سیاستہندوستان

رافیل پر سنگرام، دونوں ایوانوں کی کارروائی ہنگامے کی نذر

نئی دہلی:پارلیمنٹ میں رافیل طیارہ سودے پر ہنگامہ آج بھی جاری رہا جس سے دونوں ایوانوں کی کارروائی دن بھر کے لئے ملتوی کرنی پڑی۔ تاہم، لوک سبھا میں اپوزیشن کے سخت شور و غل اور نعرے بازی کے درمیان حکومت سروگیسي ریگولیشن بل 2016 منظور کرانے میں کامیاب رہی۔راجیہ سبھا میں مسلسل چھٹے دن آج حکمراں بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) اور اپوزیشن پارٹی کانگریس کے ساتھ ہی ڈی ایم کے، وائی ایس آر کانگریس اور تلگودیشم پارٹی کے مختلف مسائل پر سخت ہنگامہ کئے جانے کی وجہ سے ایوان میں کوئی کام کاج نہیں ہو سکا اور کارروائی کل تک کے ملتوی کر دی گئی۔لوک سبھا میں کارروائی دو بار ملتوی کے بعد شام دو بجے ایوان پھر سے شروع ہونے پر اپوزیشن ڈی ایم کے، کانگریس اور ٹی ڈی پی کے رکن اپنے مطالبات کے ساتھ اسپیکر کی نشست کے قریب آ گئے۔ وہ مطالبات والی تختیاں ہاتھوں میں لئے زور زور سے نعرے بازی کر رہے تھے۔ کانگریس رافیل طیارہ سودے کی مشترکہ پارلیمانی کمیٹی (جے پی سی) سے جانچ کرانے کی مانگ پر اڑی ہے۔ ڈی ایم کے کے رکن کاویری ندی پر باندھ کی تعمیر کی مخالفت کر رہے تھے۔ ٹی ڈی پی کا مطالبہ آندھرا پردیش کو مکمل ریاست کا درجہ دینے اور وہاں آندھرا پردیش تنظیم نو ایکٹ کے مطابق ترقیاتی کام کرنے کا تھا۔ ہنگامے کے درمیان ہی اسپیکر سمترا مہاجن نے صحت اور خاندانی بہبود کے وزیر جے پی نڈا کو سروگیسي ریگولیشن بل پیش کرنے کی اجازت دی۔ تقریبا سوا گھنٹے تک جاری رہنے والی بحث میں نو اراکین نے حصہ لیا۔ اس کے بعد بل کو حکومت کی طرف سے لائی گئی 23 ترامیم کو شامل کرکے پاس کر دیا گیا۔ اپوزیشن کی جانب سے کچھ ترامیم پیش کی گئی تھیں،جنہیں مسترد کردیا گيا۔اس بل میں ملک میں سروگیسي کے کاروبار کو بند کرنے کے لئے مؤثر التزامات کئے گئے ہیں۔اس کے بعد محترمہ مہاجن نے مسٹر رام ولاس پاسوان سے کنزیومر پروٹیکشن بل 2018 پیش کرنے کو کہا۔ مسٹر پاسوان نے اٹھ کر بل کے بارے میں بولنا شروع کیا تو نشست صدارت کے ارد گرد جمع اپوزیشن ارکان نے شور و غل تیز کر دیا۔ کانگریس اور تلگودیشم پارٹی کے رکن بھی نعرے بازی کرتے رہے۔ اس پر اسپیکرنے ایوان کی کارروائی دن بھر کے لئے ملتوی کر دی۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close