دہلیسیاستہندوستان

رام کے نام پر آر ایس ایس ملک کو توڑنا چاہتی ہے ، اب صرف سپریم کورٹ سے امید باقی ہے:ایس ڈی پی آئی

نئی دہلی:سوشیل ڈیموکریٹک پارٹی آف انڈیا (SDPI) نے سپریم کورٹ کے اس فیصلے کا خیر مقدم کیا ہے جس میں سپریم کورٹ نے 4جنوری 2019 کو بابری مسجد مقدمہ کے سماعت کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔اس بات کی امید ہے کہ اس دن بینچ کی تشکیل عمل میںآئے گی اور یہ بینچ سماعت کے شیڈول کے تعلق سے کوئی فیصلہ کرے گی۔ایس ڈی پی آئی اس بات کی بھی امید کرتی ہے کہ اب سنگھ پریوار ا رام مندر تعمیر کرنے کے اپنے اشتعال انگیز منصوبے کوروکے گی اور ساتھ ہی یہ شوشہ بھی بند کرے گی کہ سپریم کورٹ آستھا کے معاملات میں فیصلہ نہیں کرسکتی ہے۔ایس ڈی پی آئی نے وزیر قانون روی پرساد سنگھ اورایچ آر ڈی وزیر پرکاش جاویڈکر کے ان بیانات کی سخت مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ جس میں انہوں نے سپریم کورٹ سے مطالبہ کیا ہے کہ مذکورہ مقدمہ کو روزانہ سماعت کرے۔ گرچہ یہ ضروری ہے کہ عدالت اس تاریخی مقدمہ کا جلد از جلد فیصلہ کرے لیکن کسی کو یہ حق حاصل نہیں ہے کہ ملک کی اعلی ترین عدالت سے اپنی شرائط منوانے کی کوشش کرے۔ یہ عدلیہ کا استحقاق ہے کہ کسی مخصوص کیس کی سماعت کب کیا جائے اور وزراء کو عدالتی عمل مین مداخلت کرنے کا کوئی حق حاصل نہیں ہے ۔اس ضمن میں اپنے جاری کردہ اخباری اعلامیہ میں ایس ڈی پی آئی قومی صدر ایم کے فیضی نے امید ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ رام مندر کے بارے میں چند شرپسند عناصر کی جانب سے کئے جانے بدنیتی پر مبنی جھوٹے پروپگینڈے اور مندر وہیں بنائیں گے جیسے دعوئوں سے عدالتیں متاثر نہیں ہونگیں ۔ شر پسند عناصر کا ایسا کہنا عدلیہ کو دھمکی دینا اور اس کے اختیار کو چیلنج کرنے کے مترادف ہے۔ایس ڈی پی آئی قومی صدر ایم کے فیضی نے آر ایس ایس لیڈران کے ان بیانات کی بھی سخت مذمت کی ہے کہ مندر کو اسی جگہ تعمیر کیا جائے گا۔ایک مہذب معاشرہ اور ایک جمہوری ملک کسی طاقت کی بنیاد پر نہیں بلکہ صرف آئین کی بنیاد پر چل سکتا ہے۔جو لوگ اپنی طاقت کا مظاہرہ کرتے ہیں اور قانون کی حکمرانی کو چیلنج کرنے کی کوشش کرتے ہیں ایسے لوگ ملک دشمن ہیں۔ ایم کے فیضی نے مزید کہا ہے کہ ملک کے مسلمان قابل مبارکبا دہیں کہ انہوں نے بابری مسجد کے انہدام کے 26سال سے اب تک انتہائی صبر کا مظاہر ہ کیا ہے۔ مسلم کمیونٹی نے ہمیشہ عدالتی عمل اور عدالت کے فیصلے پر اپنے اعتماد کو برقرار رکھا ہے۔ایم کے فیضی نے کہا کہ ملک کے چند مفاد پرست سیاستدان جو اقتدار حاصل کرنے اور چند ایسے گروہ جو ہمارے ملک کو ہندو راشٹرا میں تبدیل کرنے کا خواب دیکھ رہے ہیں وہ اس طرح کے پروپگینڈے کی پشت پناہی کررہے ہیں۔ وہ اس جھوٹے دعوے اور فرضی کہانی سے بھی فائدہ اٹھارہے ہیں کہ بابری مسجد سے پہلے وہاں ایک مندر تھا۔ رام مندر کی تحریک کی آڑ میں اور فسطائی آر ایس ایس کی پشت پناہی سے کچھ شر پسند عناصر ملک میں مسلمانوں کے 800سالہ حکومت کے خلاف نفرت پھیلانے کی کوشش کررہے ہیں اور اس پروپگینڈے کے ذریعے ملک کو فرقہ وارانہ بنیاد پر تقسیم کرکے ملک میں مستقل طور پر افراتفری اور انتشارکا ماحول پیدا کرنا چاہتے ہیں۔ ایس ڈی پی آئی قومی صدر ایم کے فیضی نے امید ظاہر کی ہے کہ سپریم کورٹ اس طرح کے ملک مخالف عناصر اور ان کے سرگرمیوں سے واقف ہوگی اور نام نہاد آستھا کے نام پر ملک کو تباہی کی طرف لے جانے والے عناصر سے اس ملک کو بچائے گی۔
(پی آر ایس ڈی پی آئی )

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close