پٹنہ

خواتین کے تئیں حساس بنیں سماج : گورنر

پٹنہ : بہار کےگورنر ستیہ پال ملک نے خواتین کے تئیں برابری اور احترام کا جذبہ رکھنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے آج کہاکہ دنیاکا کو ئی بھی سماج تب تک مہذب نہیں کہاجائے گاجب تک وہ خواتین کا احترام ، تحفظ اور برابری کی ضمانت نہیں دیتا ۔ مسٹر ملک نے یہاں ’ جنڈر اورینٹیشن‘ سے متعلق منعقدہ ورکشاپ سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ دنیا کا کوئی بھی سماج تب تک مہذہب نہیں مانا جائے گا جب تک وہ خواتین کا احترام ، تحفظ اور برابری کی ضمانت نہیں دیتا۔ خاتون پر تشدد کے مسئلے کا حل صرف قانون بنانے سے ہی ممکن نہیں ، بلکہ اس کے لئے فرد کو اپنے نظریات میں تبدیلی لانے کی ضرورت ہے ۔ سوچ میں خواتین کے تئیں برابری اور احترام کاجذبہ ہونا ضروری ہے ۔ گورنر نے کہاکہ فرائض کے تئیں ایمانداری اور کام کے تئیں خلوص خواتین میں مردوں کی بہ نسبت زائد ہوتے ہیں ۔ خواتین باہری دباؤ یا لالچ میں کم پھنستی ہیں۔ بدعنوانی کے معاملے میں انکی شمولیت کافی کم پائی جاتی ہے جبکہ مرد آسانی سے اس میں پھنس جاتے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ آج خواتین میں مردوں کی بہ نسبت کسی بھی شکل میں کام کی صلاحیت کم نہیں ہے ۔ خواتین ، تعلیم ، کھیل کود ، کے ہر شعبے میں کامیابی سے ہمکنار ہو رہی ہیں۔ مسٹر ملک نے مگدھ سمراٹ اجات شترو اور گوتم بدھ کے تاریخی حوالہ دیتے ہوئے کہاکہ اجات شترو کے وزیر اعظم نے ویشالی جن پتھ کے خلاف جنگ میں کامیابی کے امکانات پر جب گوتم بدھ سے پوچھا تھا تب انہوں نے وزیراعظم سے کچھ سوالات کئے تھے ۔ انہوں نے پوچھا تھا کہ کیا ویشالی جن پتھ میں پالیسی ساز فیصلے کیا اجلاس کے توسط سے اجتماعی طور سے کئے جاتے ہیں ۔ کیاوہاں بزرگوں کو عزت واحترام کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے ۔ کیا خواتین کو قدرکی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے ۔ ان سارے سوالات کے جوابات مثبت طور سے ملنے پر گوتم بدھ نے کہا تھا کہ تب ویشالی جمہوریہ کو کوئی طاقت ہرا نہیں سکتی ۔ انہوں نے کہاکہ خواتین کے تئیں حساس اورمہذب سماج سے ہی مضبوط ملک کی تعمیر ہوتی ہے ۔
گورنر نے کہاکہ خواتین کو اپنے خلاف ہونے والے تشدد کی کھل کر مخالفت کرنی چاہئے ۔ خواتین کو اپنے کام کی جگہ پر غلط نگاہ کو بالکل برداشت نہیں کر نا چاہئے ۔ انہیں اپنے خلاف بد سلوکی کی باتوں کو اپنے ساتھی خواتین ، دوستوں سے ضرور شیئر کرنا چاہئے اور غلط نگاہ رکھنے والوں کے خلاف اپنے بھر پور غصے کا اظہار کر کے اسے سزا دلانا چاہئے ۔ انہوں نے ’مہا بھارت‘ کی خواتین کردار ’ دروپدی‘ سے تعلیم حاصل کرنے کی صلاح دی ۔ جنہوں نے اپنی بد سلوکی کا بدلہ کوروں کا ستیہ ناس کرکےلیا تھا۔مسٹر ملک نے کہاکہ ان کا یہ سماجی تجربہ ہے کہ ماں باپ کے لئے آج بیٹوں سے زیادہ بیٹیاںہی مددگارثابت ہور ہی ہیں۔ کئی جگہ خواتین کے خلاف ہونے والے تشدد میں خواتین بھی شامل ہوتی ہیں۔ انہوں نے جہیزی قتل کو ایک سنگین جرم بتاتے ہوئے کہاکہ اپنے گھر آئی دلہن کو جلا کر مار نے والوں کو سخت سے سخت سزا ملنی ہی چاہئے ۔ انہوں نے قتل جنین کو سنگین جرم بتایا اور کہاکہ اس پر ہر حال میں کنٹرول پایا جانا چاہئے ۔گورنر نے مظفر پور گرلس شیلٹر ہوم جنسی تشدد معاملے کی جانچ مرکزی انوسٹی گیشن بیورو کے ذریعہ کرائے جانے کے ریاستی حکومت کے فیصلے کی تعریف کی اوراعتماد ظاہر کیا کہ انسانیت کو شرمسار کرنے والے اس واقعہ میں شامل ہر ایک مجرم کو سخت سے سخت سزا ملے گی۔ انہوں نے خواتین ڈیولپمنٹ کارپوریشن کے کاموں کی تعریف کی اور خواتین کوبا اختیار بنانے کے لئے پرزور مہم چلانے کا مشورہ دیا ۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close