مضامین

ذرا غور کیجئے :ہم نے مسجدوں کے اماموں و موذنوں کو بھی نہیں بخشا

حافظ محمد طیب الدین

امامت کی دو قسمیں ہیں اول امامت کبرٰی اور امامت صغرٰی ۔ امامت کبرٰی یعنی حضور اکرم ﷺکی نیابت اور امامت صغرٰی یعنی نماز کی امامت ۔ امامت ـ نماز کے یہ معنی ہے کہ دوسروں کی نماز کا اس کی نماز سے وابستہ ہو یعنی امام اپنی نماز کے ساتھ ساتھ دوسروں کو بھی نماز پڑھائے ۔ علماء کرام لکھتے ہیں کہ امام اور موذن کو ان سب نمازیوں کے برابر ثواب ملتا ہے جنہونے ان کے ساتھ نماز پڑھی ہے حضور ﷺ نے فرمایا اگر تمہیںاس بات کی خوشی ہے کہ تمہاری نماز قبول ہو تو تم میں بہتر شخص امامت کرے ۔ ایک دوسرے مقام پر آنحضور ﷺ نے فرمایا اپنے اماموں کو بہتر چونکہ وہ تمہارے اور رب کے درمیان قبولیت نماز کا وسیلہ ہیں گویا کہ امام مقتدیوں کی نماز کا وکیل ہے مگر افسوس آج ہمارا معاشرہ امام و موذن کے مقام و مرتبہ اور فضیلت سے غافل ہوتا چلاجارہا ہے ۔ہماری سوسائٹی میں امام کا تصور مجبور ، مقروض اور دبی کچلی ذات کا شخص ہے ہماری قوم امام موذن کو ہمیشہ مفلس دیکھنا پسند کرتا ہے وہ یہ چاہتے ہی نہیں کہ ایک امام و موذن اچھے مکان میں رہے عمدہ کپڑے پہنے یا خوش حال زندگی گزارے امام وموذن کی عزت نفس کے ساتھ کھلواڑ کیا جاتا ہے ۔ انتہائی حیرت کی بات ہے کہ ہمارے نمازیوں کی اکثریت امام و موذن صاحبان کو تکلیف دینے میں کو ئی کسر باقی نہیں چھوڑتے بلا مبالغہ ہمارے شہر میں ایسے افراد بھی موجود ہوں گے جن کے اپنے ہی گھراور وزوں میں نا لائقوں کی بدولت پانچ پیسے کا احترام نہیں کیا جاتا مگر وہ حضرات مسجدوں میں ہٹلر بنے بیٹھے نظر آتے ہیں جب وہ امام و موذن صاحبان کو چٹائی کی صفائی ، وضوء خانے کی مرمت اور منبر محراب کی درستی کا حکم دیتے ہیں مگر ان حضرات کا ایک پیسہ بھی مسجد میں چندہ دینے کی حیثیت نہیں بڑے ڈھاک سے کہتے ہیں ہم مسجد کے خدمت گزار ہیں یہ حضرات گھروں میں دبکی بلی کی طرح رہتے ہیں مسجدوں میں آتے ہی شیر کی دھاڑ لگاتے ہیں ان کے دلوں میں اماموںو موذنوں کی کوئی عزت نہیں ہوتی ،مجھے شہر کی ایک مسجد جمعہ کی نماز پڑھنے کا اتفاق ہو ا اور نمازیوںکی کثیر تعداد کی وجہ سے ٹانکی میں پانی ختم ہوا ، ایک جناب مسجد میں سے آئے اور موذن صاحب کو یہ الفاظ کا استعمال کرتے ہوے کہا کی ارے کمینے تجھے نہیں معلوم کہ جمعہ کی نماز میں بہت نمازی آتے ہیں ، پانی ٹانکی میں دیکھنا چاہئے تھا ، تو افلاس ہے ہماری مسجد کا ،تیری وجہ سے ہماری ناک نیچے ہوتی ہے، تونے آج ہماری ناک کاٹ دی ، معلوم کرنے کے بعد مجھے یہ پتہ چلا کہ یہ حضرت کی گھر میں اور عزیز واقارب میں ان کی ناک ہے نہ منہ ہے اور نہ مسجد میں ایک روپیہ کا بھی چندہ نہیں دیتے سالہا سال سے مسجد میں صدر بنے بیٹھے ہیں ۔حالانکہ موذن صاحب جیدحافظ قرآن ہے ، موذن صاحب کے لئے یہ الفاظ استعمال کرتے ہیں ۔شہر کی مسجد میں تو موذن خدمت گزار ہوتے ہیں مگر مصافات میں اکیلا امام ہی صفائی کرتا ہے ،اذان دیتا ہے اور اکیلے ہی نماز پڑھاتا ہے ۔ جوشخص اللہ کی بار گاہ میں ہماری نماز کا سفیر ہے اس کے ساتھ اس قدر ناروا سلوک کیوں وہ بھی ایک ایسے مسلم معاشرے میں جس کی بنیاد ہی کلمہ توحید پر ہے ۔قارین کرام اس مسئلہ کو آسان طریقہ سے سمجھنے اور بے جا حاکم بنے حضرات کے ذہنی علاج کے لیئے دو اشتہار حاضر ہیں جو چند دن پہلے سوشل میڈیا میں گردش کرتے رہے ۔ضرورت برئے باورچی تنخواہ 20,000 فیملی رہائش فری میڈکل فری کھانا فارغ وقت میں اپنا کوئی بھی کاروبار کرسکتا ہے ۔ ضرورت برائے چوکیدارتنخواہ 18000ڈیوٹی صرف 8گھنٹے ٖفارغ اوقات میں کوئی بھی بزنس کرنے کا مجاز ہے اور ٹائم لگانے پر اضافی پیسے بھی ملیں گے خواہش مند حضرات رابطہ کریں ۔ضرورت برائے امام مسجد ضروری کوئف درس نظامی مکمل کورس قرآن پاک قاری عبد الباسط کے طرز پر پڑھتا ہو ،داڑی لمبی ہو لباس سادہ ہو روٹی کم کھاتا ہو ،کھانا صرف دو وقت نیک متقی پریز گار ہو ، اللہ پر توکل کرتا ہو یعنی ختم وغیرہ اور نکاح کے پیسے نہ لے وقت کا پابند ہو ،چوبیس گھنٹے مسجد میں موجود ہو ۔ جنازے بھی پڑھائے ،بچے کے کان میں اذان بھی دے ،دووقت بچوں کو قرآن پڑھائے ،کوئی بیماری ہو تو اس کی تیمارداری بھی کرے ،کسی اور جگہ کوئی کاروبار اور نوکری اور ٹوشن بھی نہ پڑھائے ،مسجد کی صفائی کا خاص خیال رکھے ،صدر اورمعتمد کے گھر کی ترکاری بھی لاتا ہو،شلوار کے پائینچے ٹخنوں سے اوپر رکھے، سر پر عمامہ باندھ کے رکھے ، کسی بچے کو سزا نہ دے ،مسجد آنے والے چھوٹے چھوٹے بچوں کو مسجد میں آنے کا عادی بنانے کے لیئے اپنے خرچ پر ٹافیاں بھی دے وغیرہ وغیرہ ، پرکشش وظیفہ مبلغ 6000ہزار روپے شکریہ ۔آپ کا وقت ضائع کرنا مقصود نہیں تھا بس ایک تلخ حقیقت کی نشان دہی مقصود تھی ۔اب سچ بتائیں یہ حقیقت ہے یا نہیں جانے کہاں گئے وہ دن جب امام موذن کو رہبر اور پیشوا کی نظر سے دیکھا جاتا تھا اب تو حالات اس نہج تک ہمیں گراچکے ہیں کہ اگر امام موذن صاحبان کسی سبب سے نماز فجر میں پہنچ نہ سکے یا لیٹ ہوجائیں تو مساجد کے جاہل اور بے عمل ٹرسٹی تمام نمازیوں کے سامنے گلے گلے پھاڑ کر کہتے ہین کہ امام صاحب ایسا نہیں ہونا چاہیئے ورنہ تنخواہ کاٹ لی جائی گی ۔ ارے نادانوں !آپ امام وموذن کو تنخواہ دیتے ہی کتنی ہو ؟جو بات بات پر کاٹنے کی بات کرتے ہو ۔ شہر وں میں مساجد کی ایسی کمیٹیاں بھی ہیں ہرسال صرف اس وجہ سے امام و موذن کو تبدیل کرتے ہیں کہ اگر ایک ہی امام وموذن ہمیشہ رہا تو تنخواہ میں اضافہ کرنا ہوگا ۔ بعض مساجد میں آئمہ کی تنخواہ اس شرط پر بڑھائی جاتی ہے کہ صبح و شام مدرسہ پڑھانا ہوگا یعنی تنخواہ کے ساتھ ڈیوٹی میں اضافہ ہونا لازمی امر ہے اور بعض جگہ اس شرط پر اضافہ کیا جاتا ہے کہ مسجد کے لیئے چندہ جمع کرنا ہوگا ۔ جبکہ تعمیری چندہ ہو یا روزمرہ کے اخراجات کی رسید یہ ذمہ داری انتظامیہ کی ہے نہ امام کی اسی طرح مسجد کی تعمیر و توسیع اور رنگ و روغن پر تو لاکھوں روپے کا بجٹ ہوجاتا ہے مگر آئمہ مساجد سے صرف نظر ایک لمحہ فکر یہ ہے ۔ امام و موذن صاحبان کے ساتھ غلاموں سا سلوک کرنے میں ہمارے یہاں ڈاکو صفت ٹرسٹی حضرات ذرہ برابر شرم محسوس نہیں کرتے ۔ مسجد کمیٹی مالدار مصلیان کی بنائے جوپانچ تا دس افراد پر مشتمل ہو اور ان کی ذمہ داری امام و موذن صاحب کی تنخواہ اور مسجد کے دیگر اخراجات اپنے جیب سے دیں ۔گھر گھر کا چندہ بند کریں ۔امام و موذن حضرات کی بے وقاری ہوتی ہے اور اسکیم سے کمیٹی کے جھگڑے بھی ختم ہوجوئیں گے اور ہردوسال میں انتخابات کروائیں تا کہ سب کو مالی اور جانی خدمت کا موقع حاصل ہو ۔ ایسے لوگوں کو کمیٹی کا ممبر نہ بنائیں جو امام و موذن صاحبان کا تقدس برقرار نہ رکھ سکیں اور مالدار محلوں کی مساجد بہت سجائی جاتی ہیں لیکن غریب محلے اور دیہاتوں کی مساجد میں برابر سہولتیں نہیں ان کا خیال رکھیں اور انہیں بھی مالی مدد کریں

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close