بہارکوسی

رام گڑھوا:گندگی کے درمیان اسکول،کبھی بھی ہوسکتاہے بڑاحادثہ

طالب علم فرش پربیٹھ کرپڑھنے کے لئے مجبور،تعلیمی افسرنے جواب دینے سے بچیں

رام گڑھوا،موتیہاری: ایک طرف ہماراملک سوچھتاکاپاٹھ پڑھانے کے لئے لوگوں کوبیداکررہے ہیں جس کے اثرات بھی دیکھنے کومل رہاہے تو دوسری طرف اسکولوں کی حالت اس معاملے میں افسوسناک ہے۔بات ضلع کہ رام گڑھوابلاک کاایک ایسااسکول جہاں خنجیرکابناہواہے آشیانہ،گندگی اتنی چاروں طرف اس قدرہے کہ وہاں کچھ دیرتک کوئی کھڑابھی نہیں ہوسکتا جی ہاں یہ حال ہے پرائمری اسکول رام گڑھوا(بالک)کا۔اسکول کے انچارج ستیہ پرکاش کمارنے بتایاکہ اس اسکول میں پانی گھس جانے کی وجہ سے کچھ دن تک یہ اسکول دوسرے اسکول میں چل رہاتھا۔اس اسکول کے اکثرحصے جڑجڑہوچکے ہیںجس سے کبھی بھی ناخوشگوارواقعہ ہونے کاخوف بنارہتاہے۔اس کے احاطے میں گندگی اس قدرہے کہ بچے اورٹیچروں کومنہ پرماسک یاپھراپنے ناک پررومال ڈالناپڑتاہے،اسکول کے بائونڈری بالکل پوری طرح ٹوٹ چکاہے ۔اس گندگی کے پھیلنے سے بچے کے بیمارہونے کاخدشہ بنارہتاہے۔ایسے میں جب ایک طرف بچوں کوصاف ستھرائی کے بارے میں سبق پڑھایاجارہاہے تودوسری طرف اسے گندگی میں تعلیم حاصل کربیماربنایاجارہاہے۔اسکول اس قدرجڑجڑہوچکاہے کہ بچے ہمیشہ خوف میں رہتے ہیں کہ کہیں کبھی کوئی حادثہ رونمانہ ہوجائے۔
یہ بھی بتاناضروری ہے کہ آج سے اس گندے اسکول کے احاطے میں ٹیچرس ٹرینگ ڈی ایل ایڈکے طلباتربیت بھی لیں گے۔کیاکہتے ہیں اسکول کے ہیڈماسٹر:اس بابت اسکول کے ہیڈماسٹرستیہ پرکاش کہتے ہیں کہ اسکول کے بغل میں ہی مچھلی بازارلگتی ہے اس میں جتنے بھی مچھلی والے آتے ہیںتوسبھی مچھلی والے اس اسکول کے احاطے میں ہی کچڑے پھینکتے ہیں ۔جہاں تک کیچڑلگنے کی بات ہے تواس بابت بلاک تعلیمی افسرکواطلاع دے چکاہوں اورضلع میں بھی خبردے چکاہوں۔وہیںبلاک تعلیمی افسررجناکمارٰی نے صرف اتناہی کہی کہ میں ہی سب صاف کرائی ہوںجبکہ دیکھاجائے تووہاں ابھی کیچڑکم ہی ہے۔ا ن سے مزیدجانکاری لینے کی جب کوشش کی گئی تووہ سوالوںسے بچنے لگی۔موقع پرٹیچرنیلم کماری،ٹیچرنجام حسین سمیت دیگرموجودتھے۔جبکہ اس بابت ضلع نمائندہ نے رجناکماری سے مزیدجانکاری حاصل کرنے کی کوشش کیاتوانہوںنے یہ کہتے ہوئے فون کاٹ دی کہ میں ابھی راستے میں ہوں بعدمیں بات کرتی ہوں۔البتہ سرکارکوچاہئے کہ وہ اسکول کی طرف نظرکرم سے دیکھتے ہوئے بچوں کوبیماریوں سے بچائیںتب ہی ہمارامستقبل تابناک ہوگا۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close