پٹنہ

دشرتھ مانجھی لیبر اینڈپلاننگ اسٹڈیز انسٹی ٹیوٹ کا صحیح استعمال ہو گا اور اس کی شناخت قومی سطح پر ہو گی :وزیر اعلیٰ

پٹنہ :وزیر اعلیٰ جناب نتیش کمار نے و یٹنری کالج گرائونڈ کے مغرب واقع ’دشرتھ مانجھی شرم نیوجن اینڈ ادھین سنستھان ‘(دشرتھ مانجھی لیبر اینڈپلاننگ اسٹڈیز انسٹی ٹیوٹ)کی نو تعمیر عمارت کے نام پلیٹ کی نقاب کشائی کر کے اس کا اجراکیا۔اس موقع پر آڈیٹوریم میں منعقد پروگرام کا شمع روشن کر کے وزیر اعلیٰ نے افتتاح کیا ۔ پروگرام کو خطاب کر تے ہوئے وزیر اعلیٰ نے کہا کہ محنت وسائل اور عمارت تعمیرات محکمہ کو اس بات کے لیے مبارک باد دیتا ہوں کہ آنجہانی دشرتھ مانجھی کے نام پر تعمیر اس خوبصورت عمارت کا افتتاح آج کیا گیا ۔ انہوں نے کہا کہ سال 2005 میں حکومت میں آنے کے بعد سے ہم لوگوں نے لیبر کے لیے کئی کام کیے ہیں ۔ بہار کے مزدور بہار کے باہر ملک کے دیگر حصوں میں اور ممالک میں بھی کام کر نے کے لیے بڑی تعداد میں جاتے ہیں ۔ بھوٹان میں بڑی تعداد میں لوگ کام کر نے جاتے ہیں ۔ ماریشش کی 51فیصد آبادی بنیادی طور پر ربہار کی ہے ۔ ریاست میں منصوبوں پر عمل درآمد کیا جارہا ہے ۔ جس سے یہاں کے لوگوں میں آمدنی بڑھی ہے ۔اور باہر جانے والے مرزدوں کی تعداد میں کمی آتی جارہی ہے ۔ ریاست میں بڑی صنعت نہیں لگنے کے باوجود بہار 10فیصد سے زیادہ کے ترقیاتی شرح میں آگے بڑھ رہا ہے ۔
وزیر اعلیٰ نے کہا کہ جیسا کہ خطاب کرنے والوں نے کہا کہ آج کا دن اہم ہے۔ یہ بات صحیح ہے ،لیکن ہر دن ہر کام اہم ہو تا ہے، ہر پل جو موقع ملا ہے اس کا پورا استعمال کر نا چاہئے ۔ مردوروں کے بغیر کوئی کام ممکن نہیں ہے ۔ ان کا بہت اہم کردار ہے ۔انہوں نے کہا کہ 11لاکھ مزدوروں کی رجسٹریشن کی بات بتائی گئی ہے لیکن اس کی تعداد اور زیادہ ہو گی ۔زیادہ سے زیادہ مزدوروں کا رجسٹریشن کرایا جانا چاہئے ،تاکہ ان کے لیے چلنے والے منصوبوں کا فائدہ مل سکے ۔
وزیر اعلیٰ نے کہا کہ مزدوروں کا کوشل وکاس کر کے ہنر مندبنا نے سے ان کے کام کی صلاحیت کے ساتھ ساتھ ان کی آمدنی بڑھے گی ۔ انہوں نے کہا کہ اس اسٹڈیز کا چانکیہ لایونیورسٹی کے ساتھ اور بی بی گیری نیشنل لیبر سینٹر کے ساتھ سمجھوتہ لیٹر پر دستخط کیا کیا ہے ان سینٹر وں کے توسط سے مزدوروں کو قانون کی جانکاری ملے گی اور قانون کے بارے میں ان کی سمجھ بڑھے گی ۔ جمہوریت کی مضبوطی کے لیے لوگوں میں قانون کی سمجھ ہو نی چاہئے اور قانون پر عمل کر نے کے لیے بیدار ہو نا چاہیے ۔ بی بی گیری صاحب بہت بڑے مزدور لیڈر تھے ۔ انہوں نے کہا کہ یہ سینٹر دشرتھ مانجھی کے نام پر بنا یا گیا ہے۔ دشرتھ مانجھی نے اپنی خود اعتمادی اور محنت سے پہاڑ کھود کر راستہ بنا یا تھا ، دشرتھ مانجھی کے نام پر سڑک بنائی گئی ہے، ان کے گائوں مین ان کا مجمسہ لگا یا گیا ہے ۔ وزیر اعلیٰ کے جنتا دربار کے پروگرام میں وہ ہم سے ملے تھے اور ہم نے علامتی طور پر انہیں وزیر اعلیٰ کی کرسی پر بیٹھا یا تھا ۔ ہم نے غریب غرباکے لیے ہمیشہ کام کر تے ہیں ، انہیں یاد کر تے ہیں ۔ ہر شخص میں بہت صلاحیت ہو تی ہے ،کس کے ذہن میں کونسا آئیڈیا آجائے ، جس کے تئیں سپرد ہو کر وہ کچھ ایسا کر جائے کہ سماج کے لیے کارآمد ثابت ہو۔ مزدوروں کے تئیں احترام کا جزبہ رکھتے ہوئے اس سینٹر کا نام رکھا گیا ہے۔ دشرتھ مانجھی سے لوگ حوصلہ پاتے رہیں گے اور لوگوں کے دل میں احترام کا جزبہ قائم رہے گا ۔ جیسی جانکاری ملی ہے کہ دشرتھ مانجھی کو اندرا گاندھی سے ملاقات کے لیے ریلوے لائن کے بغل سے چلتے ہوئے دہلی سے پیدل گئے ۔ یہ سوچنے والی بات ہے کہ ایک مزدور اتنے مضبوط ارادہ کا ہوسکتا ہے ۔ ان کے بیٹے بھاگیرتھ مانجھی بھی اس پروگرام میں شامل ہوئے ہیں یہ خوشی کی بات ہے ۔
وزیر اعلیٰ نے کہا کہ سی ایم ریلیف فنڈ سے لیبر محکمہ کو فنڈدیا گیا ہے ، تاکہ ضرورت پڑنے پر مزدوروں کی مدد کی جاسکے ۔ مزدوروں کی بنیادی چیزوں کے بارے میں سروے کرانے کی ضرورت ہے ۔ آج رجسٹرڈ مزدوروں کے لیے سالانہ طبی امداد منصوبہ کی شروعات کی گئی ہے۔اس سے مزدوروں کے علاج میں مدد کے لیے ان کھاتے میں رقم منتقل کی جارہی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ قومی ہنر مقابلوں کا انعقاد کیا گیا تھا ، جس میں بہار کے 19لوگوں میں سے 11لوگوں کو انعام دیا گیا ہے ۔ یہ لوگ اب ایشیا سطح کے اور بعد میں عالمی سطح کے مقابلوں میں شامل ہونگے ۔ میری پوری نیک خواہیش ہے کہ یہ فاتح ہوں گے اور نوجوان نسل کے لیے حوصلہ کاسبب بنیں گے ۔
وزیر اعلیٰ نے کہا کہ سال 2020تک ایک کروڑ لوگوں کو ہنر مند بنانے کا نشانہ ہم لوگوں نے متعین کیا ہے ۔ ہم لوگوں نے سات عزائم کے تحت ہنر مند نوجوان پروگرام چلا یا ہے ، جس میں سمواد کوشل ، کمپوٹر کی تعلیم اور بیوہار کوشل کی جانکاری دی جاتی ہے۔ ابھی تک چار لاکھ سے زیادہ ہنرمندر پروگرام کے تحت لوگوں کو ٹریننگ دی جاچکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بیوہار کوشل کی ٹریننگ تعلیم یافتہ لوگوں کے لیے بھی بہت ضروری ہے ۔ سلوک اگر بہتر ہو تو سماج میں محبت کا ماحول قائم رہتا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ تعلیم محکمہ کے تحت ہم لوگوں نے اقلیتی طبقہ کی خواتین کے لیے ہنر پروگرام چلا یا گیا ، جس سے خواتین کی کام کی صلاحیت بڑھی ہے اور شہری علاقوں کے علاوہ دیہی علاقوں میں بھی وہ کئی کام جیسے بیوٹی پارلر ، ہنڈ پمپ کی مرمت وغیر کر تے ہوئے اپنی آمدنی بڑھا رہی ہے ۔ اس پروگرام کو بعد میں قومی سطح پر بھی اپنا یا گیا ۔ ہم لوگوں نے ایس سی ، ایس ٹی ، انتہائی پسماندہ لوگوں کے لیے بھی اس پروگرام کی توسیع کی ۔وزیر اعلیٰ نے کہا کہ مرکزی حکومت کی کوشل یووا پروگرام بھی بہتر طریقہ سے کیا جارہا ہے ۔
وزیر اعلیٰ نے کہا کہ محنت وسائل محکمہ مزدوروں کو اس بات کے لیے رغبت دے کے اپنے بچوں کو تعلیم دیں ۔جب ہم حکومت میں آئے تھے تو اس وقت ساڑہے بارہ فیصد بچے اسکول سے باہر تھے جن میں سے زیادہ تر اقلیتی اور مہادلت طبقہ کے تھے ، ہم لوگوں نے ٹولہ سیوک اور تعلیمی مرکزمیں بحال کر کے بچوں کو اسکول تک پہنچا یا اور اب ایک فیصد سے کم بچے بھی اسکول سے باہر ہیں۔تعلیمی مرکز اور ٹولہ سیوکو کا استعمال ، ایس سی ، ایس ٹی انتہائی پسماندہ اور خواتین میں تعلیم کے لیے کیا جا رہا ہے۔ اسکالر شب منصوبہ ، پوشاک منصوبہ ، چلاکر بچوں کو تعلیم سے آراستہ کر نے کے لیے راغب کیا جارہا ہے ۔
وزیر اعلیٰ نے کہا کہ شراب بندی لاگو ہو نے سے غریب لوگوں یو اس کا سب سے زیادہ فائدہ ملا ہے۔ جو اپنی گاڑھی کمائی کا زیادہ پیسہ شراب پینے میں لگا دیتے تھے۔ شراب بندی کے بعداب وہ اپنی گاڑھی کمائی کا پورا استعمال بہتر زندگی گزارنے کے لیے کررہے ہیں۔وزیر اعلیٰ نے کہا کہ شراب کی چلائی کے کام میں جو لوگ جڑے ہوئے تھے ، ان کے متبادل روزگار کے لیے مسلسل روزگار منصوبہ کے تحت 60ہزار سے ایک لاکھ روپے تک کی مدد کی جارہی ہے، انہیں سات ماہ تک ایک ہزار روپے فی ماہ کی شرح سے کام شروع کر نے کے لیے مدد دی جائے گی ۔ انہوں نے کہا کہ خود مدد گَروپ کے لوگ یہاں بیٹھے ہوئے ہیں ،مزدو ر وں سے متعلق مسائل کو سامنے لائیں تاکہ ان کا حل نکل سکے ۔ہیلتھ کے تئیں بھی مزدوروں میں بیداری لانے کی ضرورت ہے ۔ اجابت خانہ کا استعمال کر نے کے لیے انہیں رغبت دیں ، اگر پینے کا صاف پانی اور کھلے میں اجابت سے اگر آزادی مل جائے تو90فیصد بیماریوں سے آزادی مل جائے گی ۔ محنت وسائل محکمہ مزدوروں کے تکنیکی تعلیم ، قانون سے متعلق جانکاری اور بہتر ہنر کے لیے جانکاری تو اس سنیٹر کے توسط سے مہیاکرائے گاہی ساتھ ہی سماجی سروکار سے جڑے ہوئے کام کے تئیں بھی جوڑنے کی ضرورت ہے ۔ بچوں کی شادی اور جہیز کی روایت جیسی سماجی برائیوں کے بارے میں جانکاری مزدوروں کو دی جانی چاہئے ۔ کم عمر میں حمل ٹھہر نے سے خواتین موت کی شکار ہو تی ہیں ، ساتھ ہی پیدا ہو نے والے بچے بونے پن اور کئی دیگر بیماریوں کے شکار ہو تے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ بہار میں کئی اچھی اچھی عمارتوں کی تعمیر کی جارہی ہے ، سردار پٹیل بھون 9رکیٹر پیمانے والے زلزلہ کو برداشت کر سکتا ہے اور 12دنوں تک یہاں پر پر لوگوں کو کسی طرح کی پریشانی نہیں ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ اس عمارت کا یقینی طور پر صحیح استعمال ہو گا اور اس کی شناخت قومی سطح پر ہو گی ۔
وزیر اعلیٰ کا خیر مقدم پودہ اور کتاب پیش کر کے کیا گیا ۔دشرتھ مانجھی لیبر اینڈپلاننگ اسٹڈیز انسٹی ٹیوٹ میں دشرتھ مانچھی کے مجسمہ کی نقاب کشائی وزیر اعلیٰ نے کی ۔ وزیر اعلیٰ نے دشرتھ مانجھی کے بیٹے جناب بھاگیرتھ مانجھی کا استقبال مالا پہنا کر اور مومنٹو دے کر کیا ۔ محنت وسائل محکمہ کے ساتھ ، چانکیہ لا یونیورسٹی اور وی وی گیری نیشنل محنت وسائل کے درمیان اقرار نامہ کا تبادلہ وزیر اعلیٰ کے سامنے کیا گیا ۔تاکہ بہتر ٹریننگ دی جاسکے ۔ اس موقع پر وزیر اعظم کوشل وکاس منصوبہ کے تحت ہنر ٹرننگ یافتہ بچوں کو تقرر نامہ وزیر اعلیٰ نے دیا ۔ قومی سطح پر کوشل وکاس مقابلہ کے تحت گولڈ میڈل ، سیلور میڈل ،میڈل آف آیکسلنسی وزیر اعلیٰ کے ذریعہ فاتح بچوں کو دیا گیا ۔11لاکھ رجسٹرڈ مزدورں کے لیے سالانہ علاج مدد منصوبہ کا وزیر اعلیٰ نے مائوس کا ذریعہ افتتاح کیا ۔
پروگرام کونائب وزیر اعلیٰ جناب سشل کمار مود ی ، محنت وسائل کے وزیر جناب وجے کمار سنہا، عمارت تعمیرات کے وزیر جناب مہیشور ہزاری ، چانکیہ لا یونیورسٹی کے وی سی سابق جسٹِس محترمہ مردولہ مشرا ، وی وی گیری نیشنل لیبر سینٹر کے ڈائریکٹر ایس سری نواس ، محنت وسائل محکمہ کے پرنسپل سیکریٹری جناب دیپک کمار سنگھ نے بھی خطاب کیا ۔
اس موقع پر دشرتھ مانجھ کے بیٹے جناب بھاگیرتھ مانجھی ، مالیات محکمہ کے پرنسپل سیکریٹری جناب ایس سدھارتھ ، وزیر اعلیٰ کے پرنسپل سیکریٹری جناب چنچل کمار ، ہیلتھ محکمہ کے پرنسپل سیکریٹری جناب سنجے کمار ، سائنس وپالیٹکنک محکمہ کے پرنسپل سیکریٹری ہرجوت کور ، وزیر اعلیٰ کے سیکریٹری جناب منیش کمار ورما ، پٹنہ ڈی ایم جناب کمار روی ،وزیر اعلیٰ کے او ایس ڈی جنا گوپال سنگھ ، سمیت دیگر افسران اور شخصیات موجود تھیں۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close