سیاستہندوستان

رام مندرپر عدالت کے فیصلے کے بعد ہی حکومت کوئی فیصلہ کرے گی:مودی

نئی دہلی:آئندہ لوک سبھا انتخابات میں بڑا موضوع بننے جارہے اجودھیا میں رام مندر کے بارے میں وزیراعظم نریندر مودی نے آج واضح کیا کہ عدالت کا فیصلہ آنے کے بعد ہی حکومت اس معاملے میں کوئی قدم اٹھائے گی۔مسٹر مودی نے کانگریس سے بھی اپیل کی کہ وہ مندر کے معاملے کے بارے میں عدالتی عمل میں اپنے وکیلوں کے ذریعہ رخنہ نہ ڈالے۔ وزیراعظم کا یہ بیان اس لحاظ سے اہمیت کا حامل ہے کہ ملک بھر میں رام مندر پر آرڈی ننس لائے جانے کے سلسلے میں قیاس آرائیاں کی جارہی ہیں۔وزیراعظم نے نئے سال کے موقع پر اپنے ایک انٹرویو کے بارے میں ٹوئٹ کرتے ہوئے کہا کہ ’’میں کانگریس سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ رام مندر کے معاملے میں اپنے وکیلوں کے ذریعہ عدالتی عمل میں تاخیر نہ کرائے۔‘‘ اگلے ٹوئٹ میں انہوں نے کہا کہ عدالتی عمل کو پورا ہونے دیجئے اس معاملے کو سیاسی زاویہ سے نہ دیکھیں۔ پہلے عدالتی کارروائی پوری ہوجائے اس کے بعد سرکار کے طور پر ہمارے جو ذمہ داری بنتی ہے ہم اسے نبھانے کے لئے سبھی کوشش کریں گے۔پچھلے ایک سال سے سرکار کے گلے کی ہڈی بنے رافیل سودے پر انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ نے اپنا فیصلہ دے دیا ہے اور فرانسیسی صدر نے بھی اپنی بات کہی ہے میں نے بھی پارلیمنٹ اور مختلف عوامی جلسوں میں اپنی بات کہی ہے ۔ انہوں نے مزید کہا کہ ’’ان کی نظر میں میرا جرم یہ ہے کہ میں دفاعی شعبے کو خودکفیل بنانے کے لئے ’میک ان انڈیا‘ پر کام کررہا ہوں۔ میرا جرم یہ ہے کہ میں فوج کی ضرورتوں کو پورا کرنے پر توجہ دے رہا ہوں لیکن میں ان کے الزامات کی پروا نہیں کرتا۔ میں فوج کو مضبوط بنانے کے لئے اپنا کام کرتا رہوں گا ۔ میں ایمانداری سے کام کررہا ہوں۔‘‘سرکاری اداروں کو کمزور کرنے کے اپوزیشن کے الزامات پر وزیراعظم نے کہا ’’10 برسوں تک وزیراعظم کے دفتر کو کمزور کیا گیا اور قومی مشاورتی کونسل کی تشکیل کی گئی۔ اس سے اداروں کی بے عزتی ہوئی، کس نظام میں ایک پارٹی کے رہنما کو کابینہ کے فیصلے کی نقل کو پھاڑنے کا اختیار ہے، ہمیں اداروں کا احترام کرنا چاہیے‘‘۔
تین طلاق کے معاملے پر مسٹر مودی نے کہا کہ ’’تین طلاق مذہب سے متعلق معاملہ نہیں ہے بلکہ اس کا تعلق صنفی انصاف سے ہے۔ کئی اسلامی ملکوں نے اس پر پابندی عائد کررکھی ہے‘‘۔ایک سوال کے جواب میں وزیراعظم نے کہا کہ ’’جو لوگوں کا پیشہ بھاگ گئے ہیں، انہیں لوٹنا ہوگا اور لوگوں کی ایک ایک پائی ادا کرنی ہوگی۔سرکاری کے بدلے کی سیاست کرنے کے کانگریس کے الزام پر انہوں نے کہا کہ ہمارے دل میں کسی کے خلاف کچھ نہیں ہے۔ سرکاری محکمے پیشہ وارانہ طریقے سے کام کررہے ہیں اور یہ حقیقت ہے کہ ملک کا نام نہاد پہلا خاندان ضمانت پر ہے۔ اس کے حامی سچائی چھپانے کی کوشش کریں لیکن انہیں اس میں کامیابی نہیں ملے گی۔ ایک سابق وزیر خزانہ کو عدالت جانا پڑ رہا ہے، یہ لوگ دیکھ رہے ہیں‘‘۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close