ہندوستان

خواجہ بندہ نوازؒ یونیورسٹی کا قیام خانوادۂ معظم کاعظیم کارنامہ

حضرت بندہ نوازؒ کا آستانہ انسانی یکجہتی کا مرکز ٗ مختلف اندازسے فیضانِ بندہ نوازؒ جاری

614ویں عرس شریف کا آغاز ٗ صنعتی نمائش کا افتتاح ٗ حضرت خسرو حسینی قبلہ ٗ نصیر احمد اور سی ایم ابراہیم کا خطاب
گلبرگہ : یہ فیضانِ بندہ نوازؒ ہے ،جو ان کے خانوادہ نے فروغ علم کی صورت میں جاری رکھا ہے ۔ ابتدائی تعلیم سے لیکر علوم و فنون کے کالجس کے قیام کے بعد اب خود مختار خواجہ بندہ نوازؒ یونیورسٹی کا کارنامہ خواجہ بزرگ بندہ نوازؒ کی دعاؤں کا نتیجہ ہے اور موجودہ سجادہ نشین حضرت سیّد شاہ گیسودراز خسرو حسینی صاحب قبلہ کا عظیم کارنامہ ہے ۔ اس خیال کا اظہار جناب نصیر احمد صدر نشین کرناٹک اسٹیٹ اقلیتی کمیشن نے 28؍ جولائی کی شام گلبرگہ میں حضرت بندہ نوازؒ کے 614ویں عرسِ شریف کے موقع پر کل ہند صنعتی نمائش خواجہ بازار کے افتتاحی جلسہ سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ انھوں نے کہاکہ حضرت خسرو حسینی قبلہ نے درگاہ شریف میں نہایت آرام دہ قیام گاہ سمیت زائرین کے لئے نہایت ہائی ٹیک سہولتیں فراہم کی ہیں ، یہ بھی ان کا بڑا کارنامہ ہے ۔ علاقہ حیدرآباد کرناٹک ہی نہیں ریاست کرناٹک میں خواجہ بندہ نوازؒ یونیورسٹی کا قیام ایک عظیم الشان کارنامہ ہے ۔ قابلِ ترین پروفیسرس کی فیاکلٹی کا انتخاب بھی معمولی بات نہیں ، مجھے توقع ہے کہ حضرت سجادہ نشین قبلہ اپنے علمی مقاصد میں کامیاب ہوں گے ۔ خواجہ صاحب ؒ کے وسیلے سے ان کی مشکلات دور ہوجائیں گی ۔ اقلیتوں اور بلا لحاظ مذہب و ملت عوام الناس اور تشنگانِ علم کی سیرابی میں بندہ نوازؒ یونیورسٹی اہم کردار ادا کرے گی ۔ انھوں نے کہاکہ ایک عظیم الشان ڈیجیٹل لائبریری بھی قائم ہونے والی ہے۔ انھوں نے کہاکہ اقلیتی کمیشن کے ارکان نے کل ان کے ہمراہ بیدر کا دورہ کیا ۔ آج گلبرگہ میں اقلیتی اداروں کے ذمہ داروں اور نمائندوں نے اقلیتی کمیشن سے ملاقات کرکے مسائل سے واقف کروایا۔ انھوں نے صدر اقلیتی کمیشن کی حیثیت سے گلبرگہ کے ڈپٹی کمشنر ،ایس پی اور دیگراعلیٰ عہدہ داروں کو ضروری ہدایات دی ہیں ۔ انھوں نے بارگاہِ بندہ نوازؒ پر حاضری کو عظیم سعادت قرار دیا اور صنعتی نمائش کی افتتاحی تقریب میں مدعو کرنے پر حضرت سجادہ نشین سے اظہارِ تشکر کیا ۔
تقدس مآب حضرت سجادہ نشین محترم سیّد شاہ گیسودراز خسرو حسینی صاحب قبلہ نے اپنی صدارتی تقریر میں بتایا کہ حضرت خواجہ بندہ نوازؒ بہ عمر 80سال دہلی سے اورنگ آباد آئے ، آپؒ کا ارادہ اپنے والد محترم حضرت سیّد یوسف حسینی راجہ قتالؒ کی بارگاہ کی نگرانی اور وہیں قیام کا تھا لیکن بہمنی بادشاہ فیروز شاہ کی دعوت پر 1400ء میں گلبرگہ تشریف لائے اور 1422ء میں بہ عمر 105سال وصال فرمایا۔ 25سال تک آپؒ رشد و ہدایت اور بندگانِ خدا کی تالیف قلوب میں مصروف رہے۔ حضرت بندہ نوازؒ نے اپنی شخصیت کے بارے میں خود یہ ارشاد فرمایا تھاکہ میں سنی فقیہ عالم اور صوفی ہوں ، عام طورپر ایک شخصیت میں بیک وقت ان تمام چیزوں کا ہونا مشکل ہے ، لیکن یہ تمام خصوصیات مجھ میں جمع ہیں ۔ حضرت بندہ نوازؒ سلسلہ چشت کے پہلے کثیر التصانیف بزرگ ہیں ۔ آپؒ بھی حضرت امام غزالیؒ کی طرح بیک وقت چار چار کتابیں املا کرواتے تھے ۔ فیروز شاہ بہمنی کا بھائی احمد شاہ بھی آپؒ کا معتقد تھا ، اس نے پایہ تخت گلبرگہ سے بیدر کو منتقل کیا اور اسے محمد آباد سے موسوم کیا یہ نام حضرت خواجہ صاحب کے اسم گرامی سیّد محمد پر رکھا گیا ۔ حضرت بندہ نوازؒ نے بلالحاظ مذہب وملت خلق خدا کی خدمت کی ،اسی لئے بندہ نوازؒ کہلائے ۔ حضرت خسرو حسینی قبلہ نے حیات اور موت کے بارے میں اہل تصوف کے مفہوم کو حضرت بندہ نوازؒ کی تعلیمات کے حوالے پیش کیا۔ انھوں نے صنعتی نمائش کو عرسِ شریف کی طرح قدیم قرار دیتے ہوئے اٹھارہویں صدی کے ایک سیاح کا حوالہ دیا اور صناعوں اور زائرین کا خیر مقدم کرتے ہوئے ان کے دلی مقاصد کے برآنے کی دعا فرمائی ۔
مہمانِ خصوصی مرکزی وزیر سی ایم ابراہیم (ایم ایل سی ) نے اپنی پرُ جوش تقریر میں کہاکہ حضرت بندہ نوازؒ کے بلاوے کے بغیر کوئی آستانے پر حاضری نہیں دے سکتا ۔ انھوں نے اولیاء اللہ کی حیاتِ جاوداں اور ان کے تصرفات پر اظہارِ خیال کرتے ہوئے کہاکہ تصوف میں بڑی طاقت ہے حضرت محی الدین غوثِ پاکؓ اور حضرت خواجہ معین الدین چشتی اجمیریؓ کو اللہ پاک نے دین کے ستونوں کو سنبھالنے کی قوت دی تھی ، یہی قوت حضرت بندہ نوازؒ کو عطا ہوئی ۔ انھوں نے گذشتہ پچیس سال کے عرصہ میں گلبرگہ میں تعلیمی ترقی کو حضرت بندہ نوازؒ کا فیضان قرار دیا اور اس بات پر مسرت کا اظہار کیا کہ حضرت خسرو حسینی صاحب قبلہ کی سرکردگی میں اب بندہ نوازؒ یونیورسٹی قائم ہورہی ہے ۔ انھوں نے کہاکہ حضرت بندہ نوازؒ نے انسانوں میں اُخوت اور محبت کو پھیلا یا اسی کے نتیجے میں آپؒ کا آستانہ انسانی یکجہتی کا مظہر ہے ۔ انھوں نے کہاکہ خواجہ صاحبؒ کے فضل و کرم سے انھوں نے اعلیٰ سیاسی مقام حاصل کیا۔ انھوں کو خود کو خواجہ صاحبؒ کے سپر دکردیا ہے وہ جو حال ان کے لئے پسند کریں وہ اس پر راضی ہیں۔ انھوں نے کہاکہ وہ الحاج قمرالاسلام مرحوم کے چاہنے والوں کو یہ تیقن دینا چاہتے ہیں کہ وہ گلبرگہ کا ہر ماہ دورہ کریں گے اور ہر تعلقہ میں قمرالاسلام جیسا ایک بے لوث لیڈر بنائیں گے ۔ انھوں نے خواجہ صاحبؒ کے وسیلے سے ملک اور ریاست میں امن وامان کی برقراری اور قومی اتحاد کے استحکام کی دعا کی۔ انھوں نے کل ہند صنعتی نمائش خواجہ بازار کا افتتاح انجام دیا۔ جلسہ کا آغاز حافظ محمد اویس قادری کی قرأتِ کلامِ پاک سے ہوا۔ محمد خواجہ گیسودراز نے نعتیہ اور جناب حامد اکمل ایڈیٹر ایقان ایکسپریس نے منقبتی اشعار پیش کئے ۔
تقدس مآب حضرت سیّد شاہ گیسودراز خسرو حسینی صاحب قبلہ نے جناب نصیر احمد اور جناب سی ایم ابراہیم کی گلپوشی فرمائی ۔ معتمد اسٹیٹ درگاہ شریف جناب ایم اے حبیب نے حضرت خسرو حسینی صاحب قبلہ ، حضرت سیّد شاہ حسن شبیر حسینی صاحب سجادہ نشین روضہ منورہ خورد ، اور حضرت سیّد محمد علی الحسینی صاحب (خلف اکبر حضرت سجادہ نشین بارگاہ بندہ نوازؒ ) کی گلپوشی کی ۔ حضرت ڈاکٹر سیّد مصطفی حسینی صاحب ، حضرت سیّد تقی اللہ حسینی صاحب ، حضرت سیّد قطبی حسینی صاحب ، جناب لطیف شریف ، جناب میر صدر الدین علی خان ، ڈاکٹر وہاب عندلیب ، ڈاکٹر محمد علی ، جناب حکیم شاکر ، جناب حامد اکمل ،جناب سید واجد مددگار معتمد سمیت متعدد عقیدت مندان تقریب میں شریک تھے ۔ مولوی محمد خواجہ گیسودراز نے نظامت کے فرائض انجام دیئے۔ افتتاح کے بعد مہمانوں نے بعض اسٹالس کا معائنہ کیا۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close