بین الاقوامی

دھمکیوں‌کی پروا نہیں،عمران خان کی حکومت غیر محفوظ:بلابل

ہنزہ: پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کا کہنا ہے کہ عمران خان کی حکومت بہت کمزور اور غیر محفوظ ہے، ہم ان کی دھمکیوں سے نہیں ڈرتے۔گلگت میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے چیئرمین پی پی پی کا کہنا تھا کہ ہم نے ضیاء الحق جیسے حکمران کا سامنا کیا ہے، تو اس کٹھ پتلی حکومت کا بھی سامنا کرنے کے لیے تیار ہیں، ہم ان کی دھمکیوں سے ڈرتے نہیں ہیں۔وزیرِ اعظم عمران خان کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ ’خان صاحب جس طرح اپنی خارجہ پالیسی چلا رہے ہیں وہ بہت ہی افسوس ناک ہے۔
انہوں نے کہا کہ عمران خان پورے پاکستان کے وزیرِ اعظم ہیں، جب ایک وزیرِ اعظم ملک سے باہر جاتا ہے تو وہ پورے ملک کا نمائندہ ہوتا ہے لہٰذا ایسے وقت میں انہیں اپنی ملکی سیاست کا ذکر نہیں کرنا چاہیے۔ان کا مزید کہنا تھا کہ عمران خان باہر جاکر ایسی زبان استعمال کر رہے ہیں جیسا کہ وہ کنٹینر پر کھڑے ہوئے ہیں۔
بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ اگر عمران خان جمہوری روایت کو توڑ کر اپنی زبان استعمال کر سکتے ہیں تو میں بھی اپنی زبان کا استعمال کرتے ہوئے پوری دنیا اور پاکستان کو بتاسکتا ہوں کہ ’غیرجمہوری طاقتوں‘ نے عمران خان کے ساتھ مل کر ووٹ چوری کرکے حکومت بنائی۔انہوں نے کہا کہ وزیرِ اعظم عمران خان نے ’چوری‘ سے حکومت کو تشکیل دیا ہے اور اسی وجہ سے انہیں پاکستان اور پوری دنیا میں مسائل کا سامنا ہے۔
خیال رہے کہ حال ہی میں دورہ ملائیشیا کے دوران وزیرِ اعظم عمران خان نے پاکستانی کمیونٹی سے خطاب کرتے ہوئے اپنے سیاسی مخالفین کو تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔ان کا کہنا تھا کہ اپوزیشن کی خواہش ہے کہ موجودہ حکومت ختم ہوجائے کیونکہ جب تک ہم اقتدار میں رہیں گے مخالفین کے لیے مشکل بڑھتی رہے گی۔ہنزہ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ موجود حکومت نے کرپشن کے خاتمے کے حوالے سے باتیں کیں تھیں، لیکن ابھی تک اس معاملے میں کوئی اقدامات نہیں اٹھائے گئے۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ اس وقت پاکستان میں انتقامی سیاست کا سلسلہ چل رہا ہے، اور موجودہ حکومت سیاسی مخالفین پر دباؤ ڈالنا چاہتی ہے۔
چیئرمین پی پی پی نے واضح کیا کہ ہمیں اپنے جمہوری نظام کو مضبوط بنانا ہوگا اور سنجیدگی کے ساتھ کرپشن کا ختمہ کرنا ہوگا۔
بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ حقِ حاکمیت اور حقِ ملکیت کی آواز قومی سطح پر اٹھائیں گے، گلگت بلتستان میں امراض قلب کے علاج کے لیے ہسپتال نہیں ہے جو بنوایا جائے گا۔ایک مرتبہ پھر پاک چین اقتصادی راہداری سے متعلق بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ’سی پیک میں گلگت بلتستان کا زیادہ حصہ ہونا چاہیے۔انہوں نے اپنے عزم دہراتے ہوئے کہا کہ سندھ میں گلگت بلتستان کےطالبِ علموں کی نشستیں بڑھائی جائیں گی۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close