ادب

دینی مکتب اور مدرسوں کی اہمیت

مسلمانوں کی تعلیمی پسماندگی کے انسداد کا ایک راستہ

سید حامد
حقیقت تو یہ ہے کہ دینی درسگاہوں اور مدرسوں میں پڑھے ہوئے افراد بھی آزادی کی جد وجہد میں سب سے آگے آگے رہے ۔علما نے انقلاب کے پرچم کو بلند رکھا اور نوآبادیاتی حکمرانوں کے خلاف بغاوتوں کی قیادت کی ۔دینی درسگاہوں اورمدرسوں نے عصری تعلیم کے اعلی اداروں کو انگنت ذہین طلبا فراہم کیے اور تعلیم کی سہولتوں سے محروم سماج کے ایک بڑے حصے کو علم کی روشنی فراہم کی ۔کوئی بھی صحیح الدماغ فرد ان دینی درسگاہوں اور مدرسوں کی تعلیمی خدمات سے انکار نہیں کرسکتا ۔ان دینی درسگاہوں اور مدرسوں نے اپنے طلبا کی اخلاقی تربیت میں جو اہم کردار ادا کیاہے اسکا صحیح طور پر اعتراف کرنا بھی ضروری ہے ۔اس بات کو تسلیم کرلینے کی ضرورت ہے کہ دینی درسگاہیں اورمدرسے ایک بڑی تعلیمی اورتربیتی ضرورت کی تکمیل کرتے ہیں ۔خواندگی کو عام کرنے میں جہالت کے انسداد میں ان کا کردار بھی بہت اہم ہے ۔نوجوان اورکمسن طلبا کے اخلاقی کردار کی تعمیر میں ان کے ادا کردہ کردار سے انکار کرنا ممکن نہیں ۔دینی درسگاہوں اور مدرسوں نے اپنے طلبا میں سماجی ذمہ داری اور اخلاقیات کا ایک شعور بیدار کیاہے ۔آبادی کے ایک بڑے حصے کی تعلیمی اور تربیتی ضروریات کی وہ تکمیل کیاکرتے ہیں ۔اگر یہ درسگاہیں اور مدرسے نہ ہوتے تو سماج کا ایک بڑا طبقہ ناخواندہ رہ جاتا ۔اس مرحلے پر جب کہ تعلیم و تربیت کو خانگی شعبے کے حوالے کرنے کی بات چل پڑی ہے تو اس بات پر بڑی حیرت ہوتی ہے کہ ملک بھر میں پھیلی ہوئی درسگاہوں اور مدرسوں کے خلاف ایک معاندانہ اور مخالصمانہ مہم زور پکڑنے لگی ہے اور تعلیم و تربیت عام کرنے ایک طبقے کی مہم کو تنقید اور مذمت کا نشانہ بنایا جانے لگاہے ۔
کربناک المیہ یہ ہے کہ ہندوستان جو کہ قدیم ترین تہذیبوں کا گہوارہ ہے ۔وہاں مغربی طرز تعلیم اور تہذیب کی نقالی کو رائج کرنے کی لہر چل پڑی ہے ۔مغربی ٹکنالوجی کی چکاچوند نے بینائی کو ایسا کچھ متاثر کیا کہ قدیم تہذیبوں میں خامیاں اور کیڑے ہی کیڑے نظر آنے لگے ہیں ۔افسوسناک بات یہ ہے کہ ہماری طرز فکر مغربی طرز فکر بن گئی ہے اور یہ کہاجانے لگا ہے کہ مذہبی تعلیم عصری تعلیم اور ٹکنالوجی کے حصول میں رکاوٹ بنتی ہے ۔میرا تاثر یہ ہے کہ مغربی طرز پر اس طرح سوچنے کا یہ اندازعارضی رہے گا اور بہت جلد ہوشمندی سے کام لیاجانے لگے گا۔
درسگاہوں اور مدرسوں کے نصاب تعلیم میں بھی عصری تقاضوں کو ملحوظ رکھتے ہوئے کئی تبدیلیاں لائی گئی ہیں ۔وہ جو کہ سختی سے ’’درس نظامی‘‘ اپنائے ہوئے تھے انھوں نے بھی نصاب تعلیم میں کئی انقلابی تبدیلیاں روشناس کرائی ہیں ۔اور انگریز ی کے علاوہ علاقائی زبانوں کی تدریس بھی شروع کردی ہے ۔دینی درسگاہیں اور مدرسے اپنی خستہ حالی اور مالیاتی قلت کے باوجود بھی خواندگی اورتعلیم کو عام کرنے میں ملک بھر میں جواہم خدمات انجام دے رہی ہیں ۔ان کا تقابل اگر اعلیٰ تعلیمی اداروں سے جن کے پاس مالیاتی وسائل کی فراوانی ہے ،کیاجائے تو بڑی حیرت ہوتی ہے ۔کیوں کہ ان درسگاہوں اور مدرسوں کی تعداد میں اضافے کے ساتھ ان میں توسیع بھی ہوتی جارہی ہے ۔ملک بھر میں ان کا جال پھیل رہاہے ۔آزاد ہندوستان میں ان دینی درسگاہوں اور مدرسوں کی تعداد میں اضافہ اور ان کا فروغ واقعی حیران کن ہے کیاکسی نے ایک لمحے کے لیے بھی اس بات پر غور کیاہے کہ ان کے فروغ اور ان کی تعداد میں اضافے کا محرک کیاہے ۔اصل یہ ہے کہ تعلیم و تربیت کے سماجی تقاضوں کی اپنی بساط بھر تکمیل کرتے ہیں ۔دوسری وجہ یہ ہے کہ یہ مسلم طبقے کے جذبات اور احساسات کی تسکین کا موجب ہیں کیوں کہ دیگر تعلیمی اداروں میں نصاب تعلیم ایسا ہے جو کہ مسلم اقلیت کے جذبات و احساسات کو شدید ٹھیس پہنچانے والا ہے ۔معاشی پسماندگی مسلمانوں میں مایوسی پیداکرنے کا بڑا محرک بنی ہے ۔اعلیٰ تعلیم اور ٹکنا لوجی کا گراں داموں حصول چونکہ مسلم اقلیت کی کثیر تعداد کے بس سے باہر ہے ۔اس لیے بھی مسلم اقلیت کی نئی نسل کے لیے درسگاہیں اور مدرسے بڑا سہارا ہیں ۔ کیوں کہ ان درسگاہوں یا مدرسوں میں تعلیم و تربیت سے فراغت پاتے ہی طلبا اپنے خاندانی پیشوں سے وابستگی اختیار کرلیتے ہیں ۔بٹوارے کے بعد مسلم اقلیت جس درگت اور زبوں حالی کا شکار بنی ہے اس کے لیے یہ درسگاہیں اور مدرسے ایک ذہنی تسکین اور آسودگی کی فراہمی کا بھی ذریعہ بنی ہوئی ہیں ۔اس لیے ان درسگاہوں اور مدرسوں کی موجودگی میں کوئی قباحت نہیں ہے کیوں کہ یہ مسلم اقلیت کے لیے ایک بڑا سہارا بنے ہوئے ہیں ۔یہ ان کی برہمی اور بے چینی کو دور کرنے کا ذریعہ بھی بنتے ہیں ۔ہوسکتا ہے کہ ان کے تعلیمی نصاب میں کچھ خامیاں کچھ نقائص ہوں لیکن یہ ایسے تو نہیں کہ انھیں دور کرنا ممکن نہ ہو۔ان درسگاہوں اور مدرسوں میں فنون اور دستکاریوں کی تربیت کی فراہمی کے بندوبست کیے جاسکتے ہیں ۔تعلیم و تربیت کو عصری خطوط پر منظم کیاجاسکتاہے ۔
یہ درسگاہیں اور مدرسے قدامت پسندی کاکردار لیے ہوئے ہیں ۔تبدیلی کی یہ مزاحمت کرتے ہیں ۔بالخصوص ایسی صورت میں جب کہ باہر سے ٹھونسنے کی کوشش کی جاتی ہے ۔دیوبندبٹوارے کے باوجود بھی اس ملک کی سب سے بڑی درسگاہ اور عظیم تعلیمی ادارہ ہے ۔ندوۃ العلما مقابلتاً عصری خطوط پر منظم کیاگیا ہے اور وہ فروغ پذیر ہے ۔کیوں کہ وہاں دینی علوم کے ساتھ ساتھ عصری علوم کی تعلیم کا بھی بندوبست ہے ۔لیکن اس کے باوجود یہ دونوں عظیم دینی عصری تعلیم کے تقاضوں کی تکمیل سے اب بھی قاصر ہیں ۔
لیکن اب ملک کی ان تمام دینی درسگاہوں اور مدرسوں میں طلبا کی جانب سے عصری تعلیم کے بندوبست کی مانگ زور پکڑنے لگی ہے ۔میتھس،فزکس ،کیمسڑی جیسے عصری علوم کی تعلیم دیئے جانے کا مطالبہ بڑھ رہاہے ۔یوپی کے اعظم گڑھ ڈسٹرکٹ میں بلاریاگنج میں جمیعۃ الفلاح نے اپنے نصاب تعلیم میں زبردست انقلابی تبدیلی روشنائی کرائی ہے لیکن اسے مالیاتی دشواریوں کا سامنا کرناپڑرہاہے ۔دوسری مشکل اس کے لیے سرکاری اسکیلس کے مطابق اساتذہ اور اسٹاف کو تنخواہوں کی ادائیگی کی ہے ۔علی گڑھ مسلم یونیور سٹی سے وابستگی کے زمانے میں اس بات کی میں نے کوشش کی تھی کہ عصری علوم اور دینی علوم کی تعلیم میں ایک تال میل ایک ہم آہنگی پیدا کی جائے ۔مرکزی حکومت نے حال ہی میں دینی درسگاہوں اور مدرسوں میں عصری علوم کی تعلیم کے بندوبست کرنے کا جو فیصلہ کیاہے میں اس کا خیرمقدم کرتاہوں تو توقع ہے کہ اس بندوبست کے سلسلے میں کوئی نظر یاتی ،سیاسی بندھن نہیں ہوں گے اور نہ ہی کوئی سرپرستانہ باب بے تُکا انداز اختیار کیاجائے گا۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close