ادب

خدابخش اورینٹل لائبریری میں محمد قلی قطب شاہ کے عہد کے قلمی آثار

از محمد ذاکر حسین
تاریخ نویسوں نے عام طور پر کسی عہد کا تجزیہ اس وقت کے سیاسی، سماجی، معاشرتی، تمدنی اور اقتصادی حالات کو پیش نظر رکھ کر کیا ہے۔ علمی اور ادبی حالات کی جانب ان کی توجہ کم ہی رہی ہے۔ کسی نے اس کو قابل اعتنا سمجھا بھی تو وہ اس قدر دھندلے ہیں کہ اس سے اس دور کے علمی و ادبی حالات کی سچی تصویر پیش نہیں کی جا سکتی۔ ہر دور کی تاریخی کتابوں کی کم و بیش یہی کیفیت ہے۔ حالاں کہ اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ علم ہی کی بدولت حکومتیں ارتقا کے منازل طے کرتی ہیں اور یہی ان کے عروج کی راہیں بھی ہموار کرتی ہیں اور اسی کی روشن شعاعوں سے تمام دریچے از خود وَا بھی ہوتے ہیں۔ جس عہد اور سماج پر علم کی خاص مہربانیاں رہی ہیں، وہی عہد اور سماج آج ہماری تاریخ کا زرّیں باب ہے اور وہی دور ہمارے لیے مشعل راہ ہے، جس نے اپنے علمی اکتشافات و اختراعات سے زمانے کو ترقی کی راہ پر گامزن کیا۔
قطب شاہی دور کے مورخوں نے بھی اپنا سارا زورِقلم فتوحات، کشورکشائی اور عشق و معاشقے کی داستان سرائی میں صرف کیا ہے۔ جب کہ مغل حکمرانوں کی طرح اس خاندان کے حکمراں بھی رزم و بزم دونوں کے مرد میداں تھے۔ اس خاندان کے بانی سلطان قلی قطب شاہ(924ھ / 1518۔949ھ/1543) کو ان کی علمی لیاقت اور جنگی مہارت کی وجہ سے محمود شاہ بہمنی کے دربار سے صاحب سیف و قلم کے خطاب سے نوازا گیا تھا۔ اس کا زیادہ تر وقت جنگ و جدال اور استحکام حکومت میں گزرا۔ اس کے باوجود اس نے علم و ادب کی سرپرستی کی طرف خاص دھیان دیا اور علمی و ادبی ماحول کو سازگار بنانے کی غرض سے آش خانہ کے نام سے ایک محل تعمیر کروایا، جہاں باقاعدہ ادبی مجلسیں آراستہ کی جاتی تھیں اور کبھی کبھی خود بھی اس میں شریک ہوتا تھا۔ جمشید قلی (949ھ/ 1543۔957ھ/1550) بھی علم و ادب کا بڑا قدردان تھا اور خود بھی فارسی میں طبع آزمائی کیا کرتا تھا۔ احمد شریف وقوعی اس کے دربار کا ملک الشعرا تھا۔ ابراہیم قلی قطب شاہ (957ھ/1550۔988ھ/1580) گرچہ خود شاعر نہیں تھا لیکن علم و ادب سے متصف تھا۔ اردو، فارسی اور عربی شعرا کے ساتھ ساتھ اس نے تلگو فنکاروں کی بھی ہمت افزائی کی۔ اس اعتبار سے وہ تلگو زبان کا پہلا مربی ہے۔ وہ علم و ادب کا اتنا شوقین تھا کہ سفر وحضر میں علما و فضلا کے علاوہ کتابوں سے بھرے ہوئے صندوق بھی اس کے ساتھ ہوتے تھے۔
محمد قلی قطب شاہ (988ھ/1580۔ 1020ھ/ 1611) کے دور حکومت سے قبل ہی گولکنڈا علم و ادب اور تہذیب و تمدن کی شناخت بن چکا تھا۔ علم نوازی، ادب پروری اور اہل کمال کی قدردانی کی جو شاندار روایت اسے ورثے میں ملی، وہ نہ صرف برقرار رہی بلکہ اور مستحکم ہو گئی۔ مورخوں نے ایک رنگین مزاج عاشق کے طور پر اس کا تعارف کرایا ہے۔ اس کی شخصیت کے اس پہلو کو اتنا بڑھا چڑھا کر پیش کیا گیا ہے کہ اس کی دوسری خوبیاں دھندلی پڑ گئی ہیں، لیکن خوبیاں سات پردے سے نکل کر باہر آجاتی ہیں۔ اگر مورخوں کی یہ بات تسلیم بھی کر لی جائے تو اس حقیقت سے بھی انکار ممکن نہیں کہ وہ ایک مدبر اور ماہر سیاست داں تھا اور علم کے بغیر تدبر اور مہارت کا تصور ذرا محال ہے۔ قرائن بتلاتے ہیں کہ علم کی آبیاری، فن کی قدردانی اور ادب کی سرپرستی اس کی زندگی کا خاص مشن تھا۔ چوں کہ خود اردو، فارسی، تلگو اور سنسکرت زبانوں سے نہ صرف واقف تھا بلکہ سنسکرت کے علاوہ بقیہ تینوں زبانوں میں طبع آزمائی بھی کیا کرتا تھا۔ اس لیے اس کا دربار مختلف زبانوں کے عالموں، فاضلوں، شاعروں اور ادیبوں کا مرکز بن چکا تھا۔ خاص طور پر بیرونی ممالک کے دانشوروں کے لیے یہ عہد کشش کا سبب بن گیا تھا۔
کتابوں سے محبت اور کتب خانوں سے دلچسپی محمد قلی قطب شاہ کواپنے اجداد سے وراثت میں ملی تھی۔ اس وراثت کی حفاظت اور اس میں خاطر خواہ اضافہ کرنے کے مقصد سے اس نے خط نسخ، ثلث اور نستعلیق کے ماہر خوش نویسوں کو ایران وعراق سے اپنے دربار میں مدعو کیا تھا۔ ان فنکاروں کی موجودگی سے اس فن کو جنوبی ہند میں کافی فروغ ملا۔ ان خطاطوں میں صرف بابا خان اور اسمعیل بن عرب شیرازی کے نام تذکروں میں ملتے ہیں۔ فن مصوری(Painting)کو بھی دکنی دبستان کی حیثیت سے اسی دور میں پہچان ملی۔ سالار جنگ میوزیم میں محفوظ دیوان محمد قلی قطب شاہ دکنی مصوری کا بہترین نمونہ ہے۔ علم طب پر بھی اس دور میں خصوصی توجہ دی گئی۔ مریضوں کے علاج اور طب یونانی کے طالب علموں کو تعلیمی سہولتیں مہیا کرانے کے لیے 1004ھ/ 1595 میں ایک دو منزلہ عمارت کی بنیاد ڈالی گئی، جس میں بیک وقت چار سو مریضوں کے قیام اور طب یونانی کے طالب علموں کی تعلیم کا انتظام تھا۔ مختلف امراض کے ماہر طبیبوں اور حکیموں کو علاج اور تعلیم کے لیے مامور کیا گیا تھا۔ ان طبیبوں اور حکیموں نے صرف علاج اور تعلیم تک ہی خود کو محدود نہیں رکھا بلکہ انھوں نے اپنے تجربات اور تشخیصات کو کتابی شکل میں بھی پیش کیا۔ حکیم محمد علی حسینی کی ’اختیارات قطب شاہی‘ اور حکیم صفی الدین جیلانی کی ’تذکرة الشہوة‘ اس سلسلے کی بہترین مثالیں ہیں۔ محمد قلی قطب شاہ کے قصائد میں فلکیات کی اصطلاحوں کی موجودگی اس جانب اشارہ کرتی ہے کہ اسے اس فن سے بھی لگاو تھا۔ اس کی روشنی میں یہ بات حتمی طور پر کہی جاسکتی ہے کہ فلکیات کے ماہرین بھی اس کے دربار میں موجود تھے۔ لیکن تاریخ و تذکرے اس باب میں بالکل خاموش ہیں۔ ان باتوں سے ثابت ہوتا ہے کہ محمد قلی قطب شاہ کے دربار میں ہزاروں اہل علم و فن اپنی قابلیت کے جوہر دکھا رہے تھے اور اس طرح وہاں بھی علم و ادب کا ایک انمول خزانہ جمع ہو گیا تھا۔ اس دور میں علم اور تہذیب، مصوری و نقاشی اور دیگر علوم و فنون خوب ترقی کر گئے۔ اورنگ زیب کے زمانے میں جب دکن فتح ہوا تو قطب شاہی کتب خانوں کی بیش تر کتابیں مغلوں کے شاہی کتب خانے میں جمع ہو گئیں۔
1857کے ہنگامے میں جب مغلوں کی حکومت کا خاتمہ ہو گیا اور انگریزوں کا تسلط قائم ہوا تو اس افرا تفری کے ماحول میں جب کوئی کسی کا پرسان حال نہ تھا اور چاروں طرف لوٹ مچی ہوئی تھی، عمارتیں زمیں بوس ہورہی تھیں۔ اس کے نتیجے میں شاہی کتب خانوں کی قیمتی کتابیں بھی تتر بتر ہونے لگیں۔ ہندوستان کے پانچ چھ سو برسوں کا علمی خزانہ، ہمارے عالموں اور پنڈتوں کی کمائی شاہی کتب خانوں میں جمع تھیں۔ لیکن جب 1857 کی جنگ آزادی میں ہندوستانیوں اور انگریزوں کے درمیان تصادم ہوا تو یہ انمول خزانہ ہاتھوں ہاتھ لٹ گیا۔ کچھ عرصے بعد جب لوگوں کے اوسان بحال ہوئے اور خوف و ہراس کا ماحول بدلا تو ہندوستان کے تین نامور سپوتوں نے اس انمول خزانے کو پھر سے اکٹھا کرنے کا بیڑا اٹھایا۔ ان میں سے دو یعنی نواب سالارجنگ اور نواب رام پور اپنی ریاست کے سپید و سیاہ کے مالک تھے اور تیسرا صوبۂ بہار کا ایک وکیل خدابخش خاں، جن کے پاس نہ ریاست تھی اور نہ مال و دولت صرف علم کی چاہ اور اپنی ہمت کے بل پر اس میدان کار زار میں معرکہ آرائی کے لیے کود پڑے۔ آخر کار وہ ان سے سبقت لے گئے۔ یہ خدابخش کے خلوص اور نیک نیتی کا ہی ثمرہ ہے کہ ان کی لائبریری میں ہندوستان کے اکثر شاہی کتب خانوں کی بےشتر کتابیں موجود ہیں۔ مغلوں کے شاہی کتب خانے میں لگ بھگ 4300 کتابیں تھیں، تقریباً وہ ساری کتابیں مختلف ذرائع سے خدابخش خاں کو حاصل ہوگئیں۔ اس کے علاوہ عادل شاہی، قطب شاہی، نظام شاہی اور اودھ کے شاہی کتب خانے کی کتابیں بھی اس لائبریری کی زینت ہیں۔
حیدرآباد اور خدابخش لائبریری کا تعلق اسی زمانے سے قائم ہے جب کتابیں جمع کرنے کے شوق میں خدابخش خاں ہندوستان بھر کی سیاحت کررہے تھے۔ اسی تعلق سے انھوں نے حیدرآباد کا بھی سفر کیا تھا یہ تعلق 1895 میں مزید خوشگوار ہوا جب وہ چیف جسٹس کی حیثیت سے حیدرآباد تشریف لائے اور حمایت نگر کلب کو اپنا مسکن بنایا۔ 1898 تک وہ اس عہدے پر فائز رہے۔ اس وقت کا ایک واقعہ دلچسپی سے خالی نہ ہوگا۔ خدابخش خاں حیدرآباد کے قیام کے دوران ایک دن جب عدالت سے واپس ہورہے تھے تو ایک کباڑی کے پاس پرانی کتابوں کا ایک بنڈل دیکھا۔ انھوں نے اس سے بنڈل کی قیمت پوچھی۔ کباڑی نے انھیں غور سے دیکھا اور ان کی وضع قطع اور بولنے کے انداز سے سمجھ گیا کہ وہ بڑے آدمی ہیں۔ چناں چہ وہ بولا ویسے تو ہم اسے دو تین روپے میں بیچتے لیکن جب آپ لے رہے ہیں تو یقیناً یہ کوئی قیمتی کتاب ہے۔ اس لیے میں 20روپے لوں گا۔ خدابخش نے اس کو 20 روپے میں خرید لیا۔ دراصل اس بنڈل میں عربی تاریخ کی نادر کتابیں تھیں، جنھیں بعد میں نظام حیدرآباد نے 400 روپے میں اسے خریدنا چاہا لیکن انھوں نے فروخت نہیں کیا۔ برٹش میوزیم نے بھی اس نادر و نایاب ذخیرے کو خریدنا چاہا لیکن انھوں نے یہ کہتے ہوئے انکار کردیا کہ ”میں ایک غریب آدمی ہوں اور برٹش میوزیم میرے ذخیرے کے لیے جو رقم دے رہی ہے وہ شاہی قیمت ہے۔ لیکن میں صرف پیسے کے لیے اپنا ذخیرہ انھیں کیسے دے دوں۔ یہ میرے اور میرے والد کی زندگی بھر کی کمائی ہے۔ یہ ذخیرہ پٹنہ کے لیے ہے اور میں یہ تحفہ اپنے باشندگان پٹنہ کو ہی پیش کروں گا۔ ان دونوں واقعات سے بخوبی معلوم ہوجاتا ہے کہ کتابوں سے خدابخش کو کتنا پیار اور کتنا لگاو تھا۔
محمد قلی قطب شاہ اور خدابخش خاں کے مابین دوباتوں میں مماثلت پائی جاتی ہے۔ ایک تو یہ کہ محمد قلی قطب شاہ کی طرح خدابخش خاں کو بھی کتابوں سے بڑی دلچسپی تھی۔ دوسری یہ کہ جس طرح محمد قلی قطب شاہ کو کتابیں اپنے والد ابراہیم قطب شاہ سے وراثت میں ملی تھیں، جس کا ثبوت یہ ہے کہ ابراہیم قطب شاہ سفر وحضر میں کتابوں سے بھرا ایک صندوق اپنے ساتھ رکھتا تھا یقینی طور پر وہ کتابیں اس کو ملی ہوں گی اور اس سلسلے میں نصیحت بھری باتیں بھی ہوئی ہوں گی۔ خدابخش کو بھی اپنے والد محمد بخش سے کتابوں کے ساتھ نصیحت بھی ملی تھی کہ اس ذخیرے کو آگے بڑھانا ہے۔ دونوں اپنے مقصد میں کامیاب و کامران بھی ہوئے۔ اسی مماثلت کا نتیجہ ہے کہ اس دور کے علما، ادبا، شعرا کی تخلیقات میں سے چند اس لائبریری کی زینت ہیں۔ ویسے تو محمد قلی قطب شاہ کے دور حیات میں جو973ھ/ 1565 سے 1020ھ/1611 تک محیط ہے، پوری دنیا میں جو کتابیں تصنیف کی گئیں یا جن کی کتابت ہوئی، ان میں سے تقریباً 400 عربی و فارسی کے مخطوطات خدابخش لائبریری میں محفوظ ہیں اور یہ مخطوطات کتب سماوی، تجوید و قرأت، تفسیر، اصول حدیث، حدیث، اصول ِفقہ، فقہ، عقائد، مواعظ، ادعیہ، صرف، بلاغت، لغت، ادب، حکمت، منطق، ریاضیات، نجوم، طب، بیطرہ، تاریخ، سیرت، تذکرہ، جغرافیہ، فرائض، تصوف، شاعری، اخلاقیات، ہئیت، قصص، معمیات اور مناظرہ جیسے موضوعات کا احاطہ کرتی ہیں۔ ان 400 مخطوطات کو محمد قلی قطب شاہ کے دور سے منسلک کرنا علمی دیانت داری کے خلاف ہوگا کیوں کہ ان میں کوئی ایسا قرینہ موجود نہیں ہے، جس سے یہ ثابت کیا جاسکے کہ یہ مخطوطے اسی دور میں لکھے گئے۔ لیکن اس سے یہ اندازہ ضرور ہوجاتا ہے کہ اس وقت پوری دنیا میں علم و ادب اور فکر و فن کی کتنی زر خیز آبیاری ہورہی تھی اور کس اعلی پیمانے پر علم کی نہریں اپنی پوری روانی کے ساتھ جاری تھیں۔ البتہ چند مخطوطات میں ایسے قرینے موجود ہیں جو یہ ثابت کرتے ہیں کہ یہ محمد قلی قطب شاہ اور دوسرے قطب شاہی حکمراں سے تعلق رکھتے ہیں۔ اس کا ایک مختصرجائزہ ذیل میں پیش کیا جارہاہے:
(1) انوار العقول من اشعار وصی الرسول (HL.1749):
یہ حضرت علی کرم اللہ وجہہ (وفات 40ھ/660) کا شعری مجموعہ ہے۔ اس کو ایک شیعہ عالم قطب الدین ابوالحسن سعید بن ھبة اللہ الراوندی (وفات 375ھ/ 1177) نے متعدد کتابوں کے مطالعے کے بعد ان اشعار کو جمع کیا اور حروف تہجی کے اعتبار سے اسے مرتب کیا۔ مرتب نے اپنے مقدمے میں یہ وضاحت بھی کی ہے کہ یقینی طور پر یہ کہنا مشکل ہے کہ حضرت علی ؓ کے سارے اشعار اس دیوان میں شامل ہوگئے ہیں۔ اس کے نسخے متعدد کتب خانوں میں محفوظ ہیں۔ 1745 میں پہلی بار یہ کتاب لنڈن سے شائع ہوئی۔ اس وقت سے اب تک اس کے کئی ایڈیشن نکل چکے ہیں۔ خدابخش لائبریری کا یہ نسخہ 858ھ/1454 کا مکتوبہ ہے جسے زین العابدین بن محمد الکاتب نے لکھا ہے۔ ترقیمہ کی عبارت ہے :
کتبہ زین العابدین بن محمد الکاتب عفا اللہ عنھما فی حجة ثمان و خمسین و ثمان مأة الھجریة۔
یہ مخطوطہ قطب شاہی حکومت کے زوال اور عالمگیری سلطنت کے عروج کا عینی شاہد بھی ہے۔ ابتدائی صفحے پر محمد قلی قطب شاہ اور اورنگ زیب کی مہریں اس زوال و عروج کی داستان بیان کرتی ہےں۔ اس کے علاوہ چند مہریں اور بھی ہیں جو اس مخطوطے کے سفر کی روداد پیش کرتی ہیں۔ سید مسعود احمد رضوی نے اپنے مضمون ”قطب شاہوں کی مہریں اور دستخط“ میں سالار جنگ میوزیم میں موجود دیوان علیؓ کے ایک نسخے کی نشاندہی کی ہے۔ یہ نسخہ 918ھ کا مکتوبہ ہے جس پر ابراہیم قلی قطب شاہ، محمد قلی قطب شاہ اور محمد قطب شاہ کی مہریں ثبت ہیں۔ لیکن انھوں نے خدابخش کے اس نسخے کا ذکر نہیں کیا ہے حالاں کہ خدابخش کا نسخہ سالارجنگ میوزیم کے نسخے سے 60 سال پرانا ہے۔ یہ دونوں نسخے اس وقت کے ہیں جب قطب شاہی سلطنت وجود میں نہیں آئی تھی۔ یہ اس بات کے ثبوت ہیں کہ قطب شاہی حکمراں نہ صرف کتابیں لکھواتے تھے بلکہ پہلے سے لکھی ہوئی کتابوں کو مختلف ذرائع سے حاصل بھی کرتے تھے۔ اس مخطوطے پر17 مہریں ہیں جس کی تفصیل حسب ذیل ہیں:
سرورق (1): (1) سید جعفرحسین ولد سید مہدی حسین ؟؟12، (2)ضیاحسین خان 1245ھ،(3) علی نقی 1138ھ (4) عالمگیر شاہی (5) خدارازق واحمد شفیع است 1114ھ
سرورق(2): (6) محمد خلیل اللہ بن نعمت اللہ المستعین بالغنی (7)ناخواندہ (8)ضیاحسین خان 1245ھ (9) سید جعفرحسین ولد سید مہدی حسین ؟؟12، (10) شیر داد خان (11) ناخواندہ (12) شہی کہ نقش نگیں مہر حب آل مقیم بود سپہر کرم قطب شاہ ابراہیم(13) ملک جہاں مرا کہ بزیرنگیں شدہ از حکم بادشاہ جہاں آفریں شدہ العبد محمد قلی قطب شاہ(14)مہرسلیماں زحق گشتہ میر مرا، نقش نگیں دل است حیدر صفدر مرا، العبد محمد قطب شاہ
آخری ورق:(15)خدارازق واحمد شفیع است 1114ھ (16) سید جعفرحسین ولد سید مہدی حسین ؟؟12، (17) ضیا حسین خان 1245ھ،
خدا بخش کے توضیحی فہرست نگار نے ان مہروں کی تفصیل نہیں پیش کی ہے اور صرف یہ کہہ کر آگے بڑھ گئے ہیں کہ ان میں متعدد مہریں ہیں، جن میں محمد قلی قطب شاہ اور اورنگ زیب کی بھی ہیں۔
(2)غنیة الحساب فی علم الحساب(HL 2023)
عربی زبان میں علم حساب پر یہ خدابخش لائبریری کا ایک اہم اور نادر نسخہ ہے۔ چھٹی صدی ہجری کے ایک ماہر ریاضی داں ابوالعباس احمد بن ثابت قاضی الھمامیہ کے تالیف کردہ اس نسخے کی کتابت تاج بن حسن بن محمد الکرمانی نے 786ھ میں کی۔ 85 اوراق پر مشتمل یہ مخطوطہ حساب کی مختلف شاخوں کا احاطہ کرتا ہے، جیسے باب الضرب (Multiplication)، باب القسمة (Division)، باب النسبة(Percentage)، باب استخراج الجذور (Fraction)، کتاب المعاملات(Commercial Mathematics)، کتاب المساحة(Measurements) اور باب الحفور
اس مخطوطے کی انفرادیت یہ ہے کہ اس کی دوسری کاپی دنیا کے کسی بھی ذخیرے میں دستیاب نہیں ہے اور دوسری بڑی خصوصیت ہے کہ یہ قطب شاہی حکمرانوں کے دربار کی سیر بھی کرچکا ہے۔ سر ورق پر ابراہیم قلی قطب شاہ، محمد قلی قطب شاہ اور محمد قطب شاہ کی مہریں اس کا ثبوت پیش کرتی ہیں۔ ان مہروں کی عبارت وہی ہے جو انوار العقول فی اشعار وصی الرسول میں ہے۔ اس کے علاوہ محمد عاقبت اللہ مورخہ 1107ھ کی بھی مہر ہے لیکن واضح نہیں ہے۔ خدا بخش کے توضیحی فہرست نگار نے صرف محمد قطب شاہ کی مہر کی نشاندہی کی ہے۔ ایک تحریر ’از عبد القادر صحاف‘ بھی سرورق پر مرقوم ہے۔ صحاف کاغذ ساز کو کہتے ہیں۔ گویا اس مخطوطے کا کاغذ عبد القادر کے ہاتھوں کا بنا ہوا ہے۔
(3) فلک البروج(HL 658):
میر محمد امین شہرستانی روح الامین فارسی کا مشہور شاعر ہے۔محمد قلی قطب شاہ کے دربار کی شہرت سن کر 1010ھ یا 1013ھ میں وہ گولکنڈا آیا اور بادشاہ کے دربار سے منسلک ہو گیا۔اس کی قابلیت کی وجہ سے بادشاہ اسے بہت عزیز رکھتا تھا اور میر جملہ کے خطاب سے سرفراز بھی کیا تھا۔ بادشاہ کی عنایتوں سے متاثر ہو کر اس نے اپنی مثنوی لیلی مجنوں کو بادشاہ کے نام سے معنون کیا۔ فلک البروج اس کی دوسری مثنوی ہے، جو نظامی گنجوی کے تتبع میں لکھی گئی۔ یہ مخطوطہ 191 اوراق پر محتوی ہے۔ سنہ کتابت مذکور نہیں ہے البتہ غالب گمان ہے کہ یہ 17ویں صدی عیسوی میں لکھی گئی۔ شاعر نے مقدمہ میں حمد و ثنا کے بعد اپنے مربی محمد قلی قطب شاہ کی عنایتوں کا دل کھول کر اظہار کیا ہے۔ وہ اس مثنوی کو اس کے نام سے منسوب کرنا چاہتا تھا۔ لیکن ابھی یہ تکمیل کے مرحلے میں تھی کہ بادشاہ کی وفات ہو گئی۔ اس سے شاعر کو بڑا صدمہ پہنچا اور اپنی بے چارگی کا ذکر کرتے ہوئے کہا:
بہ اوج شرف فتاد بہ چاہ
رفت سوی بہشت بادشاہ
جب یہ مثنوی1021ھ/ 1612 میں پایہ تکمیل کو پہنچی تو اس نے اس کو محمد قطب شاہ کے نام معنون کیا:
گشت یک بیست چون فزود بہ ہزار
شد مکمل چو چرخ این گلزار
لیکن محمد قطب شاہ کے دربار میں اسے وہ اہمیت نہ ملی جو محمد قلی قطب شاہ کے دربار میں حاصل تھی۔ آخرکار قطب شاہی سلطنت کو خیرباد کہہ دیا۔ اس مثنوی کو فلک البروج کے علاوہ آسمان ہشتم اور گلستان ناز کے نام سے بھی یاد کیا گیا ہے:
این کتاب مستطاب بفلک البروج موسوم گشت(4ب)
شد چون این کاخ سر بلند تمام
کردمش آسمان ہشتم نام (182ب)
(4) شرح الشمسیةالحساب(HL2018):
ابو اسحق بن عبد اللہ نے 963ھ میں گولکنڈا میں اس کتاب کو مرتب کیا اور اسے وہاں کے ایک امیر عبد الکریم کے نام معنون کیا۔ جس زمانے میں یہ کتاب لکھی گئی وہ ابراہیم قلی قطب شاہ کا دور تھا۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ امیر عبد الکریم اس کے دربار سے منسلک تھا۔ چونکہ اس کتاب میں کوئی مقدمہ نہیں ہے، اس لیے بہت ساری باتوں پر پردہ پڑا ہوا ہے۔ اگر سر ورق پر مصنف کی یہ تحریر نہیں ملتی” شرح الشمسیة الفہ اضعف عباد اللّٰہ ابو اسحق بن عبد اللّٰہ عفی عنھما“ تو مصنف کے نام سے بھی واقف ہونا مشکل تھا۔ یہ تحریر اس حقیقت سے بھی آشنا کراتی ہے کہ زیر بحث مخطوطہ مصنف کے ہاتھ کا لکھا ہوا ہے۔ ترقیمہ سے واضح ہوتا ہے کہ بہت کم وقت میں یہ کتاب لکھی گئی:
قد تمت ھذہ النسخة و اکملتھا علی سبیل الاستعجال… من شھر شوال فی( سنة ثلاث و ستین و تسع مأة)۳۶۹ فی بلدة گولکندا من اعمال تلنگ…
سر ورق کی ایک تحریرسے معلوم ہوتا ہے کہ یہ مخطوطہ کسی زمانے میں گجرات کی نظامیہ محمودیہ لائبریری کی ملکیت میں تھا۔ 168 اوراق پر مشتمل یہ مخطوطہ عربی زبان میں علم حساب کے موضوع پر ہے۔ چوں کہ اس کی تصنیف گولکنڈا میں ابراہیم قلی قطب شاہ کے دور میں ہوئی، اس لیے غالب گمان ہے کہ محمد قلی قطب شاہ کی نظروں سے بھی یہ مخطوطہ گزر چکا ہوگا۔
یہ چاروں وہ مخطوطات ہیں جو کسی نہ کسی طور پرمحمد قلی قطب شاہ کے دور سے تعلق رکھتے ہیں۔ اس کے علاوہ چند مخطوطات ایسے بھی ہیں جو محمد قطب شاہ اور عبد اللہ قطب شاہ کے دور کے ہیں۔ اس کی تفصیل یہ ہے:
(5) دیوان حافظ(HL 320):
دیوان حافظ کے متعدد نسخے خدا بخش لائبریری میں موجود ہیں۔ لیکن یہ نسخہ اس لائبریری کے نادر ترین نسخوں میں شامل ہے۔ اس کی خصوصیت یہ ہے کہ محمد قطب شاہ کی فرمائش پر محمد حسن کاتب نے 1020ھ/1611 میں اس کی کتابت کی۔ ابتدا میں کاتب کی یہ تحریر ملتی ہے:
”دیوان خواجہ حافظ تمام شد در کتاب خانہ عامرہ بخط محمد حسن کاتب بتاریخ اوائل ماہ جمادی سنہ ۱۰۲۰ در دار السلطنت حیدرآباد… الخالص لمولاہ سلطان محمد قطب شاہ“
کاتب کی اس عبارت کے نیچے محمد قطب شاہ کی مہر ہے۔ یہ مخطوطہ262 اوراق پر مشتمل ہے۔
(6) تاریخ سلطان محمد قطب شاہی (HL 165):
سلطان محمد قطب شاہ(1020/ 1611۔ 1053/ 1625) سے قبل ” تاریخ قطب شاہی و سایر سلاطین دکن و محاربات او“ کے نام سے قطب شاہی دربار سے منسلک (یکی از چاکران این دربار) کسی مورخ نے اس تاریخ کو مرتب کیا تھا۔ چوں کہ یہ ضخیم تھی اس لیے محمد قطب شاہ نے اپنے دربار کے مورخ کو حکم دیا کہ اس سے قطب شاہی سلطنت کی ایک مختصر تاریخ مرتب کی جائے۔ خاتمہ میں ایک عبارت ہے:
این مختصر کہ اواخر شعبان سنة ست و عشرین و الف و اوائل بیست و ہفتم از عمر شریف حضرت ظل الٰہی قریب شش سال است…
اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اس کی ابتدا 1026ھ کے آخری شعبان میں ہوئی اور اختتام 1027ھ/1617 کے اوائل میں ہوا۔ اس کتاب کو ایک مقدمہ، چار مقالے، اور ایک خاتمہ میں منقسم کیا گیا ہے۔ مقدمہ میں امیر قرا یوسف ترکمان اور اس کی اولاد کا ذکر ہے۔مقالہ اول میں قلی قطب الملک، مقالہ دوم میں جمشید قطب الملک اور سبحان قلی، مقالہ سوم میں ابراہیم قطب شاہ، مقالہ چہارم میں محمد قلی قطب شاہ اور خاتمہ میں 1025/1616 تک محمد قطب شاہ کی تاریخ ہے۔ اسی خاتمے میں مصنف نے لکھا ہے کہ اگرقسمت نے یاوری کی تو اس دور کی بقیہ تاریخ بھی مرتب کروں گا۔ قسمت نے یاوری کی یا نہیں اس کے بارے میں کوئی معلومات دستیاب نہیں ہے۔ اس مخطوطے میں محمد قلی قطب شاہ کی چار فارسی غزلیں موجود ہیں۔ 313 اوراق پر مشتمل اس مخطوطے کی کتابت 1171ھ میں ہوئی۔
(7) دیوان اثیر اومانی(HL305):
اثیر الدین عبد اللہ اومانی (وفات665ھ/ 1266) نصیر الدین طوسی(672ھ/1273)کے شاگردوں میں عربی و فارسی کے ایک مشاق موزوں طبع تھے۔ کمال اصفہانی اور مجد ہمگر جیسے ممتاز شعرا اس کے ہم عصر تھے۔شاعر کردستان کے حکمراں سلطان سلیمان سے بہت متاثر نظر آتا ہے کیوں کہ اس نے اپنے دیوان میں شاہ کردستان کی خوب مدح سرائی کی ہے۔ خدا بخش کا یہ نسخہ1015ھ کا مکتوبہ ہے ۔ترقیمہ کی عبارت ہے:
تمام شد دیوان اثیر الدین اومانی رحمہ اللہ علیہ در تاریخ شہر شوال۱۰۱۵ھ(سنة خمس عشرة و الف)
آخری صفحے پر ایک اور تحریر ملتی ہے:
بابت تحفہ آوردہ میر شاہ محمود شہور سنة ثلاث (و) عشر(ین) (و) الف بتاریخ بیست و چہارم شہر صفر 1023ھ
اس سے معلوم ہوتا ہے کہ1023ھ میں میر شاہ محمود نے اس وقت کے قطب شاہی حکمراں کو تحفے میں پیش کیا تھا۔اس مخطوطے کی خصوصیت یہ ہے کہ سر ورق پر تین مہریں موجود ہیں۔ پہلی میر نجات قلی خاں مورخہ 1150ھ، دوسری محمد قطب شاہ اور تیسری عبد اللہ قطب شاہ کی ہیں۔ محمد قطب شاہ کی مہر کی وہی عبارت ہے، جو انوار العقول فی اشعار وصی الرسول اور غنیة الحساب میں ہے۔ البتہ عبد اللہ قطب شاہ کی مہر میں جو عبارت درج ہے، وہ ان مہروں سے الگ ہے جو سید مسعود احمد رضوی نے اپنے مضمون میں تحریر کیا ہے۔ مہر کی مکمل عبارت ہے:
انی عبد اللّٰہ آتانی الکتاب بندہ شاہ ولایت قطب شاہ۔
خدا بخش کے کیٹلاگر نے صرف عبد اللہ قطب شاہ کی مہر کا ذکر کیا ہے۔ بقیہ دونوں مہروں کی جانب اشارہ تک نہیں کیا ہے۔ یہ مخطوطہ103 اوراق پر مشتمل ہے۔
(8) جہانگیر نامہ (HL113):
یہ بادشاہ جہانگیر کی خود نوشت تاریخ ہے، جسے اس نے اپنی حکومت کے تیسرے سال یعنی 1017ھ/1608 میں ایک ڈرافٹ کی شکل میں مرتب کیا تھا۔اس میں 1017/ 1608 تک کے واقعات مندرج ہیں۔ جس وقت یہ کتاب لکھی گئی اس وقت جہانگیر کی عمر 40 سال تھی۔ اس کے تین سال کے بعد 1020ھ/1611 میں محمد مومن عرب شیرازی نے حیدرآباد کے قطب شاہی کتب خانے کے لیے کتابت کی۔ ترقیمہ میں مذکور ہے:
بتاریخ یوم الاربعاءسلخ ذوالحجة سنة(عشرین و الف) ۱۰۲۰ در دار السلطنت حیدرآباد مصنة عن کل شر و فساد برسم خزانة کتب اعلی حضرت السلطان العادل الکامل افتخار السلاطین فی الزمان و اشرف الخواقین فی الدوران السلطان ابن السلطان السلطان الخاقان ابن الخاقان… لازال رایات دولتہ منصورة منصورة و اعداءحضرتہ مقھورة بیدہ الفقیر محمد مومن مشہور بہ عرب شیرازی سمت تحریر یافت۔
اس ترقیمہ میں الخاقان ابن الخاقان کے بعد محمد قلی قطب شاہ کی مہر کے لیے جگہ چھوڑی گئی تھی لیکن کسی وجہ سے وہ ثبت نہ ہو سکی البتہ سر ورق پر ان کی مہر مورخہ 1020 ھ موجود ہے اس کے بعد عبد اللہ قطب شاہ کی مہر ہے۔ اس کا عکسی ایڈیشن خدا بخش لائبریری سے شائع ہو چکا ہے۔ یہ مخطوطہ قطب شاہی سلطنت کے زوال اور عالگیری سلطنت کے عروج کارازداں بھی ہے۔سرورق پر اورنگ زیب کے لڑکے محمد سلطان کی ایک تحریر ملتی ہے:
” این کتاب جہانگیر نامہ را کہ حضرت جنت مکانی خود تصنیف نمودہ اند در دار الفتح حیدرآباد از کتابخانہ قطب الملک گرفتہ۔ حررہ محمد سلطان
یعنی جب اورنگ زیب کے زمانے میں حیدرآباد فتح ہوا توقطب الملک کے کتب خانے سے اس نسخے کو قبضے میں لے لیا گیا۔ 119 اوراق پر محیط خدا بخش لائبریری کا یہ نادر ترین مخطوطہ ہے۔
(9) برہان قاطع(HL770):
محمد حسین برہان نے 1061ھ میں اس کتاب کو مرتب کیا اور اسے عبد اللہ قطب شاہ کے نام سے منسوب کیا۔ مصنف اس وقت اپنی علمی لیاقت اور ادبی مہارت کی وجہ سے بہت مشہور تھے۔بعد میں غالب نے اس کتاب کی خامیوں کو اجاگر کیا۔مخطوطے کی ابتدا میں ایک تحریر ملتی ہے:
شروع درین نسخہ در دور سہ شنبہ بیست و ششم شہر شعبان المعظم سنہ ہزار و یک صد و پنجاہ و یک از ہجرت النبوی ﷺ۔
اور ترقیمہ میں ہے: تمام(شد) کتاب مستطاب بعنایت ملک… بتاریخ ۱۱ شہر ربیع الثانی ۲۵۱۱۔۔۔ روز چہار شنبہ
ان دونوں تحریروں سے معلوم ہوتا ہے کہ کتابت کی ابتدا 1151ھ میں ہوئی اور اختتام 1152ھ میں ہوا۔
مذکورہ بالا علمی و ادبی کارنامے یہ ثبوت فراہم کرتے ہیں کہ محمد قلی قطب شاہ کے شب و روز صرف معشوقوں کے جھرمٹ میں ہی بسر نہیں ہوتے تھے بلکہ امور سلطنت کے علاوہ علم و ادب کے برہم گیسو کو سنوارنے اور فکر وفن کی الجھی لٹوں کو سلجھانے میں بھی ان کا وقت گزرتا تھا۔ویسے تو بہت سارے حکمراں دنیاپر حکومت کر چکے ہیں لیکن آج وہی حکمراں زندہ اور جاوید ہے جس کا دربار علم و ادب کا مخزن تھا۔ اس کے علاوہ جن بادشاہوں نے صرف حکومت کی یا عیش و عشرت میں مگن رہے، وہ تاریخ کے صفحات میں کہےں گم ہو گئے۔زندہ رہنے کے لیے عشق ایک ضروری شے ہے:
ہرگز نمیرد آن کہ دلش زندہ شد بعشق ثبت است بر جریدہ عالم دوام ما
عشق ہر حال میں مطلوب ہے خواہ وہ معشوق کے ساتھ ہو یا علم و ادب کے ساتھ۔ عشق و طلب کے بغیر دائمیت نا ممکن ہے۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close