سیاستہندوستان

راہل کا وزیر اعظم کے عہدے سے پیچھے ہٹنا سیاسی چال،تیسرے مورچہ کے امکانات ختم

نئی دہلی: کانگریس ورکنگ کمیٹی کے ذریعہ پارٹی صدر راہل گاندھی کو وزیر اعظم کے عہدے کا امیدوار اعلان کئے جانے کے فیصلے پر دو دن بعد ہی قدم پیچھے ہٹنا ایک سیاسی قدم ہے ۔ راہل گاندھی نے خود کو وزیر اعظم کے عہدے کی دوڑ سے الگ کر ایک تیر سے کئی نشانے سادھنے کی کوشش کی ہے ۔ کانگریس ذرائع کا کہنا ہے کہ راہل گاندھی ابھی ارجن کی طرح مچھلی کی آنکھ یعنی مشن2019 پر کام کر رہے ہیں۔ کانگریس کا مقصد فی الحال ایک ہی ہے ، مودی سرکار کی واپسی کو روکنا۔ اس سرکار کے راج میں نفرت کے ماحول نے ملک کا فرقہ وارانہ تانا بانا منتشر کر دیا ہے ۔ کانگریسی مورچے میں بحث ہے کہ راہل گاندھی کے اس سیاسی قدم سے ملک میں تیسرے مورچے کے امکانات مکمل طور پر ختم ہو گئے کیونکہ بی جے پی چاہتی تھی کہ تیسر ا مورچہ بنے اورسیکولر پارٹیوں کے ووٹوں کی تقسیم ہو جس کا سیاسی فائدہ بی جے پی کو ہو ۔ کانگریس لیڈر کے مطابق اس اعلان سے راہل نے بی جے پی کے اس الزام کی بھی ہوا نکال دی جس میں انہیں اقتدار کا بھوکا قرار دیا جا رہا تھا ۔ ستھ ہی اس سے ایک پریوار کے اقتدار کے الزامات بھی نہیں لگ پائیں گے ۔وہیں مغربی بنگال کی وزیرا علیٰ اور ترنمول کانگریس (ٹی ایم سی کی صدر ممتا بنرجی اگلے ہفتے دہلی آ رہی ہیں۔ ذرائع کے مطابق 31جولائی سے شروع ہو رہی دو روزہ دورے میں وہ کانگریس کے اہم لیڈروں سے ملاقات کر سکتی ہیں۔ حالاکہ کانگریس کی مغربی بنگال یونٹ ٹی ایم سی سے اتحاد کے خلاف ہے ۔ اب تک پروگرام کے مطابق ممتا بنرجی 31جولائی کو اقلیتوں سے جڑے دو پروگراموں میں حصہ لیں گے اور وہ سیٹ اسٹیفن کالج میں طلبہ اور اساتذہ کو خطاب کریں گے ۔ اس کے بعد دوپہر تین بجے سے کانسٹی ٹیوشن کلب میں کیتھولک بشپ کانفرنس آف انڈیا( سی بی سی آئی) کے ایک پروگرا م میں مہمان خصوصی ہوں گی۔ اگلے دن یعنی ایک اگست کو وہ پورے دن پارلیمنٹ میں اپوزیشن کے لیڈروں سے ملاقات کریں گی۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close