ہندوستان

دہلی میں سیکس کےدھندے میں ایک درجن مرتبہ خریدی ۔ بیچی گئی یہ لڑکی

دہلی کے ایک اپ نگر کے تھانے میں 16 سال کی پریتی دوڑتی ۔ہانپتی ہوئی پہنچی۔پسینے ۔پسینے ہو چکی گھبرائی پریتی کو جب پولیس نے پورا معاملہ پوچھا تو پریتی نےبتایا کہ وہ بڑی مشکل میں ہے۔پولیس کے سوالوں پر دھیرے دھیرے پریتی نے کھل کر بتایا کہ سے روہتک کے ایک آدمی نے قریب سال بھر پہلے خرید لیا تھا اور صرف اس کے جسم کے استعمال کے لئے اسے قید میں رکھا گیا تھا۔پولیس یہ سب دھیان سے سن رہی تھی ۔روہتک کے کس آدمی نے کس سے خریدا تھا؟ یہ سوال سن کر پریتی نے پھر پانی پیا اور کچھ سانسیں بھر کر تسلی سے پوری کہانی سنائی۔پریتی نے بتایا کہ سال 2009 میں اسے 11 سال کی عمر میں ایک عورت نے ایک لاکھ روپئے میں خریدا تھا ۔رشتہ داروں نے اس کا سوداکر دیا تھا اور وہ اور پریتی کو دہلی لیکر آئی۔

کچھ دنوں تک پریتی کو قید میں رکھا گیا لیکن کھانے پینے کا دھیان رکھا گیا۔ مارپیٹ کرنے کے ساتھ ہی پریتی کو ڈرگس انجیکشن دئے جاتے تھے۔تھوڑے ہی دنوں میں پریتی کا جسم بھر گیا اور وہ ڈرگس کی عادی ہو نے لگی۔پریتی نے بتایا کی اس عورت کو سب پنجابن کہتے تھے اور اس نے پھر سیکس کیلئے پریتی کو بیچنا شروع کیا ۔کم عمر کی لڑکیوں کے شوقین کلائنٹس کے پنجابن کافی وقت تک پریتی کو استعمال کرتی رہی۔

یہ سلسلہ کچھ سالوں تک چلتا رہا اور پھر پریتی کو لکھنؤ کے ایک تسکر کے ہاتھوں پنجابن نے بیچ دیا جو لڑکیوں کا سودا کرتا تھا ۔پنجابن کو اچھی رقم ملی لیکن پریتی کو پھر وہی نرک ملا۔لکھنؤ میں کچھ وقت تک اس کے خریدار نے اس کے جسم کا استعمال کر کے خوب پیسہ کمایا پھر اس نے دہلی کے تلک نگر میں لڑکیوں کے ایک دلال کے ہاتوھں پریتی کو بیچ دیا۔

بیچے اور خریدے جانے کے اس پورے سلسلے کے دوران ڈرگس کی لت سے بچنے کی جدو جہد کر رہی تھی،ساتھ ہی پریتی اکثر اس قید سے چھوٹ جانے کی کوشش کرتی تھی لیکن اس کی تمام کوششیں ناکام ہو چکی تھیں اور ہر کوشش کے بعد اسے بری طرح پیٹا جاتا تھا ۔اس کی اس حرکت کی سزا میں کئی لوگ اس کے جسم کو روندھتے تھے

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close