بین الاقوامی

رقم پاک امریکہ ’مشترکہ مقصد‘ میں خرچ ہوئی جو واجب الادا:محمود قریشی

اسلام آباد:پاکستانی وزیرِ خارجہ شاہ محمود قریشی کا کہنا ہے کہ امریکہ کی جانب سے جو رقم روکنے کرنے کا اعلان کیا گیا ہے وہ امداد نہیں بلکہ یہ واجب الادا رقم ہے۔خیال رہے کہ سنیچر کو امریکی فوج نے اعلان کیا تھا کہ پاکستان کی جانب سے شدت پسند عسکری گروہوں کے خلاف ٹھوس کارروائیاں نہ کرنے پر 30 امریکی کروڑ کی امداد منسوخ کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔بی بی سی کے پروگرام سیربین میں گفتگو کرتے ہوئے پاکستانی وزیر خارجہ نے کہا کہ سیکیورٹی امداد موجودہ حکومت کے قیام سے پہلے سے بند ہے۔ ’تین سو ملین کی جو بات ہو رہی ہے وہ نہ تو امداد ہے نہ معاونت ہے۔ یہ وہ پیسہ ہے جو پاکستان نے ازخود دہشت گردی یا دہشت گردوں کے خلاف خرچ کیا۔ یہ وہ پیسہ ہے جو انھوں نے ہمیں ادا کرنا تھا جو وہ کر نہیں پا رہے یا کرنا نہیں چاہ رہے۔ اصولاً تو انھیں ادا کرنے چاہیے۔ یہ وہ خرچ ہے جو ہم ایک ایسے مقصد کے لیے خرچ کر چکے ہیں جو ہمارا مشترکہ مقصد ہے یعنی امن اور استحکام کا حصول اور دہشت گردی کا خاتمہ۔اس سوال کے جواب میں کہ پاکستان اس پیسے کی بازیابی کے لیے کیا کرے گا، شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ ہم امریکہ سے اس معاملے پر بات کریں گے۔یہ مدد اور معاونت تو نہیں یہ وہ پیسہ ہے جو ہم خرچ کر چکے ہیں آئندہ وہ دینا چاہیں نہ دینا چاہیں وہ اور بات ہے۔ ماضی کے جو ہماری واجبات ہیں وہ تو اخلاقاً اور اصولاً ادا ہونی چاہیے۔واضح رہے کہ آئندہ چند روز میں امریکی وزیرِ مائیک پومپیو پاکستان کا ایک مختصر دورہ کرنے والے ہیں۔شاہ محمود قریشی کے مطابق ‘ہم مائیک پومپیو کی آمد کو ویلکم کر رہے ہیں، ہم سمجھتے ہیں اس رابطے سے ہم دونوں کو ایک دوسرے کو سمجھنے میں مدد ملے گی۔پاکستانی وزیر خارجہ نے مزید کہا کہ ‘تصویر کے دو رخ ہوتے ہیں ایک وہ رخ ہے جو وہ دکھا رہے ہیں ایک وہ ہے جو ہم دکھائیں گے تصویر کے دونوں رخ دیکھنے سے ہی حقائق سامنے آتے ہیں۔اعتماد کا فقدان پیدا ہوا ہوا ہے ہمارے آنے سے پہلے سے،ہمیں ورثے میں تعلقات میں سردمہری اور کشیدگی ملی ہے اور تقریباً باہمی تعلقات منقطع ہیں۔ اس میں عدم اعتماد کو کم کرنا ہے اور ایک دوسرے کو سمجھنا ہے۔ ‘
اس سے قبل سینچر کی شب پینٹاگون کے ترجمان لیفٹیننٹ کرنل کونی فاکنر کی جانب سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ امریکی محکمۂ دفاع یہ اب یہ رقم ’دیگر فوری ترجیحات‘ پر صرف کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔لیفٹیننٹ کرنل کونی فاکنر نے مزید کہا کہ امریکہ پاکستان پر ملک میں سرگرم’تمام دہشت گرد گروہوں بشمول حقانی نیٹ ورک اور لشکر طیبہ کے خلاف بلاامتیاز کارروائی‘ کے لیے دباؤ ڈالتا رہے گا۔پینٹاگون کی جانب سے اس تجویز کی امریکی کانگریس سے منظوری ضروری ہے۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close