مضامین

راشٹرپتی بھون کا ایک سفر ایک نظر

عاصم طاہر اعظمی
بہت دنوں سے خواہش تھی کہ وطنِ عزیر کے اس علاقے کو بھی دیکھوں جس کے بارے میں سُن رکھا تھا کہ وہاں پر پرندہ پَر نہیں مارسکتا جہاں تک ہر کسی کی رسائی بآسانی ممکن نہیں وہ رائے سنہا کی چھوٹی پر بنے عالیشان و خوبصورت عمارت راشٹرپتی بھون و سنسد بھون کا خوبصورت علاقہ کہلاتا ہے چونکہ کسی بھی ملک کا راشٹرپتی بھون ہو یا سنسد بھون کافی اہمیت کا حامل ہوتا ہے 2016 میں اسی خواہش کی تکمیل کے لیے دہلی کا رخت سفر باندھا لیکن اس جگہ پر پہنچنے سے پہلے ہی پولیس سیکورٹی نے صاف لفظوں میں منع کردیا (نو انٹری) کسی بھی صورتحال میں آج اندر نہیں جاسکتے وجہ دریافت کرنے پر بتایا کہ پہلے ہی آئی ڈی وغیرہ بھیج کر اجازت لینی پڑتی ہے بالآخر مغل گارڈن گھوم کر واپس اپنی منزل کی طرف روانہ ہوا، گزشتہ ہفتے ہمارے ٹیچر محسن ایڈووکیٹ نے اپنے دوست پُنِت کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ وہ راشٹرپتی بھون میں کونسٹیبل ہے میں نے موقع کو غنیمت سمجھتے ہوئے کہا کہ سر راشٹرپتی بھون و سنسد بھون کو اندر سے گھومنے کی اجازت لیں اور پھر ایک ٹور وہاں کے نام بن جائے کہے کہ ٹھیک ہے بات کرتا ہوں پھر اسی وقت بات کیے اور اندر گھومنے کی اجازت طلب کی تو انہوں نے کہا کہ تمام اسٹوڈینٹس کی اصلی آئی ڈی بھیج دو باقی میں یہاں دیکھ لوں گا،اور تقریباً پانچ دن کے بعد جمعہ کی شام کو یہ خبر ملی کہ کل کی اجازت مل گئی ہے یہ خبر سنتے ہی انسٹی ٹیوٹ کے تمام طلبہ فرحت و شادمانی سے جھوم اٹھے ہر طرف خوشی کا ماحول تھا کوئی کپڑا دھلنے تو کوئی پریس کرنے میں مشغول ہوگیا تو وہیں پر ہمارے اس سفر کے امیر مفتی حامد اعظمی ہر ایک سے وصولی بھی جمع کرتے ہوئے نظر آئے، میں تو دل ہی دل میں یہ سوچ رہا تھا کہ اے کاش سنسد بھون کی بھی اجازت مل گئی ہوتی تو کل اس تمنا کی مکمل تکمیل ہوجاتی پھر بھی وہی ہوتا ہے جو منظور خدا ہوتا ہے صبح ہوتے ہی تمام ساتھیوں نے سفر کی مکمل تیاری کرکے بس کا انتظار کر رہے تھے کہ اچانک بس کے آنے کی اطلاع ملی سب بس کی طرف تیزی سے لپکے اور جلدی جلدی اپنی جگہ لیے تھوڑی ہی دیر میں بس نے ہم لوگوں کو لیکر سوار ہوئی اس طرح ہم لوگوں نے اپنے سفر کا آغاز کیا تقریباً ڈیڑھ گھنٹے بعد وہاں پہنچے اور ابھی بس راشٹرپتی بھون کے علاقے میں داخل ہی ہوئی تھی کہ فوراً ایک پولیس آگے بڑھ کر رکوایا کہا کہ الٹی لائن آنے پر ہر حال میں چالان کٹے گا چالان کٹنے کے بعد ہماری بس آگے بڑھی، ہر کوئی راشٹرپتی بھون و سنسد بھون کے اس علاقے کی خوبصورتی و جاذبِ نظر عمارت کو بس کی کھڑکیوں سے دیکھ کر خوشی محسوس کررہا تھا بس پارکنگ میں لگی تمام ساتھی اتر کر جلدی جلدی آگے بڑھے سرکاری کارروائی و مضبوط چیکنگ کے بعد اندر پہنچے اندر جانے سے پہلے موبائل-فون ایئرفون اور الیکٹرانک کی سبھی چیزیں جمع کروا لیے گئے تھے، اندر داخل ہوتے ہی انہیں لوگوں کی طرف سے طے شدہ منیش نامی گائیڈ نے ہم لوگوں کا راشٹرپتی بھون میں استقبال کیا اور راشٹرپتی بھون کی اہم اہم باتوں کو بتلایا میری ہندی زبان میں مضبوط گرفت نہ ہونے کی وجہ سے اکثر الفاظ سمجھ سے باہر تھے پھر بھی گائیڈ کے ساتھ ساتھ اندر سے راشٹرپتی بھون گھوم کر بہت ساری وہ باتیں معلوم ہوئی جس سے میں ابھی تک ناآشنا تھا،برطانوی سامراج کے عہد میں وطنِ عزیز کی راجدھانی کلکتہ شہر ہوا کرتا تھا لیکن برطانوی سامراجوں کو وہ جگہ زیادہ راس نہ آئی اور وہ لوگ اپنی راجدھانی کہیں دوسری جگہ کرنا چاہ رہے تھے بالآخر انھوں نے 1911ء میں دہلی کو راجدھانی بنانے کا فیصلہ کیا، برطانوی سامراج چاہتے تو لال قلعہ کے علاقے کو راجدھانی بنا سکتے تھے لیکن اس علاقے میں مغل کے زمانے کا دہلی آباد تھا جو اس سے پہلے ہندوستان کی راجدھانی ہوا کرتا تھا لیکن برطانوی سامراجوں کو سیکنڈ راجدھانی پسند نہیں تھی وہ اپنی الگ پہچان بنانا چاہ رہے تھے ان سب کے چلتے ان لوگوں نے نئی دہلی کے اس علاقے کو منتخب کیا، اس وقت برطانوی سامراج کے گورنر وائس رائے اِیڈوِن تھے جنہوں نے اپنے رہنے کے لیے گھر بنانے کا حکم جاری کیا اور انگلینڈ کے مشہور آرکیٹیکچر اِیڈوِن لٹینس کو اس کا نقشہ بنوانے کے لئے بلوایا 1913ء میں تعمیراتی کام شروع ہوکر 1929ء میں تکمیل کو پہنچا اس وقت کا تقریباً ڈیڑھ کروڑ روپے کی لاگت سے وائس رائے ہاؤس تیار ہوا تھا 1931ء برطانوی حکومت کا اس میں پہلا پروگرام ہوا جس میں پوری دنیا کی قد آور شخصیات نے شرکت کی تھی،لیکن شاید ان برطانوی سامراجوں کو معلوم نہیں تھا کہ اب ہندوستان میں ان کا دائرہ تنگ ہونے لگا ہے تقریباً 16 سال ہی اس ہاؤس میں رہنے کے بعد 1947ء میں جب کہ آزادی کا نعرہ پورے وطن میں گونج چکا تھا بالآخر انھیں یہ عالیشان پرشکوہ عمارت کو الوداع کہنا پڑا، 1931ء سے لیکر 1947ء تک اس کا نام وائس رائے ہاؤس تھا 1947ء میں میں اس کا نام بدل کر گورنمنٹ ہاؤس رکھا گیا جبکہ 1950ء میں اس کا نام ایک مرتبہ پھر بدل کر ہمیشہ ہمیش کے لیے راشٹرپتی بھون رکھ دیا گیا اب یہ ہاؤس وقت کے موجودہ صدر جمہوریہ (راشٹرپتی) کے لیے خاص ہوتا ہے، واضح رہے کہ ملک کے پہلے شہری کی حیثیت سے راشٹرپتی ہی کو جانا جاتا ہے اور راشٹرپتی (صدر جمہوریہ) ہی ملک کا سب سے بڑا عہدہ ہوتا ہے آپ راشٹرپتی کے پاور کا اندازہ اس بات سے لگا سکتے ہیں کہ اگر چیف جسٹس آف سپریم کورٹ کسی کو پھانسی کی سزا سنا دے تو وہ صرف راشٹرپتی ہی کے کہنے پر پھانسی کی سزا کا اعلان روک سکتا ہے ورنہ نہیں، اسی طرح راشٹرپتی کو راجیہ سبھا کے 12 ممبران کو چننے کا بھی حق ہوتا ہے پورے ملک میں راشٹرپتی ہی وہ عہدہ ہوتا ہے جو کبھی جھنڈے کو سلامی نہیں دیتا یہ سب راشٹرپتی کی ایسی خصوصیات ہیں جو پورے ملک میں کسی اور کے پاس نہیں ہے، 26 جنوری 1950 ء کو ملک کے پہلے راشٹرپتی ڈاکٹر راجیندر پرساد کو رہنے کے لیے دیا گیا وہ اس راشٹرپتی بھون کی نقش و نگاری دیکھ دنگ رہ گئے تھے 340 کمروں میں سے صرف 5 کمرے اپنے لیے مختص کیے جس میں وہ اپنی فیملی کے ساتھ رہ رہے تھے، اس عالیشان عمارت میں فی الحال وقت کے چودہویں راشٹرپتی رام ناتھ کووند جی رہ رہے ہیں، رائے سنہا کی چوٹی پر بنے راشٹرپتی بھون کی خوبصورت و عالیشان عمارت پوری دنیا میں اپنی ایک منفرد پہچان رکھتی ہے وطن عزیز کے راشٹرپتی بھون کا شمار دنیا کی مہنگی ترین عمارتوں میں ہوتا ہے راشٹرپتی بھون کی قیمت کا اندازہ آپ اس بات سے لگا سکتے ہیں کہ پوری دنیا میں مشہور و پاور فل ملک امریکہ کی مشہور عمارت وائٹ ہاؤس کی قیمت سے تقریباً ڈبل کی قیمت کے قریب ہے راشٹرپتی بھون کی موجودہ قیمت 26 ہزار کروڑ روپے ہے جبکہ وائٹ ہاؤس کی قیمت 14 ہزار کروڑ ہی ہے، واضح رہے کہ وطن عزیز کا راشٹرپتی بھون دنیا کے سبھی راشٹرپتی بھون میں سب سے بڑا ہے راشٹرپتی بھون تقریباً 330 ایکڑ میں پھیلا ہوا ہے جس میں کل 340 بڑے کمرے ہیں جس میں دربار ہال سب سے اہم جگہ ہے ملک کا جب بھی کوئی راشٹرپتی حلف لیتا ہے تو اسی میں حلف تقریب منعقد ہوتی ہے اس میں سب اہم اور خاص بات یہ ہے کہ برطانوی سامراجوں کے زمانے کی رکھی ہوئی چاندی کی کرسی جس کا وزن 6 کنٹل 40 کلوگرام ہے کرسی کا نچلا حصہ یعی صدر جمہوریہ کا پیر ٹھیک انڈیا گیٹ کے بالائی حصے پر رہتا ہے اس ہال کے سامنے بنا بہترین دروازہ جہاں سے انڈیا گیٹ چار کلومیٹر کی دوری پر ٹھیک اسی سیدھے میں واقع ہے جوکہ صرف 26 جنوری اور 15 اگست کو کھلتا ہے یا کسی باہری ممالک سے آئے ہوئے مہمان کی طلب پر کھولا جاتا ہے اس ہال میں گنبد نما بنے حصے کے اوپر وطن عزیز کا جھنڈا لہرتا ہوا اس بات کی علامت ہے کہ وقت کا راشٹرپتی یہیں پر ہے اگر وہ یہاں نہیں رہتا تو جھنڈا نکال دیا جاتا ہے یہ ایک آسان طریقہ ہے وقت کے راشٹرپتی کے ہونے اور نہ ہونے کو معلوم کرنے کا جیسا کہ کل جھنڈا نہیں لگا تھا راشٹرپتی جی حیدرآباد کے کسی پروگرام میں شرکت کے لیے گئے تھے، اس کی بغل میں بنے اشوقا ہال جو کہ پورے راشٹرپتی بھون میں سب سے خوبصورت ہال مانا جاتا ہے پہلے اس میں بھی پروگرام منعقد ہوا کرتے تھے فی الحال کچھ دنوں سے اس میں پروگرام ہونا بند ہے اس کے علاوہ کیبنٹ ہال گفٹ ہال اور کئی بڑے ہال الگ الگ کاموں کے لیے ہیں جن کواس کے وقت استعمال کیا جاتا ہے پورے راشٹرپتی بھون کو چار حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے پہلے حصے میں سرکاری کام دوسرے حصے میں آفیشیلی کام تیسرے حصے میں باہر ممالک سے آئے ہوئے مہمانوں کا انتظام چوتھے اور آخری حصے میں صدر جمہوریہ کے لیے خاص ہے، راشٹرپتی بھون میں ہسپتال، پوسٹ آفس، آئس فیکٹری، اور اس طرح کی بہت سی چیزوں کا مکمل انتظام ہے واضح رہے کہ راشٹرپتی بھون میں ہسپتال کا نظام ملک کے اگیارہویں راشٹرپتی ڈاکٹر اے پی جے عبدالکلام نے شروع کروایا تھا، تاکہ یہاں پر جب بھی کوئی بیمار ہوتو اس کا وی وی آئی پی علاج کروایا جاسکے، ہم لوگوں کا گائیڈ ڈاکٹر صاحب کی زندگی سے بہت متاثر تھا اور تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ ڈاکٹر صاحب کو یہاں مسلمانوں سے زیادہ ہندو لوگ محبت کرتے تھے وہ ایک پڑھے لکھے عام انسان تھے، انہوں نے اپنے زمانے میں ملک ہی نہیں راشٹرپتی بھون کو بھی بہت کچھ دے کر گئے ہیںاخیر میں ہم لوگ گائیڈ کا شکریہ ادا کرتے ہوئے راشٹرپتی بھون سے باہر نکلے، باہر تھوڑی دیر رہنے کے بعد ہمارا گروپ وہاں سے دوسری جگہ گھومنے کے لیے روانہ ہوا اور اس جگہ گھومنے کے بعد مرکز نظام الدین میں مغرب کی نماز ادا کرکے تھوڑی دیر میں واپس اپنے انسٹی ٹیوٹ کی طرف روانہ ہوا، اور الحمد للہ بعافیت ہم لوگ رات میں تقریباً سوا آٹھ بجے اپنے انسٹی ٹیوٹ پہنچ گئے، اس طرح ہمارا ایک دن کا یہ یادگار تاریخی اور معلومات سے پُر سفر مکمل ہوا،

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close