ہندوستان

درج فہرست ذات و قبائل انسداد مظالم قانون کی اصل شکل کو برقراررکھاجائے گا:پاسوان

نئی دہلی: لوک جن شکتی پارٹی ( ایل جے پی ) کے قومی صدر اور مرکزی وزیر رام ولاس پاسوان نے دلتوں اور غریبوں کے مفادات کی حفاظت کے لئے قومی جمہوری اتحاد ( این ڈی اے) حکومت کا عزم دوہراتے ہوئے پیر کے روز کہا کہ درج فہرست ذات و قبائل انسداد مظالم قانون کی اصل شکل کو برقرار رکھنے کے لئے جتنی بار ترمیم لانے کی ضرورت ہوگی، حکومت لا ئے گي۔ مسٹر پاسوان نے یہاں نامہ نگاروں سے بات چیت میں کہا کہ حکومت نے ایس سی / ایس ٹی انسداد مظالم ترمیمی قانون لاکر ، پروموشن میں ریزرویشن جاری رکھنے کے لئے سپریم کورٹ میں اپنا موقف واضح کرکے اور آئین کے معمار بابا صاحب بھیم راؤ امبیڈکر سے منسلک مقامات کو یادگار میں تبدیل کر کے ان اپوزیشن پارٹیوں کی بولتی بند کر دی ہے، جو حکومت کو دلت مخالف قرار دینے پر تلی ہوئی تھی۔ انہوں نے کہا کہ مودی حکومت کے مندرجہ بالا کاموں سے اس کی دلت مخالف ہونے کی تصویر ختم ہو چکی ہے۔ ایس سی / ایس ٹی ترمیم قانون کو ایک بار پھر عدالت میں چیلنج کئے جانے کے بارے میں پوچھے جانے پر مرکزی وزیر نے کہا کہ چاہے جتنی بار متعلقہ قانون کو کمزور کرنے کی کوشش کی جائے گی، حکومت اتنی بار ترمیمی قانون کے ذریعے اس کو اصل شکل میں لائےگي۔ بہوجن سماج پارٹی کی سربراہ مایاوتی پر دلتوں کو ٹھگنے کا الزام لگاتے ہوئے مسٹر پاسوان نے کہا کہ 20 مئی 2007 کو محترمہ مایاوتی نے اترپردیش میں عصمت دری کے معاملے میں نوٹیفکیشن جاری کرکے قانون کو کمزور کرنے کی کوشش کی تھی۔ انہوں نے چیلنج کرتے ہوئے کہا کہ "محترمہ مایاوتی اس حقیقت کو اگر جھوٹلا دیں تو میں کابینہ سے استعفی دے دوں گا اور میں ثابت کر دوں تو بی ایس پی سربراہ کو سیاست سے ریٹائرمنٹ لینا ہوگا”۔ ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ بہار میں این ڈی اے میں کہیں کوئی دڑارنہیں ہے اور اس بار عام انتخابات میں این ڈی اے کو ریاست کی تمام 40 سیٹیں ملیں گی۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close