ادب

خدابخش اورینٹل لائبریری پٹنہ ایک تعارف

پٹنہ جس کا قدیم نام عظیم ا آباد ہے اُس کے قلب میں نادر مخطوطات کا ایک عظیم الشان خزانہ موجود ہے ۔ اُس کا نام خدا بخش لائبریری ہے اور یہ گنگا ندی کے پُر سکون ساحل پر واقع ہے ۔اِس لائبریری میں پٹنہ کو بین الاقوامی علمی نقشے پر ایک منفرد نام عطا کیا ہے یہاں ماضی کا عظیم ورثاءمخطوطات کی شکل میں موجود ہے ۔یہ مخطوطات صرف کاغذ پر نہیں لکھے ہوئے ہیں بلکہ تاڑ کے پتوں ، کپڑے اور ہرن کی کھال پر بھی اس زمانے میں لکھے گئے جب کاغذ نہیں ہوا کرتا تھا ۔ اس لائبریری میں 21 ہزار سے زائد مخطوطات موجود ہیں جو عربی ، فارسی ، اردو ، سنسکرت ، پشتو اور ترکی زبانوں میں ہیں ۔ ان میں سے کئی تو یکتائے روزگار ہیں اور ان کا دوسرا نسخہ دنیا میں کہیں موجود نہیں ہے ۔ اس لائبریری کے قیام کو 100سال سے زائد کا عرصہ ہو چکا ہے اور اس کی کہانی مرحوم محمد بخش سے شروع ہو تی ہے جو خدا بخش کے والد تھے ۔ انہوں نے اپنے ذاتی شوق کے تحت تقریباً 1400 مخطوطات حاصل کئے تھے اور مرتے وقت اپنے صاحبزادے خدا بخش کو سونپتے ہوئے اس خواہش کا اظہار کیا تھا کہ وہ اسے ایک عوامی کتب خانہ کی شکل دیں او رمخطوطات کی تعداد میں اضافہ کریں ۔ خدا بخش خاں کی زندگی میں ہی یہ کتب خانہ اورینٹل لائبریری کے نام سے موسوم ہوا اور 14 جنوری 1891 کو خدا بخش نے باضابطہ وقف نامہ کے ذریعہ یہ کتب خانہ عوام کو وقف کر دیا ۔ سنہ 1969 میں بھارتیہ حکومت نے اسے قومی اہمیت کا ادارہ قرار دے کر اس کے لئے پارلیمنٹ سے ایک قانون وضع کیا ۔

خدا بخش مشرقی کتب خانہ ہندستان کے قومی کتب خانوں میں سے ایک ہے۔ یہ کتب خانہ عوام کے لیے 1891ء میں کھولا گیا تھا۔ اِس کتب خانہ کے بانی خان بہادر مولوی خدا بخش خان تھے جنہوں نے4000؍ کتب کے ایک منفرد مجموعہ کے ساتھ اِس کتب خانہ کا آغاز کیا۔ اِس کتب خانہ کی عملداری وزارت ثقافت، حکومت ہند کے دائرہ اختیار میں ہے جبکہ اِس کی نمائندگی بہار کے گورنر کے پاس ہے۔ اِس کتب خانہ میں فارسی زبان، عربی زبان کے قلمی مخطوطات موجود ہیں جبکہ راجپوت اور مغل ادوارِ حکومت میں نمایاں شخصیات کی تصاویر بھی موجود ہیں۔
اولاً یہ کتب خانہ مولوی خدا بخش خان کا ذاتی کتب خانہ تھا جس میں اُن کے والد محمد بخش کی جمع کردہ1400؍ کتب موجود تھیں جن میں مولوی خدا بخش نے بعد ازاں اضافہ کرتے ہوئے4000؍ کی تعداد تک جمع کیا اور 1880ء تک یہ مولوی خدا بخش کا ذاتی کتب خانہ کے نام سے معروف تھا۔ اِس کتب خانے کا باقاعدہ افتتاح گورنر بنگال چارلس الفریڈ ایلیٹ نے 5 اکتوبر 1891ء کو کیا۔ تقسیم ہند 1947ء کے بعد ڈاکٹر شریدھر واسودیو سوہونی اِس بات کے زبردست حامی تھے کہ اِس مجموعہ کتب کو بھارت میں ہی برقرار رکھا جائے۔ 26 دسمبر 1969ء کو حکومت ہند نے ایک وفاقی قانون سازی بنام خدا بخش اورئینٹل پبلک لائبریری ایکٹ (1969ء) کے ذریعہ اِس کتب خانہ کو قومی کتب خانوں کی فہرست میں شامل کرتے ہوئے اِس کی مالی ذمہ داریاں اپنے ذمہ لیں۔اس لائبریری میں 21 ہزار سے زائد مخطوطات موجود ہیں جو عربی ، فارسی ، اردو ، سنسکرت ، پشتو اور ترکی زبانوں میں ہیں ۔ ان میں سے کئی تو یکتائے روزگار ہیں اور ان کا دوسرا نسخہ دنیا میں کہیں موجود نہیں ہے۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close