۔آپ نے شریعت اسلامیہ پرمضبوطی سے قائم رہ کردین متین کی خدمت انجام دی،زندگی کے ہرمیدان میں آپ نے لوگوں کومتاثرکیا،ملت اسلامیہ پرآپ کے بے شماراحسانات ہیں،لہٰذاہم اپنے قائد ومحسن کی بارگامیں گلہائے محبت اورخراج عقیدت پیش کریں اوراس کابہترطریقہ یہ ہے کہ ان کی یادگاروں کونہ صرف باقی رکھی جائے بلکہ اُنہیں بام عروج تک پہنچانے کی ہرممکن کوشش کی جائے،ان کی تصنیفات وتالیفات کودنیاکے مختلف مشہورومعروف زبانوں میں منتقل کرکے عام کردی جائے۔
انہوں نے اپنے خطاب میں کہاکہ آپ کی رحلت یقیناملت اسلامیہ کے لئے ایک عظیم ترین خسارہ ہے۔ایسی شخصیتیں بڑی مشکل سے ہاتھ لگتی ہے جن کی ہرہراداسنت نبوی کاآئینہ دارہو،جن میں صلاحیت وصالحیت بدجۂ اتم موجودہو،جواپنے اسلاف کرام کی صوری ومعنوی کمالات کی مکمل تصویرہو،یقیناایسی شخصیت کی رحلت عالم اسلام کے سنی مسلمانوں کے لئے ایک عظیم حادثۂ فاجعہ ہے،مگریہی قانون قدرت ہے،ہرایک کوایک ایک نہ ایک دن اس دارفناسے داربقاکی طرف کوچ کرناہے۔اللہ تعالیٰ اپنے حبیب کے صدقے میں حضورامین شریعت کے جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطافرمائے،لواحقین کوصبرجمیل اورہمیں ان کانعم البدل عطافرمائے۔
انہوں نے کہاکہ آپؒ کاشمارملت اسلامیہ کے ان چندمشاہیرمستندومعتبرعلماء وَدانشوران ملت میں ہوتاہے جنہوں نے ملت اسلامیہ کی شیرازہ بندی میں کلیدی کرداراداکیا۔حضورامین شریعت بے شمارخوبیوں کے مالک تھے ان کی ہمہ گیراورہشت پہلوشخصیت نے کتنے ہی ذرّوں کوآفتاب اورجگنوؤںکو ماہتاب بنادیا۔وہ صحراکوگلستاں بنانے میں اپنی مثال آپ تھے انہوں نے پہاڑکھودکردودھ کی نہرنکالنے کامحاورہ سچ کردکھایا۔آپ کی پوری زندگی احقاق حق ،ابطال باطل،فروغ سنیت اوراشاعت دین متین کے لئے وقف تھی۔آپ نے مسلمانوں کو باوقارزندگی گزارنے کے لئے ملک وبیرون ملک میں کئی دینی ادارے قائم کئے۔آپ نے نونہالان اسلام کی کردارسازی کی،ان کے اندرخوداعتمادی کی روح پھونکی اورسیاسی،سماجی ومذہبی اعتبارسے قوم مسلم کی صالح قیادت فرمائی۔آپ کی پوری زندگی قومی وملی خدمت میں صرف ہوگئی۔آپ کی خدمت قلم کواللہ تبارک وتعالیٰ نے عالمی شہرت بخشی۔آپ کی تصانیف سے لاکھوں لوگ فیضیاب ہوئے اورقیامت تک آنے والی نسلیںفیضیاب ہوتی ر ہیں گی۔
انہوں نے کہاکہ حضورامین شریعت بلندپایہ عالم دین تھے،جماعت میں اعتمادکی نگاہ سے دیکھے جانے والے مفتی تھے،دسیوں کتاب کے مصنف تھے،صاحب دیوان شاعرتھے،اچھے لب ولہجہ کے عظیم خطیب تھے،معاشرے کادکھ دردبانٹنے والے خادم قوم تھے،مدارس اسلامیہ اورمساجدکے بانی تھے۔آپ مدبر،منتظم ،اورعہدہ شناس مفکرتھے،مذکورہ سارے فضائل ومحامدکے باوجودآپ عاجزی،اورانکساری کے پیکرجمیل تھے۔آپ جماعتی سطح پرنہایت ہی فعال ومتحرک رہے۔یہی وجہ ہے کہ ضرورت کے پیش نظرمدارس،مساجد اورملی تنظیموں کے قیام میں بھی آگے آگے رہے۔خصوصیت کے ساتھ الجامعۃ الواجدیہ ،دربھنگہ بہار،واجدویلفئیرٹرسٹ،واجدجونئیراسکول،مدرسہ واجدیہ عیدگاہ آسنسول بنگال،مدرسہ ضیاء العلوم علیم آباد،القرآن فاؤنڈیشن نیدرلینڈ اورمجلس رضانیدرلینڈ،خاص طورپرقابل ذکرہیں۔ساتھ ہی ساتھ آپ نے ایشیاء اوریورپ وافریقہ کے پچیسوں ممالک کاکامیاب تبلیغی دورہ فرمایااوروہاں کے لوگوں کواسلامی شریعت کی روشنی زندگی گزارنے کی نصیحت فرمائی۔ان میں جرمنی،فرانس،انگلینڈ،سوئزرلینڈ،فن لینڈ،اسپین،پرتگال،روم ،ترکی،مراکش،عراق،لیبیا،سعودیہ عربیہ،دبئی،بحرین،سورینام،انڈونیشیا اورملیشیا وغیرہ کے ام لئے جاسکتے ہیں۔آپ کی ذات تمام خوبیوں کاایسامجموعہ تھی کہ ان خوبیوں کاحامل شخص مل پاناموجودہ دورمیں مشکل ترین امرہے،یقیناہم سے فقط ایک ذات رخصت نہیں ہوئی بلکہ مفتی اعظم ہندکی ایک نشانی رخصت ہوئی،حضورمفسراعظم ہندکے فیضان نظرکی ایک علامت رخصت ہوئی،اعلیٰ حضرت فاضل بریلویؒ کی عزیمتوں کاایک علمبرداررخصت ہوا۔صلاۃ وسلام اورمصباحی صاحب کی رقت انگیزدعاء پرمحفل پاک کااختتام ہوا۔واضح رہے کہ یہ محفل روشن مسجدکمیٹی کے صدرالحاج سیدمحمدناظم الدین صاحب وسکریٹری محمدلیاقت وجملہ اراکین کمیٹی کی اجازت وایماء پرمنعقدہوئی۔اس موقع پرحافظ وقاری محمدشمشیررضاعرف عرفان بھائی،حافظ وقاری محمدآصف رضا(مدرس مدرسہ ہٰذا)،حافظ سلمان اورعبدالرؤف بھائی وغیرہ خاص طورپرموجودتھے۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close