ادب

خطبۂ صدارت

دینی تعلیمی کانفرنس ،علی گڑھ مسلم یونیور سٹی منعقدہ یکم جولائی ۱۹۹۴

سید حامد
نکتہ چیں ہے غم دل اس کو سنائے نہ بنے
کیا بنے بات جہاں بات بنائے نہ بنے
ایک مدت ہوگئی دینی نظام تعلیم کی طرف سے فکر مندی کو ۔وہ لوگ جو جدید تعلیم سے فیضیاب ہوئے ہیں ،جنھوں نے دنیا دیکھی ہے ،جن کا ذہنی افق وسیع ہوچکا ہے ،ان کو آپ دوگروہوں میں بانٹ سکتے ہیں ۔ان میں بڑا گروہ ان لوگوں کا ہے جن کے پاس دینی تعلیم کو خاطر میں لانے کا وقت ہی نہیں ہے ۔دوسرا گروہ جو بہت چھوٹا ہے ،دین سے وابستگی اور دینی تعلیم سے دلچسپی رکھتا ہے ۔یہ اور بات ہے کہ ان میں سے بہتوں کو دین کو پڑھنے کا موقو نہیں ملا ۔پہلے گروہ کے لیے مدارس کا ہونا نہ ہونا ،دینی تعلیم کا وجود و عدم برابر ہے ۔یہ اور بات ہے کہ ان میں سے کچھ دستور اغیار کی پیروی کرتے ہوئے مدارس کو نگاہ تحقیر سے دیکھنے لگیں یا سر پر ستانہ انداز سے چلتے پھرتے ،کچھ تجاویز ان کی اصلاح کے لیے زبان دہن یازبان قلم سے عوام کی بہبود کے لیے معرض اظہار میں لے آئیں ۔یہاں تک ہم پہنچ گئے ہیں تو ذرا دیر کے لیے رُکئے ۔جدید تعلیم سے فائدہ اٹھانے والوں میں جو لوگ دینی تعلیم کی طرف سے فکر مند نظر آئیں ان کی بات کویہ کہہ نہ ٹالئے۔
تجھ کو پرائی کیاپڑی اپنی نبیڑتو
ان لوگوں کے دل میں درد ہے جبھی تو اپنے دائرہ سے نکل کر دینی تعلیم کو زیادہ کار آمد اورزمانہ شناس اور بار آور بنانے کی فکر انھیں دامن گیر ہوگئی ہے۔ان کی بات کو غور سے سنئے اور سوچیے کہ جو کچھ وہ کہہ رہے ہیں اس میں کام کی کوئی بات ہے بھی کہ نہیں ۔یہ نہ سوچیے کہ وہ آپ کے سکون کو برباد کرنے پر تلے ہوئے ہیں اور ان کا مقصد زندگی ہی یہ ہے کہ دینی تعلیم کے اس نظام کو جو صدیوں سے پابجا ہے ،درہم برہم کردیں ۔وہ کلمہ گو ہیں ،اسلام کو سمجھنے کی کوشش انھوں نے بھی کی ہے ۔زندگی میں پیش آنے والے مسئلوں کو انھوں نے اسلام کی روشنی میں حل کرنے کے جتن کیے ہیں ۔یہ لوگ جدید زندگی کی ان پیچیدگیوں سے جن کی آہٹ مدرسوں میں نہیں پہنچی ،نبرد آزما ہوئے ہیں ۔وہ دل میں درد رکھتے ہیں اور دماغ میں آگاہی ۔ان کی رائے کو پہلی نظر میں ٹھکرایا نہیں جاسکتا۔اگر اس طرح ٹھکرایا گیا تو نقصان ان کا نہیں ہوگا ۔وہ تو ماعلینا الا لبلاغ کہہ کر بیٹھ رہیں گے ۔
یہ بات بھی یاد رکھئے کہ مدارس کے نظام تعلیم کے بعض اجزا کی ازکار رفتگی کا احساس صرف ان ہی لوگوں کو نہیں ہے جنھوں نے جدید تعلیم حاصل کی ہے ۔ان میں ہمارے کچھ علما و اکابرین شامل ہیں ۔ان میں سے صرف دو نام سن لیجئے ۔علامہ شبلی نعمانی اور مولانا ابوالکلام آزاد۔ندوۃ العلما کی بنیاد ہی دینی طرز تعلیم کو سدھار نے کے لیے رکھی گئی تھی اور جب ندوہ نے اپنے اس مقصد کو پوری طرح پورا نہیں کیاتو مذکورہ اکابرین نے صدائے احتجاج بلند کی ۔ان کی بات سنی نہیں گئی ۔ا س کو بھی ایک صدی ہونے کو آرہی ہے ۔
بیسوی صدی میں زندگی نے بڑے بڑے ڈگ بھرے ہیں ۔اس کی رفتار ناقابل اعتبار اور تخیل ناپذیر حد تک تیز ہوگئی ہے ۔باد پا علوم کا ساتھ دینا خوشخِراموں اور اطمینان ورزوں کے لیے محال ہوگیا ہے۔اس کے جلو میں آئے دن نت نئے مسائل پیدا ہوتے ہیں ۔ان کو حل کرنے اور ان کی خار زاروادی سے رہرووں کو سلامت نکال لے جانے کا فرض علما پر عائد ہوتاہے ۔اس فرض کو وہی فارغین مدارس انجام دے سکیں گے جنھیں ان کی تعلیم نے زندگی کے رنگا رنگ اور ہر آن بدلتے ہوئے پہلوؤں سے شناسائی بہم پہنچائی ہے ۔عصر حاضر کے تقاضوں کے علاوہ دعوت کے تقاضوں سے عہدہ برآہونے کیلئے بھی دنیا اور زندگی کے تغیرات سے آگاہی ناگزیر ہے ۔آپ کے دین کو اس وقت تک کوئی قبول نہیں کرنے کا جب تک کہ آپ اس کے ذریعہ جدید زندگی کے مسائل کو حل کرکے نہ دکھاسکیں ۔وہ صرف آپ کی عبادات اور عقائد سے اثر کیوں لینے لگا۔
آگے بڑھنے سے پہلے میں یہ اطمینان کرلینا چاہوں گا کہ اس وقت تک جو دلیلیں آپ کے سامنے آئی ہیں ،آپ انھیں تسلیم کرتے ہیں یا نہیں ۔آگر آپ انھیں تسلیم کرتے ہیں تو آپ کو یہ بات بھی ماننی پڑے گی کہ مدارس کے نظام تعلیم میں وہ ساری تبدیلیاں لانی ہوں گی جن کی طالب حالیہ پیچیدہ زندگی ہے ۔اگر ایسا ہے تو ہم دیر کیوں کریں ؟جتنی دیر کریں گے اتنا ہی مشکل ہمارے لیے کروان علوم کو دوڑکر پکڑنا ہوجائے گا۔نظام میں تبدیلی کے خلاف دلیلیں لائی گئی ہیں اورلائی جائیں گی ۔کیاگیا ہے اورکہاجائے گا کہ عصری مضامین داخل ہوئے تو اصل مقصد اور دینی عنصر دب جائے گا،یا تحلیل ہوجائےگا۔طالبان علوم دین میں وہی برائیاں جڑپکڑلیں گی جو عصر ی تعلیم کے طالب علموں میں پائی جاتی ہیں ،دین کی خدمت کا جذبہ کمزور پڑجائے گااور مینارو محراب مؤذن اور امام کو منبر خطیب کو اور مدرسہ معلم کو ترس جائیں گے ۔
ان اندیشوں میں کتنا وزن ہے ،ابھی تول کر دیکھ لیجیے ۔کوئی وجہ نہیں کہ دینی عنصر عصری تعلیم کو پیٹھ دکھاجائے عصری تعلیم اور دینی تعلیم کو آپ ایک دوسرے کے درپے آزاد کیوں سمجھتے ہیں ۔دونوں سے ایک دوسرے کو تقویت پہنچنی چاہئے ۔اس قسم کا خوف کلیسا کو ہوسکتا تھا جس نے علوم یاسائنس کو مذہب کا دشمن ٹھہرا دیا تھا۔آپ نے اس عہد آفریں اور حقیقت شناس سائنسداں گلیلیوں کی کہانی ضرور پڑھی ہوگی ۔اس کا قصور یہ تھا کہ اس نے کلیسا کے اس تصور کو باطل قرار دیاتھا کہ سورج زمین کے گرد گھومتا ہے ۔اس کے تجربات نے یہ بات ثابت کردی تھی کہ یہ ہماری دنیا ہے جو سورج کا طواف کرتی ہے ۔ظاہر بینوں نے جب یہ دیکھا کہ اطالوی سائنسداں حقیقت کی تہ تک پہنچ گیا ہے ،اور اس نے کلیسا کا خوف کھائےبنا اس زندہ اور تابندہ حقیقت کا اعلان بھی کردیا تو کلیسا نے اس ’’فتنہ‘‘ کو فرو کرنے کے لیے اسے زندان میں ڈال دیا اور بالآخر اس بلند مرتبت عالم کو اپنے قول سے پھر جانے پر مجبور کردیا۔بیچارے نے بہ درجۂ مجبوری زنداں کی بیچارگی کو ختم کرنے اور علم اور مشاہدہ اور تجربہ کی کھلی ہوئی ہوا میں پھر سے سانس لینے کے لیے کہہ دیا کہ جو کچھ اس نےکہا تھا وہ غلط ہے ۔سوچیے کہ اس کوہ قامت ہیئت داں کے دل پر کلیسا کے اس جبر سے کیاگزری ہوگی ۔غریب نے تسکین قلب کے لیے پھر بھی دبی زبان سے یہ کہہ دیا کہ میرے کچھ کہہ دینے سے زمین اپنی حرکت طواف سے باز تو نہیں آئے گی ۔علوم اور تہذیب نے دنیا میں جو ترقی اب تک کی ہے وہ مشاہدہ ،تجربہ ،غور وخوض اور اخذِ نتائج سے کی ہے ،اوریہی قرآن کریم کی تعلیم ہے جس نے بعثت سر ورکائنات ﷺکے ڈیڑ ھ سو سال کے اندر مسلمانوں کو علوم کا قافلہ سالار اور ایک عالم کا فرماں روا بنادیاتھا۔اس وقت عصری اور دینی تعلیم کی تفریق سرے سے تھی ہی نہیں ۔یاد رکھئے کہ اگر دین کی تعلیم صحیح ڈھنگ سے دی گئی تو اس کا پلہ عصری تعلیم پر بھاری رہے گا۔ہمیں عصری تعلیم یاعصری مضامین کے شمول سے خائف ہونے کی ضرورت نہیں ہے ۔نور حق نفس اعدا سے بجھنے والا نہیں ۔دینی تعلیم کو برائیوں کے خلاف حصار کاکام کرنا چاہئے ۔وہ تو قدروں کو دل ودماغ میں پیوست کرنے کے لیے ہے ۔یوں بھی مدرسوں کی دیواریں معاشرہ کی برائیوں کو اندر آنے سے زیادہ دیر تک روک نہیں سکتیں ۔رہی بات کہ مینار و منبر و محراب سونے رہ جائیں گے اور مدرسہ ویران ۔اول تو ہمارے یہاں پروہتی نظام ہے ہی نہیں ۔اگرکہیں شاہی یامورثی امام نظر آئیں تو اسے دین سے انحراف سمجھئے ،یہ دین کا اتباع ہر گز نہیں ہے ۔نمازیوں میں جو زیادہ پرہیز گار ہے ،امامت پر اسی کا حق ہے ۔یہ بات سمجھ میں آنے والی نہیں کہ چند عصری مظامین کا شمول طالبان علوم دین کو مسجد اورمدرسہ سے برگشتہ کردے گا۔یہ بھی یاد رکھئے کہ ہمارے مدارس میں عصری موضوعات دینی مباحث کے دوش بدوش پہلے بھی چلے ہیں ۔اصلاح کا سجھاؤ دینے والے یہی تو کہتے ہیں کہ مدارس کے نصاب کے غیر دینی اجزا کو جو فرسودہ یا ازکاررفتہ یا باطل ہوگئے ہیں نصاب سے خارج کرکے ایسے غیر دینی مضامین کو شامل کیاجائے جو ترقی یافتہ ہیں اور حالیہ زندگی میں بہ غایت کار آمد ہوگئے ہیں ۔اور ایسے مضامین کے تناسب کو بھی ضرورت کے مطابق بڑھادیا جائے ۔سمجھ میں نہیں آتا کہ انھیں داخل نصاب کرنے پر اعتراض کیوں کیاجائے ۔وہ مضمون جو افراد اور جماعت کے محرکات اور رد عمل کو سمجھنے اور ان کے ساتھ آشتی اور خوش دلی کے ساتھ بسر کرنے میں مدد کرتا ہے اسے یعنی نفسیات کو داخل نصاب کیوں نہیں کیاجائے گا۔یہی حال عمرانیات کا ہے ،یہی حالت ان علوم کی ہے جن پر سائنس کا اجتماعی لیبل لگادیاگیاہے ۔پھر طالب علم کو اس سیارہ کے بارے میں معلومات کیوں نہ ہو جس پر وہ زندگی بسر کرتا ہے ،اور اس نظام شمسی کے بارے میں جس کا ایک چھوٹا سا جزو وہ سیّارہ ہے ۔جغرافیہ پڑھے بغیر زندگی بسر کرنا ایساہی ہے جیسے اپنے محلہ کے گلی کوچوں اور اپنے مکان کے محل وقوع سے ناواقف ہونا ۔جغرافیہ بتاتا ہے کہاں ،تاریخ بتاتی ہے کب،سائنس بتاتاہے کیسے اور کیوں ۔سارے سوالوں کا جواب یہ علوم نہیں دے پائیں گے ،بہت سے سوالوں کا صحیح جواب ان کے بس میں نہیں لیکن وہ واقفیت کو بڑھاتے ،افق کو وسیع اور ذہن کو روشن ضرور کرتے ہیں ۔ہم ان سے فائدہ نہ اٹھائیں تو ہم کفران نعمت کے مرتکب ہوں گے ۔اللہ تعالیٰ نے ہمیں وہ صلاحیتیں دیں جن کی مدد سے ہم بہت سی حقیقتوں کی تہ تک پہنچ گئے ،ہم نے نا آگہی کی سرحدوں کو بہت پیچھے دھکیل دیا۔ہم نے مصائب و شداید ،تکالیف اور خطرات سے لوہالیا ،قدرت کی بھیانک طاقتوں کو تسخیر کیا۔جو کچھ سیکھا،سمجھا اسے آنے والی نسلوں تک منتقل کیا۔اس طرح تمدن نے سر اٹھایا،اس طرح تہذیب برپا ہوئی ،اس طرح وہ ترقیاں ممکن ہوئیں جس کا سرچشمہ ذہن ہے اور وسیلہ مادہ ہے ۔پروردگار کی مشیت یہی تھی۔اس نے انسان کو اسی کے ہاتھوں ترقی اور تہذیب کی اس منزل تک پہنچادیا۔ان ترقیوں کے ساتھ جو خرابیاں آئیں ظاہر ہے کہ ہمیں ان سے حذر کرنا ہے ۔
یہ بات بار بار سوچنے کی ہے کہ زندگی اور قدرت اور اس کےک مظاہر کی طرح علوم بھی ناقابلِ تقسیم ہیں ۔اسلام جو ساری زندگی پر حاوی ہے ،زندگی کے مصنوعی بٹواروں کوتسلیم نہیں کرتا۔وہ ایک ضابطۂ حیات ہے جس کا فرمان مہد سے لحد تک چلتا ہے اور اس کی روح قطب شمالی سے قطب جنوبی اور مشرق سے مغرب تک جاری و ساری ہے ۔انسان کی کیامجال ہے کہ اسے ٹکڑ ے ٹکڑے کردے ،اسے مصنوعی خانوں میں بانٹ دے ۔جس پر دین نے رہبانیت کو قبول نہیں کیاوہ خود کو دنیا سے الگ کرکے دیکھ ہی نہیں سکتا ۔دنیا ہی کو توصحیح راستے پر چلانے کے لیے وہ آیا ہے ۔اس کی قلمروزندگی کاہر پہلو زندگی کا ہر شعبہ ہے۔
اللہ کا شکر ہے کہ یہ احساس اب عام ہوتا جارہاہے ۔بیشتر مدارس میں اساتذہ اور طلبہ مذکورہ خطوط پر نصاب کی توسیع کے طالب ہیں ۔لیکن دینی تعلیم کے بڑے مراکز شاید ابھی تک قائل نہیں ہوئے ۔سوالیہ نشان کس پر لگایئے ،بصیرت پر یادفاعی زاویۂ نگاہ پر ۔ہمارے ایک بڑے دینی ادارے نے دینی تعلیم پر ایک کانفرنس ان ہی تاریخوں میں رکھی ہے جب علی گڑھ مسلم یونیور سٹی نے یہ کانفرنس بلائی ہے جس میں آپ شریک ہیں ۔اسے اتفاق کہیے یا ارداہ کانام دیجئے ۔کیا آپ اسے تو ارُد پر محمول کریں گے ۔یہ مسائل ساتھ بیٹھ کر حل کرنے کے ہیں ۔خدارا ملت کودو نیم ہونے سے بچایئے ۔زندگی جو نامیاتی وحدت ہے ،دو ٹکڑے کرنے سے کیاملے گا۔؟ دنیا سے کنارہ کش ہوگئے تو دین کہاں باقی رہا ،دین کو فاصلہ پر رکھا تو دنیا نہ بگڑ جائے گی۔
ہم نے دیک لیا کہ دینی تعلیم کے اداروں کا نصاب چلّا چلّا کر تبدیلی اور توسیع کا تقاضہ کررہاہے ۔کانوں میں روئی دینے سے آواز تو نہیں بیٹھے گی ۔تبدیلی کی بات آگے چل کر پھر آئےگی ۔نصاب میں تبدیلی سے کم اہم طریق تدریس میں تبدیلی نہیں ہے ۔اس وقت دینی مدرسوں میں زیادہ زور حافظہ پر دیاجاتاہے ۔حافظہ کا سب سے ارفع مطلب لاریب حفظ قرآن ہے ۔لیکن نصاب کی تفہیم ذہم ہی کے وسیلہ سے ہوتی ہے ۔عصری تعلیم کے طرز تدریس نے مدتیں ہوئیں حافظہ کے وزن کو بہ حیثیت ایک دماغی قوت کے کم کردیا اور ذہم کے کردار کو بڑھادیاہے ۔سیکھنے اور سکھانے کا گُر اب یہ ہے کہ طالب علم کے ذہم کو جستجو سے تابندہ اور بیتاب کردیاجائے ۔اسے غور وفکر کی شاہراہ پر ڈال دیجئے پھر تحصیل علم کی ساری منزلیں اس پر آسان ہوجائیںگی ۔بات میں سے بات نکلے گی ۔پیاس بجھنے سے پہلے حلق سوکھنے لگے گا۔طالب علم چار درویشوں کیا،کیوں ،کب ،کیسے سے رسم وراہ پیداکرلے گا۔زندگی کے طویل اور ہفتخوانی سفر میں یہ چاروں رفیق اس کاساتھ دیں گے ۔
نصاب کا جہاں تک تعلق ہے ہمارے بعض ادارے آگے بڑھ کر آئے ہیں ،انھوں نے پیش قدمی دکھائی ہے ۔جامعۃ الفلاح نے جو اعظم گڑھ کے قصبے بلریاگنج میں واقع ہے ،اہم عصری مضامین کو جرأت اور وسعت نظر کے ساتھ نصاب میں شامل کرلیا ہے ۔جے پور میں جامعۃ الہدایہ نے دینی تعلیم کے ساتھ صنعتی یا ووکیشنل تربیت کا اہتمام بڑے پیمانے پرکیاہے ۔پہلے جب دینی مدارس کے لیے ووکیشنل ٹریننگ کی بات کی گئی تو کبھی کبھی یہ جواب دیاگیاکہ ہمارے یہ ’’عصری ‘‘ خیر اندیش کود اپنے اسکولوں میں اس کااہتمام کیوں نہیں کرتے ،دینی تعلیمی اداروں میں اس کے شمول پر کیوں اصرار ہے ؟ہم کس طرح انھیں سمجھائیں کہ خدا نخواستہ اس تجویز میں مدارس کے طلبہ کو تحقیر کی نگاہ سے نہیں دیکھا گیا ہے ۔ووکیشنل ٹریننگ پاکر کوہ بہ آسانی روز گار حاصل کرلیں گے ۔انھیں اپنوں اور بیگانوں سے ربط پیدا کرنے اوران کے کام آنے کے مواقع ملیں گے اور وہ اپنی راست روی اور کارگزاری اور حسن معاملہ کے نقوش دلوں پر بٹھاسکیں گے ۔دعوت کا اس سے بہتر طریقہ کوئی اور ہوسکتا ہے ؟اسے بدعت نہ سمجھئے کیوں کہ اس روایت کا سرا صحابۂ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین سے جاکر ملتاہے ،اور خود انگریزی اسکولوں میں ووکیشنل ٹریننگ کو داخل کرنے کی کوشش ایک عرصہ سے جاری ہے ۔کوٹھاری کمیشن (۶۸۔۱۹۶۶)نے ’’پلس ٹو‘‘ کے نظم کی سفارش بھی اسی نیت سے کی تھی۔
نظر یاتی بحث ختم ہوئی ۔اب دیکھنا یہ ہے کہ ان اصلاحات کوعمل میں کیونکر لایاجائے۔؟عمل کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ وسائل کی ہے ۔چند بڑے بڑے مدارس کو چھوڑ کر باقی کی مالی حالت اطمینان کے لائق نہیں ہے ۔جس مشکل سے یہ مدارس چلائے جاتے ہیں اس کاتصور بھی ہم گھر بیٹھے نہیں کر سکتے ۔مہتمموں اور معلموں کا یہ بڑا کارنامہ ہے ،ان کی یہ ایک عدیم المثال خدمت دین اور علم دین کی ہے۔کام نہ زبانی ہمدردی سے چلے گانہ نکتہ چینی سے ۔پہلے وسائل دیجئے ،پھر اس کی ضرورت پیش آئے تو نکتہ چینی کیجئے ۔ہر ضلع اور ہر بڑے شہر میں مدرسوں کے لیے وسائل کی فراہمی کا باضابطہ انتظام ہونا چاہئے ۔یہ انتظام ہمیں خود کرنا ہے ،کوئی دوسرا ہمارے لیے یہ انتظام کرنے نہیں آئے گا۔
ایک اور ضرورت جو بہت عرصے سے محسوس ہورہی ہے وہ ایک مشترکہ نصاب کی ہے جو ہرجگہ رائج ہو،اور امتحان کےایک نظام کی جر مرکزیت کے ساتھ چلایاجائے ،اور معلمین کی تربیت کی۔ہر پیشہ اور ہرفن ٹریننگ چاہتاہے۔
اصلاحات کو عملی شکل دینے سے پہلے ہمیں بنیادی اعداد وشمار اور ضروری اطلاعات حاصل کرلینی چاہئیں ۔اس دِشا میں کئی بار کوششیں ہوئیں ،ہرکوشش نے دوسری کوششوں کو نظر انداز کیا۔نتیجہ کیاہو؟ڈیڑھ اینٹ کی مسجد یں تو بن گئیں ۔معلومات کا قصر تعمیر نہ ہوسکا۔جب کسی مسئلہ کی چہار دیواری ،اس کا پھیلا ؤ اور گہرائی نظر میں نہ ہو تو اس سے عہدہ بر آکیوں کر ہوا جائے۔ہمدر د ایجوکیشن سوسائتی نے ۱۲سال ہوئے ،مراسلاتی سوالناموں کے ذریعہ معلومات اکٹھا کی ۔جوابات بالعموم دھیان سے اور صحت کے ساتھ نہیں دیے گئے ۔اس بناپر کوئی قابل اعتبار نتائج اخذ نہیں کیے جاسکے ۔ابھی دوسال ہوئے یہ کوشش دوبارہ زندگی کی گئی ہے ۔امید کے ۱۹۹۵کے طلو ع ہونے کے ساتھ معتبر اطلاعات اور نتائج ہماری دسترس میں ہوں گے ۔خود ہمارے میزبان ،مرکز فروغ سائنس نے بھی مطلوبہ اطلاعات جمع کیں اورع ان کاگوشوارہ بنایا۔انسٹی ٹیوٹ آف ابجیکٹیو اسٹڈیز نے بھی مدارس کا سروے اور ان کے بارے میں معلومات ملک گیر پیمانے پر دستیاب کیں ۔تینوں انجمنوں نے یہ کام ایک دوسرے سے بے نیاز ہوکر کیا۔نتیجہ ظاہر ہے ۔جو کام بہت پہلے مکمل ہوجانا چاہئے تھا وہ کئی عنوانوں سے ابھی تشنہ ہے ۔ہم سب کو چاہئے کہ ان اطلاعات اور ان سے ماخوذ نتائج کو عام کریں تاکہ ان کی بنیاد پر ایک منصوبہ مدارس کی تشکیل جدید کا برپاکیاجاسکے ۔
مدارس والوں کو شکایت ہے کہ ’’اسکول والے خواہ مخواہ دخل در معقولات کرتے ہیں ۔ہم تو اسکولوں کے معاملات اور ان کے نظام تعلیم کو نہ جھانک کردیکھتے ہیں نہ ان میں دخل دیتے ہیں ۔‘‘ تصویر کے دوسرے رخ کو بھی دیکھیے اسکولوں اور ان میں پڑھنے والوں کو بجا طور پر یہ شکایت ہونی چاہئے کہ مدارس والے ان کی طرف دھیان کیوں نہیں دیتے ،ان کے مسائل میں دخل دینے سے گریز کیوں کرتے ہیں ؟ان کی بے توجہی اور بے نیازی او ر اس سے زیادہ والدین کی بے التفاتی کا ہی نتیجہ ہے کہ انگریز ی اسکولوں کے طالب علم دین سے بے بہرہ رہ جاتے ہیں ۔یہ صورت حالات انتہائی تشویشناک ہے ۔ان طالب علموں کودین کے بنیادی اصولوں سے آگاہ کرنے کیلئے چھوٹی چھوٹی کتابیں لکھی اور تقسیم کی جائیں ۔یہ کون کرے گا؟ دینی فلاحی ادارے مل کر یہ کام انجام دے سکتے ہیں ۔ایسا کرنے کیلئے ایک بڑی کوشش در کار ہوگی ۔اس بڑی مہم کو مدرسوں ،اسکولوں ،عالموں ،دانشوروں اور اہل ثروت کا تعاون درکار ہوگا ۔بڑی بڑی اور باوسیلہ جامعات و مدارس کے لیے یہ ممکن ہوسکتا ہے کہ وہ تین طرح کے کورس اپنے طلبہ کے لیے واکردیں ۔پہلا شروع سے آخر تک ،بغیر کسی آمیزش یااضافے کے،صرف دینی تعلیم کا نصاب ،دوسرا کورس دینی تعلیم اہم عصری موضوعات کو شامل کرتے ہوئے ،تیسرا دینی تعلیم کے ساتھ پیشہ وارانہ مہارت یا ووکیشنل ٹریننگ ۔انتخاب کے فیصلہ کا اختیار ،ظاہر ہے کہ طالب علم کو دیاجائے گا۔بعض مدارس صرف دو طرح کے کورس فراہم کرسکیں گے ۔دینی اور دینی بہ شمول عصری یادینی تعلیم اور پیشہ ورانہ تربیت ۔دراصل ایسی جامعات اور مدارس کی تعداد بہت کم ہوگی جو طشتری پر تین کورس یا دو کورس رکھ کر طالب علم کو انتخاب کا موقع دے سکیں ۔وہ یاتو دین کے ساتھ اہم عصری مضامین یا ووکیشنل تربیت کو شامل کرسکیں گے ۔اس دور میں جب کہ جدید تعلیم سر پوشوں یا nodules کے ذریعہ انتخاب مضامین کے دائرہ کو دن بہ دن وسیع کرتی جارہ ہے دینی تعلیم میں انتخاب کی وہ محدود گنجائش جس کا ذکر میں نے ابھی کیا،بے محل اور بے مصرف نہیں ہوگی ۔
یہ بات شاید نظروں سے یک گونہ مخفی ہے کہ ہمارے ملک میں دینی تعلیم ایک حیرت انگیز اور گرانقدر عوامی جذبہ و جہد کا نتیجہ ہے ۔ہم اس پر زبان ستائش واکرسکتے ہیں ۔چیں بہ جبیں نہیں ہوسکتے ۔مدارس کے اس زرّیں سلسلہ میں وسعت ،اہتمام ،وسائل اورپھیلاؤ کے لحاظ سے بڑا تنوع ہے ۔ان مدارس کو آپ مشورہ ضرور دیں ،بے شک ان کی شیرازہ بندی کی سبیل کریں ۔ان کے وسائل میں ترتیب ،فراخی اور مداومت لانے کی امکانی کوشش کریں ،اور ضرور کریں ،لیکن انھیں بے کیف و بے رنگ یکسانیت کے شکنجہ میں کسنے کا خیال زنہار دل میں نہ لائیں ۔پندرہ بیس سال ہوئے جامعہ ملیہ اسلامیہ نے ایک قابل قدر کوشش کی تھی ۔اس نے علما اوردانشوروں کو اہم مسائل پر تبادلۂ خیال کرنے کے لیے ایک ساتھ بٹھایا،گفتگو خوشگوار اور بار آور ماحول میں ہوئی ۔ہمیں جائزہ لینا چاہئے کہ بات کچھ آگے بڑھی یا نہیں ،ان فیصلوں پر کچھ عمل بھی ہوسکا؟اسی وضع کی ایک محفل پھر برپا ہونی چاہئے ۔
علی گڑھ تحریک کے عظیم بانی سید والا گہر نے کتنے پتے کی بات کہہ دی کہ قرآن خدا کا قول ہے اور قدرت اور قدرت اس کا عمل ۔قدرت اور اس کے مظاہر اور اس کے اسرارو رموز کو سمجھنے اورع اس کابھید پانے کی کوششیں قرآن سے تحریک اور توانائی پاتی ہیں ۔قرآن اس زندگی کو آئینہ دکھا تا ہے جو ہر پل حرکت میں ہے،ہر لمحہ بدل رہی ہے ،وہ اس کائنات کو اپنی جامعیت میں سموتا اور سمیٹتا ہے جو ناپید کنار ہے ۔کائنات کا سارا نظام اپنی محیرالعقول ترتیب و ہم آہنگی اور شب وروز اورزندگی اور موت کے تواتر کے ساتھ اپنے خالق کی قدرت تخلیق پر گواہی لاتا ہے ۔وحدہٗ لاشریک می گوید ۔وہ خالق ذوالجلال والاکرام جو زندہ اور قائم رکھنے والا ہے ۔جس کی کرسی میں یہ زمین اور سارے آسمان سمت آئے ہیں ۔اس کی عظمت وجلال ،اس کی قدرت و کمال ،اس کی ہدایت وارشاد کا تھوڑا بہت اندازہ بس ان لوگوں کوہوتاہے جو رات دن سوتے جاگتے قدرت کے مظاہر اور شیون پر غور کرتے ہیں اور بار بار یہ کہنے پر مجبور ہوجاتے ہیں کہ یہ طغیانیٔ تخلیق باطل اور بے مقصد ہرگز نہیں ہے ۔سعدی شیرازی نے کوئی ۶سو سال پہلے کہہ دیاتھا:
برگِ درختاںن سبز و نظر ہوشیار
ہرورق دفتر یست م،معرفتِ کردگار
(سوجھ بوجھ رکھنے والے انسان کی نظر میں پیڑوں کی ٹہنیوں سے پھوٹنے والا ہر سبز پتہ پروردگار کو پہچاننے کے لیے ایک دفتر کی حیثیت رکھتا ہے ) ۔اللہ کو وہ شخص کیاسمجھے گا جو اس کی قدرت کے بھیدوں سے ناواقف ہے ۔یہ علوم ہی ہیں جو ان بھید وں کی تلاش میں سرگرداں رہتے ہیں ۔عوام اور طالبان علم کا جہاں تک تعلق ہے ،علوم سے اگر انھوں نے ناتا نہیں جوڑا تو معرفت حق سے ہر آئینہ محروم رہیں گے ۔کیاوجہ ہے کہ ہمارے مدارس ان علوم کو اپنے احاطہ میں داخل نہیں ہونے دیتے ،جنہیں قرآن کی تعلیم و تحریک ،تعبیر وتفسیر نے از سر نو زندہ کیاتھا۔جنھیں وسعت اور جلابخشی تھی۔علوم تو علوم کود قرآن مجید کو ہمارے مدارس میں بھی وہی جگہ ملنی چاہئے جو ہر مسلمان کے دل میں ہے ۔ہمارا دین قرآن و سنت پر مبنی ہے لیکن قرآن کی تفہیم کو صدر مدارس میں نہ جانے کیوں جگہ نہیں دی گئی ۔خود مسلمانوں نے قرآن کی جاں بخش ،جہد آفریں اور حرکت انگیز تعلیم کو فراموش کیا،قرآن کو جزدان میں لپیٹ کرنسیاں کے طاق میں بڑے احترام کے ساتھ رکھ دیا۔
سر سید کے حسن نیت کا اثر ہے کہ علی گڑھ کو دینی مدارس کی فکر دامن گیر رہی ہے اور اس نے کبھی کبھی مدارس کو قریب لانے اور مضبوط کرنے کے لیے قدم بھی اٹھائے ہیں ۔اس نے مدارس کی کچھ اسناد کو تسلیم بھی کیا ہے ۔لیکن کیااتنا کرنا کافی ہے ۔چند سال ہوئے بڑے عزائم کے ساتھ یونیورسٹی کے سینٹر فار پروموشن آف سائنس نے پروفیسر اسرار احمد صاحب کے زیر ہدایت دینی مدارس کے لیے عصری مضامین کا نصاب تیار کرنے کا بیڑا اٹھایاتھا۔باوصف اخلاص یہ کام پایۂ تکمیل تک نہیں پہنچا ۔عبد القیوم صاحب نے مجھے ابھی بتایا کہ آٹھویں جماعت تک کا نصاب مرکز فروغ سائنس نے تیار کرلیاہے اس کی رفتار کو تیز کرنا چاہیے ۔
بہتر یہ ہو کہ یہ کانفرنس دینی تعلیم کے مسائل کو دوہرانے کے بجائے یہ فیصلہ کرے کہ عملی قدم کیاکیا اٹھانے چاہئیں ۔دینی تعلیم کے نصاب میں عصری مضامین میں سے کن کن کو شمول کیلئے چنا جائے ۔ایسے مضامین کی فہرست ترجیحی ترتیب کے ساتھ بنائی جائے ۔تاکہ مختلف مدارس اپنے اپنے حوصلہ اور اپنی بساط کے مطابق ان مضامین میں سےکچھ نصاب میں داخل کرسکیں ۔پھر یہ بھی دیکھنا ہوگا کہ وہ غیر دینی مضامین کون سے ہیں جنہیں الگ کرکے ،ان کی جگہ پر ان مجوزہ مضامین کو داخل کیاجائے ۔یہ بھی سوچیے کہ آیا ٹائم ٹیبل میں روزانہ دو یاتین گھنٹوں کا اضافہ ممکن ہوگا یاکل مدت تعلیم میں چند سالوں کے اضافہ کی طرف توجہ دی جائے یادونوں کو آزمایا جائے ۔ایک بار اگر مدارس کے مہتمم حضرات جدید عصری مضامین کو داخل کرنے پر راضی ہوجاتے ہیں تو پھر اوقات ،میعاد ،موضوعات اور وقت کی تقسیم میں بہت سی تبدیلیاں کرنی ہوں گی ۔
مرکزی وزارت تعلیم نے چند ماہ ہوئے اعلان کیاتھا کہ ان مدارس کو جو بہ طیب خاظر جدید عصری مضامین کو داخل نصاب کرنا چاہتے ہیں اور ان کے پاس اس کے لیے وسائل نہیں ہیں ،سرکار انھیں مجوزہ مضامین پڑھانے کے لیے امداد دے گی ۔میں سمجھتا ہوں کہ مدارس کو اس پیشکش کو قبول کرلینا چاہئے ۔
دینی مدارس کی خود مختاری اور تنوع کو محفوظ رکھتے ہوئے ایک ماڈل نصاب کی تشکیل و ترویج کا اہتمام کیجئے ۔ان مدارس کے لیے ایک مرکزی بورڈ بنانے کا منصوبہ شاید ابھی قبل از وقت ہوگا۔لیکن سمت سفر کے تعین میں کوئی حرج نہیں ہے ۔بڑی جامعات البتہ ایک مشترکہ کمیٹی بناسکتی ہیں جو وقتاً فوقتاً مدارس کا معائنہ کرتی رہے ۔
تین اداروں یا انجمنوں نے دینی مدارس میں تعمیری انداز سے دلچسپی لی ہے ،پہلی انجمن تو یہی مرکز فروغ سائنس ہے ،دوسری ہمدر ایجوکیشن سوسائٹی دہلی ،تیسری اسلامک فاؤنڈیشن دہلی ہے ۔ان تینوں نے الگ الگ سروے کاکام کیاہے ۔پہلی اور تیسری نے نصاب کی تیاری میں سرگرمی دکھائی ہے ۔کیاہی اچھا ہوا گر یہ تینوں کمیٹیاں مل بیٹھیں اور سروے کے نتائج کا تجزیہ کرکے انھیں منظر عام پر لائیں ۔علمائے کرام سے مشورے کے بعد وہ عصری مضامین کے نصاب کو مکمل کرکے مشتہر اور فراہم کردیں ۔مدارس اور ان کی پیش رفت کے متعلق اعداد و شمار کو جمع کرنے اور انھیں زیر نظر رکھنے کاکام بھی یہ کمیٹی کرسکتی ہے ۔
ایک اور بڑا کام جس کی طرف میں اشارہ کرچکاہوں انگریزی اسکولوں کے طلبہ کے لیے ایسی کتابوں ،کتابچوں اور رسالوں کی تیاری اور اشاعت ہے جو انھیں دین سے آشنا کردیں ۔مزید برآں ضرورت ہے متعلقہ انجمنوں اور اداروں میں رابطہ کی اور اس موضوع پر جو کانفرنسیں ہوتی رہی ہیں اور ہوتی رہیں گی ان میں تسلسل کی اور ان کے فیصلوں کو عمل میں لانے کی اور اس ضمن میں رائے عامّہ تیار کرنے اور عوام کو باخبر رکھنے کی ۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close