ادب

خواتین کا رول

سید حامد
عورتوں کو ہم صنف نازک کہتے ہیں ،کوئی اس پر اعتراض بھی کرسکتاہے ،لیکن ہمیں یادرکھنا چاہیے کہ انسان کی بقا کا انحصار بھی عورتوں پر ہے ۔بہ حیثیت صنف کےک وہ زیادہ استوار اور زیادہ دیر پا ہیں ۔دنیا میں جو بڑے اور عہد آفریں اشخاص ہوئے ہیں ان میں سے بیشتر اس مقام کو عورتوں کےک فیض تربیت کی وجہ سے پہنچے ہیں ۔جو قومیں اپنی عورتوں کی طرف سے غفلت برتتی ہیں انھیں حقارت کی نظر سے دیکھتی ہیں ۔وہ کبھی ترقی نہیں کرتیں ۔کسی قوم کے مہذب ہونے کا سب سے بڑا ثبوت یہ ہوتاہے کہ اس میں عورتوں کا احترم کیاجاتا ہے ۔
عورتیں باخبر اور باشعور ہوتی ہیں تو بچے اچھے اورسمجھدار اٹھتے ہیں ۔ماں کی ہوشمندی اور دور اندیشی کا اثر براہ راست بچوں کی ذہنی نشوو نما پر پڑتا ہے ۔دنیا مانتی چلی آئی ہے کہ بچے کا پہلا دبستان ماں کی گود ہے ۔ہمیں ہر قدم پر یہ کربناک اعتراف کرنا پڑتا ہے کہ ہندوستانی مسلمانوں نے آزادی کے بعد زوال کی منزلیں تیزی سے طے کی ہیں ۔سرکارنے بھی تسلیم کیاہے کہ تعلیمی اعتبار سے مسلمان ہندوستا ن کی سب سے ناخواندگی اور جہالت کے دھبے کو اپنی پیشانی سے چھڑانے میں لگ گئے ہیں ۔لیکن اس سے بھی بڑی ایک محرومی کا شاید انھیں احساس بھی نہیں ،وہ ہے تندرستی سے محرومی ۔
کبھی ہم اپنی صحتوں پر ناز کرتے تھے ،اب ان پر نادم ہیں ۔صحت کی طرف توجہ دلانے کے لیے یو۔پی رابطہ کمیٹی نے حال ہی میں ایک صحت کا کارواں نکالا جو دس دن تک شب وروز گرم سفر رہااور جس نے اس بری ریاست کو چھان ڈالا ۔جو کچھ ہم نے دیکھا اور سنا اس سے ہم اس نتیجے پر پہنچے کہ صحت کے لحاظ سے شمالی ہندوستان کے مسلمانوں کی حالت انتہائی تشویشناک ہے ۔اس کی تفصیل میں جانے کا یہاں وقت نہیں ۔اس لمحہ یہ کہہ دینا کافی ہوگا کہ افراد اور اقوام بنتی ہیں صحت اور تعلیم سے ۔
صحت اور تعلیم دونوں کی نیوبچپن میں ڈالی جاتی ہے ۔تندرستی کا نقطۂ آغاز گھر کی صفائی ہے ۔وہ گھر جنت بن جاتا ہے جو صاف ستھراہو،جس میں سب چیزیں سلیقہ اور ترتیب سے رکھی اور سجائی گئی ہوں ،جس میں روزانہ جھاڑو اور جھاڑپوچھا کا اہتمام کیاجاتا ہو۔جس میں ہر کام کے اوقات مقرر ہوں ۔کھانا وقت سے کھایاجائے،ورزش وقت سے کی جائے،آرام وقت سے کیاجائے ۔ایسے گھر میں نہ گھبراہٹ کا گزر ہوتاہے ،نہ تناؤ کا،نہ الکساہٹ ،نہ دیر خیزی کا۔اور ہم سب جانتے ہیں کہ گھر پر راج خواتین کاہووتاہے۔گھر کی بی بی گھر کی مالکہ ہوتی ہے ۔گھر کی روایت ،گھر کی ساتھ اسی سے بنتی ہے ،گھر وہی چلاتی ہے ،وہ گھر بھی وہی چلاتی ہے جہاں بظاہر مردوں نے جبر کا ایک نظام قائم کررکھا ہو۔تہذیب کا مرکز گھر ہے ۔جب تک انسان نے گھر نہیں بنائے ،ان میں سکونت اختیار نہیں کی،وہ تہذیب سے محروم رہا ۔گھر عورت کی قلمرو ہے ،اس کا قلعہ ہے ۔یہاں سے وہ آنے والی پیڑھیوں کا تیار کرکے نبردِحیات کے لیے باہر بھیجتی ہے ۔یہ انسانی ظروف جن پر سماج مشتمل ہے ،مٹی گوندھ کر ان کی کوزہ گری عورت ہی کرتی ہے ۔وہ ان کے اخلاق و کردار ،اطوار وگفتار کو ڈھالتی ہے یہ بہت بڑا کام ہے جسے عورت کے سوا کوئی نہیں کرسکتا۔
جو کچھ اوپر کہاگیاہے اس سے یہ نہ سمجھنا چاہیے کہ عورت صرف اس لیے جیتی ہے کہ گھر کے نظم کو چلائے ،شوہر کے آرام اور ضرورت کو خیال رکھے ،بچوں کی پرداخت اور تربیت کرے چھوٹے بھائیوں اور بہنوں کی دیکھ بھال کرے۔اس کے علاوہ بھی وہ بہت کچھ ہے ۔اس کی اپنی الگ شخصیت ہے ۔یہ ہماری ذمہ داری ہے ،یہ مردوں کی ذمہ داری ہے کہ اس کی شخصیت نشو ونما پائے،اس کا ذہنی اور فکری افق گھر میں محدود ہوکر نہ رہ جائے ۔اس کی شخصیت پنپے ،پروان چڑھے ،پھلے پھولے ۔بچے پیدا کرنے کے علاوہ تخلیق کی اور بہت سی شاہراہیں بھی اس پر وا ہو جائیں ۔انسانی مسائل اور تہذیبی تغیرات پر غور وفکر کرنے کا اسے بھی موقع ملے ۔مرد یہ سوچنے کی جسارت نہ کریں کہ عورت ذہنی طور پر ان سے کمتر ہے ۔یہ اور بات ہے کہ اس کی ذہانت کو نشو ونما پانے کا موقع کم دیاگیا۔دیکھئے ہمارے کالجوں اور یونیورسٹیوں میں اب لڑکیاں اکثر لڑکوں کو پیچھے چھوڑ جاتی ہیں ۔
اسلام نے لڑکیوں کا باعث ننگ ہونے کے بجائے سرمایۂ فخر بنایا ۔ان کے مراتب کو بلند کیا۔عورت کو پہلی بار حقوق دیے جو مردوں کے حقوق سے کچھ ہی کم تھے ،وراثت میں اسے شریک کیا۔کلام پاک میں مردوں اور عورتوں کا ذکر سدا ایک ہی سانس میں کیاگیاہے۔گویابار بار جتایاگیاہے کہ وہ رفیق سفر ہیں ،ایک دوسرکے پر منحصر ۔مردوں کو اپنی ساخت کی وجہ سے عورتوں کی ایک عنوان ذمہ داری دی گئی ہے ۔ جنت کو ماں کے پاؤں کے نیچے رکھا گیاہے ۔
جو لوگ عورتوں کے ذہنی نشو ونما کے قائل نہیں ہیں اور یہ سمجھتے ہیں کہ انھیں گھر سے باہر قدم نہیں رکھنا چاہیے اور جو اس فرسودہ روایت کو اپنے ذہن سے جدا نہیں کرسکتے کہ عورت صرف دوبار گھر سے نکلتی ہے ،ایک بار دلہن بن کر ڈولی یا پالکی میں ،دوسری بار جان جان آفریں کو سپر د کرنے کے بعد کاندھوں پر ،انھیں بھی یہ بات تو ماننی پڑے گی کہ وہ ماں جو پڑھی لکھی اور باشور نہیں ہے ،جو دنیا کے نشیب و فراز اور افکار و حوادث سے ناواقف ہے ،اس کے بچوں کی تربیت ناقص اورادھوری رہ جائے گی،گھر کے ماحول کی باخبری سے وہ محروم رہیں گے ۔گھر پر انھیں تعلیمی امداد بھی نہ مل سکے گی ۔مقابلہ کی دوڑ میں وہ ان بچوں سے بہت پیچھے رہ جائین گے جس کی مائیںپڑھی لکھی اور اعلا تعلیم یافتہ ہیں اور خود کو اپنے ہم سنوں سے کمتر سمجھنے لگیں گے یعنی زندگی کی لڑائی لڑے بغیر ہار جائیں گے ۔
الغرض جس زاویہ سے دیکھئے لڑکیوں کی تعلیم و تربیت لڑکوں کی تعلیم و تربیت سے کم اہم نہیں بلکہ کچھ زیادہ ہی ہے ۔تعلیم یافتہ ماں گھر کو سنوارتی ہے ،سجاتی ہے ،اسے ارضی جنت بناتی ہے ،اس میں باخبر ی کا ماحول پیدا کرتی ہے اور بچوں کو جستجو و آرزو کا خوگر بناتی ہے ،ان کے عزائم کو بلند اور ان کی قدروں کوا ستوار کرتی ہے ۔
سب سے بڑا محاذ جہاں عورتوں کو سرگرم عمل رہنا ہے وہ تو گھر ہی ہے ۔گھر کو صاف ستھرا اور باترتیب رکھنے کے علاوہ انھیں یہ چھوٹا سالیکن بہت اہم کام بھی کرنا ہے کہ بچوں کی شروع سے اہی اچھی عادتیں ڈال دیں ۔اچھی عادتیں اور ترتیب زندگی کو بہت آسان بنادیتی ہے ،انھیں یہ بھی دیکھنا ہے کہ بچوں کو متوازن غذا ملے ۔ہم کھانے کے لیے نہیں جیتے بلکہ کھاتے ہیں جینے کےلیے ،زبان کے چٹخارے اور مرچ مسالے کی عادت بچوں کو پڑنے ہی نہ دیجئے۔مردوں پر واجب ہے کہ وہ کام و دہن کی خاطر عورتوں کو باورچی خانہ کا زندانی نہ بنائیں ۔وہ مستحق ہیں فرصت کے لمحات اور آرام کی بچوں کی مناسب پرورش اور نشوو نماکے لیے اور ماؤں کی صحت کی خاطر یہ ضروری ہے کہ خاندان میں اضافہ اعتدال کی حدوں میں رہے ۔
آپ نے دیکھا ہوگا کہ مصارف بڑھ رہے ہیں اور روپے کی قیمت گھٹتی جاتی ہے ۔درمیانی طبقے کے لیے گزر دشوار ہوتی جارہی ہے ۔اکثر صورت حال یہ ہوتی ہے کہ اگر میاں بیوی دونوں ملازمت نہ کریں تو گھر کاخرچہ نہیں چلہ پاتا۔عورتیں حجاب کےک ساتھ ملازمت کرسکتی ہیں ۔بہت سے اسلامی ملکوں میں وہ ایسا کر رہی ہیں ۔ملیشیا میں وہ حجاب کے ساتھ بڑی تعداد میں ملازمت کررہی ہیں ۔ہندوستان میں بھی وہ ایسا کرسکتی ہیں ۔حیا،وقار ،سنجیدگی اور سادگی سپرکاکام کرتی ہیں ۔اعتدال کی راہ یہی ہے ۔ایسا کرنے سے ’ضمنا ً‘ ٹوٹتے ہوئے مشترکہ خاندان کو ٹھہراؤ مل جائے گا۔بچے اگر چھوٹے ہیںاور ماں ملازمت کرتی ہے تو دادی یا نانی ان کی دیکھ بھال کرسکتی ہیں ۔اس طرح ہماری وراثت اور روایت بھی محفوظ رہے گی جس کی حامل نانیاں دادیاں ہوتی ہیں ۔عورتوں کا ملازمت کرنا ایک طرح کا بیمہ ہے ،شوہر خدانخواستہ مرجائے تو بیوی بے سہارہ نہ رہ جائے ۔یاشوہر بیوی کو طلاق دے دے یایوں ہی نکال دے تو وہ سڑکوں پر نظر نہ آئے ۔اللہ پربھروسہ کرتے ہوئے ہر عورت کو علم اور کوئی نہ کوئی ہنر حاصل کرنا چاہئے ۔یہی نہیں ہمارے معاشرہ میں آج کل بہت سی لڑکیاں بیٹھی رہ جاتی ہیں ۔مسلمانوں نے بھی آہستہ آہستہ وہ انتہائی مکروہ اور حیاسوز رسم اختیار کرلی ہے کہ لڑکے والے لڑکی والوں سے مطالبات کرتے ہیں یاامیدیں باندھتے ہیں ۔غریب ماں باپ لڑکے والوں کو دینے کے لیے روپیہ کہاں سے لائیں وہ کڑھتے رہتے ہیں کہ ہم مرجائیں گے اور لڑکی بیٹھی رہ جائے گی تو اس کا کیاحشر ہوگا۔حفاظت کرنے والا اللہ ہے لیکن ہمیں ہرحادثہ کے لیے تیار رہنا چاہئے ۔لڑکیوں کو علم و ہنر سے لیس کردیجئے ،انھیں یہ احساس نہ ہونے دیجئے کہ وہ ماں باپ کے لیے بوجھ بن کرآئی ہیں اور وہ ان کی شادی کی فکر میں گھلے جارہے ہیں ۔اس احساس کی پرچھائیں اگر پڑتی رہی تو ان کی زندگی اجیرن ہوجائے گی ،اور ان کی نشو ونما اور افتاد طبع پر اس کا اثر پڑے گا۔اس زمانہ میں اقتصادی فشار اس قدر بڑھ گیاہے کہ گھر کے ہر بالغ رکن کو گھر کے وسائل میں اضافہ کرنا پڑے گا۔لڑکیوں کے لیے سب سے شریفانہ پیشہ تو تعلیم ہے ۔علاوہ بریں گھر بیٹھ کر اور بھی صحتمند کام کئے جاسکتے ہیں ۔مزید برآں وہ ڈاکٹر ی ،نرسنگ ،وکالت اور دفتروں میں ملازمت کرسکتی ہیں ۔
بہت سی خواتین نے یہ طریقہ اختیار کیاہے اور یہ صحیح بھی ہے کہ جب تک بچے چھوٹے ہیں اور ان کے قرب کے طالب اور حاجتمند ہیں تب تک وہ کوئی ملازمت نہیں کرتیں ،جب وہ بڑھ جاتے ہیں اور اپنے پیروں پر کھڑے ہونے لگتے ہیں یعنی دس بارہ سال کے ہوجاتےہیں تو وہ ملازمت ڈھونڈ لیتی ہیں بچوں کے بڑھنے کے ساتھ گھر کے اخراجات بھی بڑھ جاتے ہیں ۔صرف شوہر کی تنخواہ کافی نہیں ہوتی ،کئی بچے ہوں تو اچھے اسکولوں کی فیس بھی نہیں نکل پاتی ۔
ماں گھر سے نکلتی ہے ،دنیا کےنشیب و فراز سے عہدہ برآں ہوتی ہے تو وہ بچوں کو بہتر تربیت دے سکتی ہے اور اپنے تجربہ اور بصیرت کو ان تک منتقل کرسکتی ہے ۔دنیا میں کیاہورہا ہے اس کے متعلق وہ ان سے گفتگو کرسکتی ہے ۔انھیں باخبر بناسکتی ہے ۔آپ یہ نہ سمجھئے کہ یہ تحریر سب مسلمان گھرانوں کے لیے کی جارہی ہے ۔اس کا اطلاق بالعموم متوسط طبقے پر ہوگا۔اس میں بھی ہرگھر کی صورت حالات اور ضرورتیں مختلف ہوں گی ۔ایسے گھر بھی بہت سے ہونگے جہاں شوہر کی کمائی گھر بھر کی کفالت کے لیے کافی ہوگی ۔ایسے گھروں میں ظاہر ہے عورتوں کو ملازمت سے کوئی سروکار نہیں ہونا چاہیے ۔دوسرے سرے پرو ہ گھر ہیں جنہیں تنگدستی نے اپنے شکنجہ میں کس لیاہے ۔وہاں بھی عورتوں کے ملازمت کرے کا سوال پیدا نہیں ہوتا۔انھیں پورے طور پر مردوں کے قوت بازو کی کمائی پر انحصار کرنا ہوتاہے ۔قصبوں اور چھوٹے شہروں میں عورتوں کے لیے ملازمت کے مواقع یوں بھی کم ہوتے ہیں اور وہاں کی روایات اور رسمیں اس کی اجازت نہیں دیتیں ۔رہ گئے بڑے شہر کے متوسط طبقات جن کی ڈگرپر بالآکر قصبات اور دیہات بھی چلنے لگتے ہیں ،ملازمت کے سلسلہ میں جوباتیں کہی گئیں ان کا روئے سخن ان ہی شہری طبقات کی طرف ہے اور یہ تخاطب ترغیب کے طور نہیں ۔یہ صرف امکانات کی نشان دہی کرتاہے ۔
الغرض عورتوں کا اہم ترین کردارگھر کو چلانا،سجانا اور سنوار نا اور شوہر کی دیکھ بھال اور بچوں کی پرورش اور ان کی ذہنی نشو ونما ہے ۔اس کے ساتھ ساتھ ان کو اپنی شخصیت ،لیاقت اور بصیرت کو بھی فروغ دینا ہے ۔اس طرح نہ صرف ان کی شخصیت کو استحکام میسر ہوگا بلکہ ان کے تجربے اور باخبری سے ان کے بچوں کو روشنی ،ہدایت ،آرزو اور جستجو ملے گی ۔خود ان کی زندگی سکون اور اعتماد کے ساتھ گزرے گی اور انھیں یہ اطمینان ہوگا کہ وہ اپنے والدین پر بار نہیں ہیں ۔ان کے شعور میں اضافہ ہوگا اور ان کے گھر علم کی روشنی اور صحت کی جان بخش فضا سے مزین ہوں گے ۔انشا اللہ

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close